آزاد کشمیر اسمبلی نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قراردے دیا ، مسجد طرز کی عبادت گاہ ، اذان اور تبلیغ پر پابندی

395
آزاد کشمیر اسمبلی نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قراردے دیا ، مسجد طرز کی عبادت گاہ ، اذان اور تبلیغ پر پابندی
آزاد کشمیر اسمبلی نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قراردے دیا ، مسجد طرز کی عبادت گاہ ، اذان اور تبلیغ پر پابندی

مظفرآباد (صباح نیوز+آن لائن)آزادجموں کشمیرقانون ساز اسمبلی اور کشمیرکونسل کے مشترکہ اجلاس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قراردے دیا گیا۔ا سپیکر شاہ غلام قادر کی زیرصدارت اجلاس میں آزادکشمیرکے وزیر قانون راجا نثاراحمد خان نے ختم نبوت کے حوالے سے بل منظوری کے لیے پیش کیا جس پرایوان نے متفقہ طورپر اس کی منظوری دے دی۔دی آزادجموں وکشمیر انٹرکانسٹیٹیوشن ایکٹ 2018ء کے نام سے موسوم اس بل میں قادیانیوں سمیت تمام غیر مسلم ادیان اور مذاہب سے آگاہ کرتے ہوئے مسلمان کی بھی تعریف کردی گئی ہے۔اس بل کی منظوری کے بعد قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے ۔ مسجدطرز پر عبادت گاہ تعمیر کرنے ،اذان دینے اور تبلیغ کرنے پر بھی پابندی عاید کر دی گئی جبکہ جملہ شعائر اسلام جن میں مسجد کے مینار،اپنی عبادت گاہ پر کلمہ اسلام لکھنے سمیت تمام رسومات اور عبادات سرعام کرنے پر قادیانیوں پر پابندی عایدہوگی۔ضلعی سطح پر انتظامیہ اور پولیس کو پابند بھی کیا جائے گا جبکہ اس بل کے ذریعے آزادکشمیر کی 70سالہ تاریخ میں پہلی بار عیسائی ،ہندو ، سکھ ، بدھ مت ،پارسی ، احمدی ، لاہوری ، مرزائی اوربہائی بھی قانون سازی میں غیر مسلم کی تعریف میں شامل کردیے گئے۔اس قانون کے تحت مندرجہ بالا تمام مذاہب اور فرقے غیر مسلم قراردیے گئے ہیں جسے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی نے من وعن ریاست کے لیے منظور کرلیا ہے۔بل کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر راجا محمدفاروق حیدرخان نے کہا کہ آج کا دن آزادکشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، مجھے امید ہے کہ اس بل کے حق میں ووٹ دینے والوں کو اس کے صلے میں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن عبدالرشید ترابی نے کہا کہ ہمارے نصاب میں سیرت محمدﷺکو بھی شامل کیا جانا وقت کا تقاضا ہے ،تعلیمی اداروں میں قرآن و سنت کی تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہیے ۔پیر سید علی رضا بخاری نے کہا کہ موجودہ قانون سازی کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے،مسلمان کو ناموس رسالت اپنی جان ،مال اور اولاد سے بڑ ھ کر عزیز ہے ،دفاع ختم نبوت کے لیے جس نے جب بھی قربانی پیش کی اللہ تعالیٰ نے اسے امر کردیا اور موجودہ ایوان کے ارکان بھی تاریخ کے اوراق میں امر ہوجائیں گے۔ وزیرتعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد رہی سہی ابہام کی صورتحال بھی ختم ہوجائے گی۔ بعدازاں ا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ