انجیر بے شمار فوائد کا حامل پھل

406

ڈاکٹر خالد غزنوی
انجیر بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائے کوچک کا پھل ہے۔ اگرچہ اب یہ بھارت میں بھی پایا جاتا ہے مگر مسلمانوں کی ہند میں آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا۔ اس لیے یقین کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطبا یا ایشیائے کوچک سے آنے والے منگول اور مغل اسے یہاں لائے۔ 600 سال گزر جانے کے باوجود بھارت میں اس کی اتنی کاشت نہیں ہوتی کہ مقامی ضروریات کو پورا کرسکے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس کا پودا سب سے پہلے سمرنا میں ہوتا تھا اور وہاں سے مختلف ممالک میں لایا گیا۔ اس کی پیدائش کے مشہور مراکز ترکی، اطالیہ، اسپین، پرتگال، ایران، فلسطین، شام، لبنان اور پاکستان میں چترال اور ہنزہ کے علاقے ہیں۔ چترال کے درخت سال میں 2 مرتبہ پھل دیتے ہیں۔ ان کی انجیر بڑی اور سفید ہوتی ہے جبکہ دوسرے مقامات کا پھل نیلگوں ہوتا ہے۔
مفسرین کا خیال ہے کہ زمین پر انسان کی آمد کے بعد اس کی افادیت کے لیے سب سے پہلا درخت جو معرضِ وجود میں آیا وہ انجیر کا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام نے اپنی ستر پوشی کے لیے انجیر کے پتے استعمال کیے۔
پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہے۔ پکنے کے بعد پیڑ سے اپنے آپ گر جاتا ہے اور اسے اگلے دن تک محفوظ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ لوگوں نے اس کو فریج میں رکھ کر دیکھا مگر شام تک پھٹ کر ٹپکنے لگتا ہے۔ اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے۔ انجیر کو خشک کرنے کے عمل کے دوران اسے جراثیم سے پاک کرنے کے لیے گندھک کی دھونی دیتے ہیں اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تا کہ سوکھنے کے باوجود نرم اور ملائم رہے۔ کیوں کہ نمک بھی محفوظ کرنے والی ادویہ میں شامل ہے۔
انجیر کے درخت کی چھال، پتے اور دودھ ادویہ میں استعمال ہوتے ہیں۔ عام لوگ اس کی علاجی اہمیت سے اتنے آگاہ نہیں جتنا کہ وہ اسے بطور پھل اور وہ بھی موسم سرما میں جانتے ہیں۔ علم نباتات کی رو سے انجیر کا جس تخلیقی خاندان سے تعلق ہے اسی کنبہ سے بڑ، پیپل اور گوہلر بھی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک معالجاتی دنیا میں اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ اطبا قدیم کے ہاں انجیر کا استعمال عہد رسالتؐ کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ البتہ اطبائے یونان میں بقراط نے اس کا سرسری سا ذکر کیا ہے اور توریت میں فصل کے طور پر مذکور ہے۔
اس کی 2 اہم اقسام دستیاب ہیں۔ وہ جسے لوگ باقاعدہ کاشت کرتے ہیں بستانی کہلاتی ہے۔ دوسری خودروجنگلی کہلاتی ہے۔ جنگلی حجم میں چھوٹی اور ذائقہ میں اتنی لذیذ نہیں ہوتی جبکہ بستانی میں کاشت کاروں نے مختلف تجربات سے لذیذ قسمیں پیدا کرلی ہیں۔
قرآن مجید کا ارشاد:
انجیر کا ذکر قرآن مجید میں صرف ایک ہی جگہ ہے۔ مگر بھرپور ہے۔
’قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ اور طورِ سینا کی اور اس دارالامن شہر کی کہ انسان کو ایک بہترین ترتیب سے تخلیق کیا گیا‘ (التین:1تا 4)
حضرت براءؓ بن عازب روایت کرتے ہیں کہ سفر کے دوران کی نمازوں میں نبیؐ ایک رکعت میں سورۃ التین ضرور تلاوت فرماتے تھے۔
(مؤطا امام مالک)۔
امام مالکؒ کا خیال ہے کہ تلاوت میں اس کی پسندیدگی سورۃ کے صوتی اثرات کی وجہ سے تھی۔ جبکہ اس کے معانی کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مفسرین کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ سورۃ تاریخ کے مختلف ادوار کی نشان دہی کرتی ہے۔ انجیر سے مراد وہ وقت ہے جب انسان زمین پر آباد ہوا اور اسے تن ڈھانپنے کے لیے انجیر کے پتے استعمال کرنے پڑے۔ دوسرا اہم مرحلہ اس وقت آیا جب طوفان نوح میں پوری آبادی سوائے مومنین کے غرق ہوگئی۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی اُمت کو لے کر کشتی میں کئی دن سفر کرتے رہے۔ انہوں نے ایک روز فاختہ کو ہدایت کی کہ وہ پانی کے اوپر پرواز کرے سیلاب کی صورتِ حال کا جائزہ لے۔ فاختہ جب لوٹ کر آئی تو اس کی چونچ میں زیتون کی ڈالی تھی۔ اس سے نتیجہ نکالا گیا کہ پانی اتنا اُتر گیا ہے کہ پودے ننگے ہوگئے ہیں اور اسی روز سے ہی محاورہ میں فاختہ اور زیتون کی شاخ امن اور سلامتی کے نشان قرار پاگئے۔
حافظ اسماعیل ابن کثیرؒ نے تحقیق کی ہے کہ انجیر سے مراد دمشق اور اس کا پہاڑ ہے جبکہ انہی نے عبداللہؓ بن عباس کی ایک روایت بیان کی ہے کہ انجیر سے مراد حضرت نوح علیہ السلام کی وہ مسجد ہے جو جودی پہاڑ پر بنائی گئی۔ مجاہدؒ بھی اسی مسجد کو انجیر سے استعارہ قرار دیتے ہیں، جبکہ قتادہؓ زیتون سے مراد بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ لیتے ہیں۔ مجاہدؒ اور عکرمہؓ اس سے خالص زیتون کا پھل مراد لیتے ہیں۔ جبکہ طورِ سینین سے دیگر اشارات کے علاوہ کوہ طور پر وہ جھاڑیاں بھی مراد ہیں جن میں روشنی دیکھی گئی تھی۔ اور یہ جھاڑیاں سنامکی کی تھیں۔ انہی جھاڑیوں کی بہتات کی وجہ سے پہاڑ کا نام سنا کی جھاڑیوں والا یعنی سینا پڑ گیا۔
تفسیری اشارات کے علی الرغم اگر سیدھی بات دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے انجیر کو اتنی اہمیت عطا فرمائی کہ اس کی قسم کھائی۔ جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اس کے فوائد کا کوئی شمار نہیں۔
ارشاداتِ نبویؐ
حضرت ابوالدرواءؓ روایت فرماتے ہیں:
’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے انجیر سے بھرا ہوا تھال آیا۔ انہوں نے ہمیں فرمایا کہ ’کھائو‘! ہم نے اس میں سے کھایا اور پھر ارشاد فرمایا۔ ’اگر کوئی کہے کہ کوئی پھل جنت سے زمین پر آسکتا ہے تو میں کہوں گا کہ یہی وہ ہے۔ کیونکہ بلاشبہ جنت کا میوہ ہے۔ اس میں سے کھائو کہ یہ بواسیر کو ختم کردیتی ہے اور گنٹھیا (جوڑوں کے درد میں مفید ہے)۔ (ابوبکر الجوزی)
اسی حدیث کو امام محمد بن احمد ذہبیؒ نے بھی تقریباً انہی الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مگر حدیث کا ماخذ بیان نہیں کیا جبکہ کنزالعمال میں علائو الدین الہندیؒ نے یہی روایت معمولی ردوبدل کے ساتھ اس صورت میں حضرت ابوذرؓ سے بیان کی ہے۔(الدیلمی، ابن السنی، ابونعیم)
یہی حدیث حضرت ابوذرؓ کے حوالے سے کنزالعمال میں مسند فردوس دیلمی کے ذریعے سے دوسری جگہ بیان کرتے ہوئے ’تقطع البواسیر‘ کی جگہ ’یذہب بالبواسیر‘ کی تبدیلی کی ہے۔
اگر یہ روایت صرف ایک ہی کتاب میں ایک ہی ذریعے سے ملتی تو محدثین کرام کے اصول کے مطابق ثقاہت پر شبہ کیا جاسکتا تھا۔ مگر 2 مختلف راوی اور کم از کم 3 مجموعوں میں اسے بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں روایات کا یہ تواتر اس کا یقین دلانے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔
روایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انجیروں سے بھرا ہوا تھال حضوری میں موجود ہے۔ انجیر مدینہ منورہ میں نہیں ہوتی اور نہ ہی مکہ میں اس کی زراعت ہوتی ہے۔ شاید طائف میں ہوتی ہوگی۔ تھال ناگہاں ظاہر ہوتا ہے۔ پھر ارشاد گرامی اس کی اہمیت کے بارے میں صادر ہوتا ہے۔ اور اگر جنت سے کوئی پھل زمین پر آسکتا ہے تو یہی

ہے۔ پھر فرمایا کہ بلاشبہ یہ جنت کا پھل ہے۔
انجیر کو بطور پھل اللہ تعالیٰ نے اہمیت دی اور نبیؐ اسے جنت سے آیا ہوا میوہ قرار دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ بواسیر کو ختم کردیتی ہے۔ علمی لحاظ سے یہ ایک بڑا اعلان ہے جو عام طور پر علم طب میں فاضل اطبا بڑی مشکل سے کرتے ہیں۔ مگر جوڑوں کے درد میں اس کو صرف مفید قرار دیا اس لیے یہ امور انجیر سے فوائد حاصل کرنے کے سلسلے میں پوری توجہ اور اہمیت کے طلبگار ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ