پی آئی اے کی نج کاری ہی کیوں؟

297

ہم متعدد بار دیکھ چکے ہیں کہ پی آئی اے میں سفید ہاتھی پالے ہوئے ہیں جنہیں اچھی خاصی تنخواہ اور پُرکشش مراعات سے نوازا جارہا ہے، اس سے ائر لائن کے ریگولر سینئر افسران میں احساس محرومی جنم لے رہا ہے، جس کی وجہ سے ادارہ معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ اگر ائر لائن کو ماضی کی پُروقار ائر لائن بنانا ہے تو سینئر افسران کو اعتماد میں لینا ہوگا، انہیں ادارے کی بحالی کی ذمے داری سونپی جائے۔ وہ ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہیں، ہر شعبے کی کمزوریوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، اُن کا حوصلہ بڑھائیے وہ بہت کم وقت میں ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اُن کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اس سے بددلی پیدا ہوئی جو ادارے کی بربادی کا سبب بنی۔ ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا یہی ایجنڈا ہو کہ مالی بحران پیدا کرکے نج کاری کردی جائے اور اپنے پسندیدہ لوگوں کو فروخت کردی جائے۔ جب تباہ حال ریلوے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے تو یہ کیوں نہیں؟۔ وہاں تو ناتجربہ کار لوگوں کو لاکھوں کی تنخواہ اور پرکشش مراعات کے ساتھ نہیں لگایا گیا، ریلوے کے اپنے ملازمین نے ہی شب و روز کی محنت سے اُسے مالی بدحالی سے نکالا ہے جو ملازمین کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ خدارا ریاستی اداروں پر رحم کھائیں اور نیک نیتی سے اُنہیں سنبھلنے کا موقع دیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کا خیال دماغ سے نکال دیں اسی میں سب کی بھلائی ہے۔
حبیب الرحمن، گلستان جوہر

Print Friendly, PDF & Email
حصہ