مقبوضہ کشمیر بہت جلد پاکستان کا حصہ ہوگا‘ ڈاکٹر علی الغامدی

309

مجلس محصورین پاکستان کے تحت یوم یکجہتی کشمیر پرسمپوزیم سے سعودی دانشور اور سابق سفارتکار کا خطاب

جدہ: مجلس محصورین پاکستان (پی آر سی ) کے تحت یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ’مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کی ذمے داری‘ کے عنوان سے ایک سمپوزیم منعقد ہوا جس کی صدارت معروف سعودی دانشور اور سابق سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی نے کی۔ مہمان خصوصی پاکستان جموں و کشمیر کمیونٹی کے جنرل سیکرٹری چودھری خورشید احمد متیال تھے۔ ڈاکٹر علی الغامدی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کی برصغیر کی تقسیم دو قومی نظریے پر ہوئی تھی جس کے تحت پورے کشمیر کوپاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ وہاں 90 فیصد مسلمان تھے لیکن ہندو برطانوی سازش کے تحت ہندو مہاراجہ کی نام نہاد درخواست پر ہندوستانی فوج نے 5فروری 1948ء کو اس پر قبضہ کرلیا اور پاکستان کے بروقت احتجاج پر مجبور ہوکر وزیر اعظم نہرو نے سلامتی کونسل کی قرارداد پر وعدہ کیا کہ حالات بہتر ہوتے ہی وہاں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کرائے جائے گی لیکن 70سال کے بعد بھی اس پر عمل نہ ہوسکا۔ جو دراصل اقوام متحدہ کی ناکامی ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ذریعے اقوام متحدہ میںپُرزور طریقے سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جائے

zc_musarat-khalil

تاکہ بھارت کشمیر میں رائے شماری پر مجبور ہوجائے۔ انہوں نے کہا مسئلہ محصورین کے حل کے لیے بھی حکومت پاکستان کو بھرپور اقدامات کرنے ہوں گےاور ان کو باعزت طریقے سے لا کر پاکستان میں آباد کرنا حکومت کی ذمے داری ہےکیونکہ 1971ء کی جنگ میں انہوں نے یکجہتی پاکستان کے لیے افواج پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا اور سقوط ڈھاکا کے بعد 46سال سے بنگلا دیش کا ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ ان کی پاکستان منتقلی وآباد کاری حکومت کا بنیادی فرض ہے۔ مہمان خصوصی چودھری خورشید احمد متیال نے سمپوزیم کے انعقاد پر پی آرسی کا شکریہ ادا کیاکہ وہ کشمیر اور محصورین جیسے اہم موضوعات پر مسلسل کام کرتے ہیں اور اس میں پہل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی ترتیب میں تمام تنظیمیں یکجہتی کا اظہار کریں تواس کا اثر زیادہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں پر بھارتی فوج جو مظالم کررہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔لیکن ہمیں یقین کے کہ پاکستان کی حمایت سے جلد کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا اور پھر پاکستان ایشیا کا ٹائیگر بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں نوجوانوں کو بھی آگے آنا چاہیے۔ اس سے تحریک میں مزید طاقت آئے گی۔ انہوں نے درخواست کی کہ حرمین جائیں تو پاکستان کے ساتھ بھارتی چنگل سے کشمیر کی آزادی کے لیے بھی دعا کیاکریں۔ پاکستان رائٹرزفورم کے صدر انجینئر سید نیاز احمد نے کہا کہ امت مسلمہ ایک جسدکی مانند ہے۔جس میں کہیں تکلیف ہو تو پورے جسم میں درد ہوتا ہے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر، فلسطین، برما وغیرہ بھی امت کے زخم کی طرح ہیں اور انہیں جلد حل کرنے میں بھی امت سکھ پاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کو کشمیر کے لیے زیادہ دور رس اور سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ محصورین کے حل کے لیے حکومت پاکستان کا اشارہ ہی کافی ہے۔ اور یہ ملک کے لیے بہتر ہے کہ محب وطن پاکستانیوں کو بنگلا دیش سے لاکر پاکستان میں جلد آباد کیا جائے۔نوجوان دانشور فیصل طاہر خان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بہتر لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کشمیر پر بھارتی فوج کا قبضہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سازش کا حصہ تھا۔ جس پر قائد اعظم نے احتجاج کیا تھا تو نہرو نے 1948ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراداد میں وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی کشمیر میں استصواب رائے کی جائے گی لیکن اقوام متحدہ کے دوہرے معیا ر کی وجہ سے یہ بھارتی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ حکومت کو چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کو زیادہ قوت سے دنیا کے سامنے اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ محصورین پر بھی حکومت اقدامات کرے تاکہ وہ جلد پاکستان آکر آباد ہوسکیں۔ پاکستان سرزمین پارٹی (پی ایس پی) مڈل ایسٹ کے ڈپٹی کنوینیئر ڈاکٹر محمد نعیم قائم خانی نے پی آر سی کو اس مسئلے پر آواز اٹھانے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف امتِ مسلمہ کا نہیں بلکہ پوری دنیاکاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کاظلم وستم زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا اور بالآکر ظلم کا خاتمہ ہوکر ہی رہے گا۔ کشمیری آزادی کا سانس جلد لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پہلی حکومت میں محصورین کو پنجاب میں آباد کیا گیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے یہ کارروائی روک دی گئی۔پاک میڈیا گروپ کے صدر چودھری رضوان نے پی آر سی کو مسئلہ کشمیر کے موضوع پر سمپوزیم کے انعقاد پر دلی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ بلجیم کے دورے پر میں نے دیکھا کہ یورپ کے مسلمان مسئلہ کشمیر کے لیے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ساتھ ہیں اور وہ بڑے بڑے پوسٹرز کے ذریعے کشمیریوں کاساتھ دیتے ہیں۔ شمس الدین الطاف نے عربی میں تقریر کی اور مسائل کشمیر و محصورین کے حل کا مطالبہ کیا۔ تقریب سے محمد امانت اللہ ، شیخ محمد لقمان، آغا محمد اکرم نے بھی خطاب میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کی شہ رگ قراردیااور کہا کہ الحاق کشمیر کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے چاہییں۔ پی آر سی کے کنوینیئر سید احسان الحق نے ڈاکٹر علی الغامدی ،تمام مقررین ،شعرا صحافیوں اور سامعین کا سمپوزیم کو کامیاب بنانے پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مندرجہ ذیل قرارداد منظور ہوئی۔

1۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداوں کے مطابق کشمیر میں جلد از جلد رائے شماری کرائی جائے اور فوری طور پر بھارت اپنی افواج کشمیر سے واپس بلائے اور رائے شماری کشمیری قیادت کے تحت ہو۔
2۔حکومت پاکستان محصورین کا پاسپورٹ جاری کرے اور ان کی وطن واپسی کے اقدامات کرے اور رابطہ ٹرسٹ کے منصوبے کے تحت پنجاب میں آباد کیا جائے۔
تقریب کی نظامت سید مسرت خلیل نے کی۔ انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنا مقالہ بھی پیش کیا۔ تلاوت شمس الدین الطاف اور ہدیہ نعت ِ رسول مقبولﷺ مشہور نعت خواں احمد رضا ہاشمی نے پیش کی۔ معروف شاعر زمرد خان سیفی اور آغا اکرم نے کشمیری شہدا اور محصورین کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ