دہشت گردی، لاشوں کے انبار، اسلحہ پر بے دریغ اخراجات، فوج کو ذہنی مریض بنانے کے باوجود

119

ایک کشمیری بھی بھارت کا حامی نہیں
مسئلے کے حل کے لیے بھارت کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا
روایتی ہٹ دھرمی ترک کرنی ہوگی لیکن ہندو بنیے کے لیے یہ کام مشکل ہے

سائرہ فاروق

جو لوگ بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم ہوں، جنہیں اپنے ہی گھر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو جانے کے خوف سے ساری رات نیند نہ آتی ہو، ـ مسلسل ہڑتالوں اور کرفیو نے جن کی معیشت و روزگار کو برباد کر دیا ہو، جہاں تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند رہنے کی وجہ سے بچے تعلیم سے محروم ہونے لگیں، ـ جوانوں کو لاپتا کر کے بعدازاں مسخ شدہ لاشوں میں تبدیل کر کے پھینک دیا جاتا ہو اور احتجاج جہاں جرم کہلاتا ہو تو ایسے لوگوں کے لیے آزادی کی جدوجہد فکر و عمل میں بے پناہ قوت پیدا کرتی ہے۔ ـ ان میں آزادی کی قدر و قیمت کا احساس شدت سے پیدا ہوتا ہے اور ـ ان کے لیے آزادی مکمل معنوں کے ساتھ ان کے تہذیب و تمدن اور مذہب کی بقا کے لیے بھی ناگزیر بن جاتی ہے ـ۔
یہی وہ نظریاتی اساس ہے جس نے ہر کشمیری کے دل میں آزادی کی تڑپ پیدا کررکھی ہے کہ جس کے پیش نظر کشمیریوں کی جدوجہد مسلسل تقریباً 7 دہائیوں سے بھارت کی فرعونیت، چنگیزیت اور دہشت گردی کے سامنے سر اٹھائے پوری شان کے ساتھ کھڑی ہے ـ اور ایسے میں عددی طاقت اور لاؤ لشکر کے گھمنڈ میں چور ہندو ریاست کی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی خواہش درحقیقت ایک حماقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ـ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بھارتی سورماؤں کا بے پناہ ظلم و استبداد بھی کشمیری حریت پسندوں میں آزادی کا جذبہ سرد کرنے میں قطعی ناکام رہا ہے ـ ۔
آئے روز کشمیریوں کا قتل عام منظم طریقے سے کیا جارہا ہے۔ گھر گھر تلاشی، کریک ڈاؤن، گرفتاریوں کا سلسلہ CASO کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ان کالے قوانین کی بدولت فورسز کو بے پناہ اختیارات دے کر اتنا بے لگام کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کسی بھی درندگی کے لیے جواز دینے کے پابند نہیں رہے،نہ ہی انہیں احتساب کا ڈر ہے اور یوں کشت و خون کی ہولی کشمیر کے طول و عرض میں بہیمانہ طریقے سے کھیلی جا رہی ہے ـ۔

2-2
حالانکہ اس وقت ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے نمائندہ اور بھارتی وزیراعظم مودی کی متنازع اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے بھی اقوام عالم میں بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ـ جن کے مطابق یہ پالیسیاں غیر انسانی اور ظلم و جارحیت پر مبنی ہیں تاہم بھارت اپنی روایتی اور فطری ڈھٹائی کی وجہ سے کسی بھی فورم پر کشمیر کے حوالے سے کوئی بات کرنے اور سننے کو تیار نہیں۔ بین الاقوامی فورم پر بھارت یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، ـ نامساعد حالات شرپسندوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، ـ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو بھارتی سرکار دراصل دہشت گردی کا نام دیتی ہے مگر کشمیری سیاسی قیادت اور حریت پسند عوام نے اس پراپیگنڈے کا شدت سے انکار کیا اور اپنا واضح موقف بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھا ہے کہ وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ اپنی آزادی کے لیے کوشاں ہیں اور اس جدوجہد آزادی کا تعلق دہشت گردی سے نہیں ہے۔ آزادی ان کا پیدائشی حق ہے، جسے بھارت کو بالآخر ایک دن تسلیم کرنا ہوگا ـ۔
بھارت کے کالے قانون PSA, TADA, AFSP کا نفاذ دراصل دہشت گردی، انتہاپسندی، اور استعماریت ہے جس کے خلاف کشمیری اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں ـ۔ 8 جنوری 2016ء کو کشمیری جوان برہان وانی کی شہادت نے کشمیری تحریک کو دوبارہ سے لہو دیا اور کشمیری تحریک ایک نئے عزم سے شہری علاقوں سے دیہی علاقوں تک پھیلتی گئی ـ اس سے پہلے کی کشمیری تحریک صرف شہری علاقوں تک محدود تھی ـ ۔ جتنی شدت سے یہ تحریک اٹھی اتنی ہی شدت سے بھارتی مظالم بھی ابھرے،جس کی مثال پیلٹ گن ہے، جس کا استعمال عموماً جانوروں کے شکار کے لیے کیا جاتا ہے مگر بھارتی فورسز اس کا بے دریغ استعمال نہتے پرامن جلوس کے شرکا نہتے کشمیری بچوں، جوانوں، عورتوں کے چہروں اور آنکھوں پر براہ راست استعمال کرتے رہے ۔
ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ سے زائد پیلٹس استعمال ہوئی ہیں جن میں 7000 سے زائد کشمیری بری طرح زخمی اور بینائی سے محروم ہو گئے ہیں ـ۔
میر واعظ عمر فاروق نے ان سنگین حالات کے تناظر میں اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے 13 جنوری 2018ء کو عوام سے ہمہ جہت ہڑتال کی دردمندانہ اپیل کررکھی ہے تاکہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کروائی جا سکے ـ۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستان نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے واضح پیغام ہر فورم پر دیا بلکہ واشگاف الفاظ میں کشمیری حق خود ارادیت کی کھل کر تائید بھی کی ہے اور اس معاملے کےحل کے لیے مذاکرات پر زور دیا لیکن ہمیشہ کی طرح یا تو یہ مذاکرات ناکام ہوئے یا پھر ملتوی۔
پاکستان کو اس مسئلے کے حوالے سے بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے کر مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی آواز موثر انداز سے عالمی فورم پر توجہ حاصل کر سکے ـ۔ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی عمل میں لایا جائے ـ کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب سوشل میڈیا انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس موثر ابلاغ کے ذریعے کشمیری آواز کو مناسب حکمت عملی کے تحت ہر جگہ پہنچایا جا سکتا ہے ـ اور مظلوم نہتے کشمیریوں پر ہونے والے ریاستی جبر کو پوری دنیا کو دکھا کر رائے عامہ ہموار کی جا سکتی ہے تاکہ وہ بھارت کے مکروہ عزائم سے آگاہ ہو سکیں ـ اور حقیقت جان سکیں کہ بھارت ہمیشہ سے اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول ہی جھونکتا آیا ہے۔
بھارت گزشتہ 70 برس سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیے ہوئے ہے جس کے منفی اثرات خود بھارتی فوج پر بھی بہت تیزی سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ـ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج شدید ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتی ہیں جس کی وجہ سے ان جوانوں میں خودکشی کا اقدام اور اپنے ہی افسران کے قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کیا اب وقت نہیں آگیا کہ بھارت اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ اس 70 سالہ تسلط نے اسے کیا دیا؟ آدھی سے زیادہ اس کی فوج، اس کی خوراک، رہائش، اسلحہ اور ایک بڑا بجٹ کشمیر کو قابو میں کرنے کا جنون اسے کس دوراہے پر لے آیا ہے؟ اتنے برس کی جارحیت، دہشت گردی، لاشوں کے انبار لگانے، اسلحہ، بارود پر بے دریغ اخراجات کے نتیجے میں کیا ایک بھی کشمیری آج بھارت کی حمایت میں کھڑا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب خود بھارت کو دینا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کا حل بالکل ممکن ہے تاہم اس کے لیے بھارت کو اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک کرنی ہوگی جو ہندو بنیے کے لیے بہت مشکل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ