ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا۔چیف جسٹس

446

اسلام آباد (خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہمیں کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا‘ پاکستان کے عوام عدالت عظمیٰ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے‘ ہم پریشان ہیں نہ ہی قوم ‘ جوہوا، جوہورہا ہے اورجوآئندہ ہوگا‘ سب اللہ کی نشانی ہے‘ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ جمہوریت ابھی جوان ہے‘ کوئی شخص ملک تباہ نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کو انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کے دوران دیے جو ان کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کا 3رکنی بینچ کررہا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت آئین کے تحت بنائی گئی ہے، عدالتیں ختم ہوجائیں تو پھر جنگل کاقانون ہوگا،ہم نہ تو جلسہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی لوگوں کو ہاتھ کھڑا کرنے کا کہہ سکتے ہیں،ہماری ذمے داری انصاف کرنا ہے جس سے معاشرہ قائم رہتا ہے، ریاست کے ستون کی بنیاد عدلیہ ہے۔ان کے بقول مجھے جسٹس اعجاز الاحسن نے برطانیہ کی عدالت کا ایک فیصلہ نکال کر دکھایا ہے جس کے مطابق اگر عدالتی فیصلے پر بلاجواز تنقید ہو تو ججز جواب دے سکتے ہیں۔سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے کا جواب دینا پڑتا ہے۔ کسی آئینی ادارے کو دھمکانا یا تنقید کرنا آئین کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر راجا ظفر الحق کے ساتھ مکالمہ کیا کہ راجا ظفر الحق صاحب! آج کل آپ کے ڈرانے والے لوگ نہیں آرہے ، انہیں تو لے کر آئیں کہ ذرا دیکھیں ہم ڈرتے ہیں یا نہیں،عدلیہ کی تضحیک اور تذلیل پر آرٹیکل 204 کے تحت سزا دے سکتے ہیں۔ توہین عدالت کیس میں مجرم کی سزا 6ماہ قید ہے۔ انہوں نے کہا کہ لطیف کھوسہ کے خلاف فیصلہ دیا لیکن ان کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔ لطیف کھوسہ فیصلے کو برا کہتے ہیں لیکن احترام کرتے ہیں۔ ججز کو اختیار آئین اور عدلیہ نے دیے ہیں۔ ہمیں عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا ہے۔ کون صحیح اور کون غلط ہے، اس کا فیصلہ لوگوں کو کرنا ہے۔لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے بھی اس قانون پر ہاتھ کھڑا کیا ہوگا؟ آپ کے مطابق آئین کی روح یہ ہے کہ ریاست پر ایمان دار شخص حکمرانی کرے، اگر ادارے کا سربراہ ایمان دار نہ ہو تو پورے ادارے پر اثر پڑتا ہے، کیا پارلیمنٹ کے ذریعے عدالتی فیصلے کا اثر ختم کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہم اس بنیاد پر قانون کو کالعدم قراردے سکتے ہیں؟بعد ازاں عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017ء کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ