ذاتی مفادات کے بجائے عوام کے مفادات ترجیح ہیں، امام الدین شوقین

193

میں نے ہمیشہ ذاتی مفاد کے بجائے عوامی مفاد میں فیصلے کیے ہیں۔ ضلع سانگھڑ کی نامور سیاسی و سماجی شخصیت امام الدین شوقین نے فنکشنل مسلم لیگ کو خیر باد کھ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت کے بعد اپنا پہلہ خصوصی انٹرویو نمائندہ جسارت کو دیتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ جو بھی سیاسی فیصلے کیے ہیں ان میں عوامی اور ملکی مفاد کو مد نظر رکھ کر کیے ہیں ویسے بھی سیاست میں اختلاف رائے کا ہونا ہی جمہوریت کا حسن کہلاتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست میں آج کے رفیق کل کے رقیب ہو سکتے ہیں

15-1

میں نے اپنی زندگی میں کبھی دبائو قبول نہیں کیا نہ ہی قبول کرونگا سیاست میں ہر شخص کو اپنے آزادانہ فیصلے کرنے کا حق ہے مجھے کبھی کسی عہدے کا لالچ نہیں رہا میں نے عوام کی خدمت ہمیشہ اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے اور ان شاء اللہ زندگی بھر جاری رہے گی روشن فیملی کی خدمات سے ہمارے حلقے کا بچہ بچہ واقف ہے میں عوام کی خدمت کے لیے تین دن اپنے حلقے میں موجود ہوتا ہوں منافقت کی سیاست سے مجھے نفرت ہے جو میرے دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر میری اوـلین ترجیحات میں شامل عوام کی خدمت ہے میں نے فنکشنل مسلم لیگ میں رہ کر بھی عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور نہ ہی حلقے کے عوام نے مجھے تنہا چھوڑا ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پیپلزپارٹی میں رہ کر عوام کی بہتر خدمت کر سکتا ہوں آخر میں انہوں نے کہا کہ اللہ کے ہاں وہی عزت والا ہے جو صاحب کردار ہو میرا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں دکھی انسانیت کی خدمت کر کے ہمیشہ مجھے راحت حاصل ہوتی ہے کیونکہ جو شخص خلق سے محبت نہیں کرتا وہ خالق کی محبت میں بھی جھوٹا ہے 2018 ءکے الیکشن میں سب کچھ عیاں ہو جائے گا کہ میرا فیصلہ درست تھا یا غلط کیونکہ آواز خلق نقارہ خدا ہوتی ہے میرا اپنے رفقا ء اور دیگر لوگوں کو مشورہ ہے کہ وہ بھی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں میں یہ بات اس لیے کہ رہا ہوں کہ آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو تم اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے بھائی کے لیے گالم گلوچ کی سیاست کا مجھ سے دور کا تعلق نہیں میری جانب سے محبت سب کے لیے نفرت کسی کے لیے نہیں کیونکہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ