وزیراعلیٰ نوٹس لیں

276

سنا ہے کہ حکومت پنجاب نے صوبے بھر کے تمام شادی ہالوں کو پابند کیا ہوا ہے کہ تمام تر تقریبات لازماً رات دس بجے تک سمیٹ دی جائیں۔ ہوائی فائرنگ اور آتش بازی پر قطعی پابندی ہے اور کوئی ان احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پرچہ بھی کٹتا ہے، گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں اور بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس قانون پر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے اور پنجاب کے اکثر لوگ اس قانون سے خوش بھی ہیں۔ یہی قانون سندھ میں بھی نافذ العمل ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ سندھ میں تقریب کو رات بارہ بجے تک استثنا حاصل ہے۔ میری رہائش کراچی کے سب سے زیادہ ’’تعلیم یافتہ‘‘ علاقے لیاری سے ہے یہاں کھڈہ مارکیٹ، عیدگاہ مسجد والا روڈ پر ایک عبداللہ ہارون لان واقع ہے، جو یہاں کی رہائشی آبادی کے عین وسط میں واقع ہے اس ہال میں رات گئے تک تقریبات چلتی رہتی ہیں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن رات گئے تک فل والیوم میں میوزک چلتا ہے، آتش بازی کے دھماکے گونجتے ہیں اور سرعام فائرنگ کی جاتی ہے جس سے اردگرد کی آبادی سکون سے سو نہیں پاتی ہے اور بعض دفعہ یہ رت جگا صبح کے چار بجے تک جاری رہتا ہے۔ اہل محلہ نے بارہا لان کی انتظامیہ کو تنبیہ کی لیکن انتظامیہ کے جوں تک نہیں رینگی۔ اس ہال سے چند قدم پر بغدادی تھانہ واقع ہے اسے بھی اپروچ کیا گیا لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔ عبداللہ ہارون لان کی انتظامیہ کو قانون کی لگام ڈالی جائے اور بغدادی تھانے کو غیر قانونی حرکات سے چشم پوشی پر سرزنش کی جائے۔
بیگم زاہدہ جاوید، کھڈہ مارکیٹ لیاری، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ