عَبدالولی خان یونیورسٹی سانحہ: مشال کے ایک قاتل کو سزائے موت ۵کو عمر قید 26بَری

254
عَبدالولی خان یونیورسٹی سانحہ: مشال کے ایک قاتل کو سزائے موت ۵کو عمر قید 26بَری
عَبدالولی خان یونیورسٹی سانحہ: مشال کے ایک قاتل کو سزائے موت ۵کو عمر قید 26بَری

ہری پور(خبرایجنسیاں) ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مشال خان قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت ‘ 5کو عمر قیدسنادی ہے۔ دیگر 25ملزمان کو 4,4سال قید وجرمانہ جب کہ 26کو عدم ثبوت پربری کردیاگیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج فضل سبحان نے 27 جنوری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو انہوں نے بدھ کو ہری پور سینٹرل جیل میں سنا یا۔ عمرقید پانے والوں میں فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان جب کہ مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے علاوہ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں 25 دیگر ملزمان کو ہنگامہ آرائی، تشدد، مذہبی منافرت پھیلانے اور مجرمانہ اقدام کے لیے ہو نے والے اجتماع کا حصہ بننے پرمختصر قید 4,4برس اورجرمانے کی سزاسنائی۔ کیس میں نامزد 61 ملزمان میں سے 58 گرفتار ہیں جب کہ مرکزی ملزم تحصیل کونسلر عارف خان سمیت 3 تاحال مفرور ہیں۔ مفرور افراد میں طلبہ تنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیا شامل ہے جنہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ عدالت نے حال ہی میں گرفتار کیے گئے ایک ملزم پر تاحال فرد جرم عاید نہیں کی جس کا ٹرائل ہونا باقی ہے۔ فیصلے کے وقت ہری پور کی سینٹرل جیل میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے ،جیل کے اطراف پاک فوج کے اہلکار بھی تعینات رہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے26 ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے ۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مشال قتل کیس کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے۔لندن میں موجود مشال خان کے والد لالہ اقبال نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مشال قتل کے ماسٹرمائنڈ کونسلرعارف کو بھی گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ آیا ہے وہ کافی حد تک ان کے مؤقف کی تصدیق ہے، جن لوگوں کو بری کیا گیا ہے اس حوالے سے ہائی کورٹ سے رابطہ کریں گے اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ اس سے کافی حد تک مطمئن ہیں اور فیصلے کو سراہتے ہیں۔مقتول کے بھائی ایمل خان کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ تمام ملزمان کو سزا دی جائے، خیبرپختونخوا پولیس مفرور افراد کو گرفتار کرے۔فیصلے پر اطمینان سے متعلق سوال پر ایمل خان نے کہا کہ اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کوئی بیان دیں گے تاہم انہوں نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ صوابی یونیورسٹی کا نام مشال خان کے نام پر رکھنے کا اپنا وعدہ پورا کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ