رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

506

حشمت اللہ صدیقی

5فروری کا دن اپنے کشمیری بھائیوں و حریت پسندوں کی جدوجہدِ آزادی سے یکجہتی و تجدید عہد کا دن ہے جو پوری پاکستانی قوم ہر سال انتہائی جوش و جذبہ کے ساتھ مناتی ہے آج ملک بھر میں اس جذبہ کے اظہار کے لیے جلسوں، جلوسوں، ریلیوں کے ذریعے کشمیریوں کی اپنے حقِ آزادی کے حصول کے لیے دی گئی ان کی لازوال قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے اور پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرکے ان کے حق خوداریت کے موقف کی بھرپور تائید و حمایت کی جارہی ہے اور اس کے لیے دنیا بھر کے انصاف کے اداروں و عالمی ضمیر کو کشمیریوں کے حق میں بیدار کرنے کے لیے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ مسئلہ کشمیر آج بھی عالمی ضمیر و انصاف پسند اداروں کے لیے چیلنج ہے۔ عالمی کردار کی بے حسی کے باعث کشمیر میں بھارتی غاصب افواج نے مظالم کی انتہا کردی ہے جو ناقابل حد تک بڑھتے جارہے ہیں۔ بھارت آج بھی ظلم وتشدد و درندگی کے ذریعے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو دبانے کی ناکام کوشش کررہا ہے لیکن ہر آنے والے دن کشمیریوں کی تحریک آزادی قوت پکڑتی جارہی ہے۔ ان کا جوش شہادت بڑھتا جارہا ہے خون شہدا سے کشمیر لہو لہو ہے ہمیں فخر ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی اس حق و انصاف پر مبنی تحریک آزادی میں پاکستانی نوجوانوں کا لہو بھی شامل ہے۔ بھارت اپنے ہتھکنڈوں و ظلم طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک کو دبا نہیں سکتا۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف عالمی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے جس کی اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی تائید کرتی ہیں۔
کشمیر کو بانی پاکستان نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لہٰذا آ ج بھی پاکستان کشمیر کے بغیر خود کو نامکمل سمجھتا ہے اس کی تکمیل کشمیر کی آزادی سے مشروط ہے اس کے حصول کے لیے پاکستان ہر سطح پر اپنے موقف پر قائم ہے اور حق خودارادیت پر مبنی اس موقف کی حمایت و تائید کے لیے مسئلہ کشمیر کو ملکی و غیرملکی میڈیا کے ذریعے اجاگر کرتا ہے اور اس کے لیے خصوصی کشمیر کمیٹی بھی قائم ہے جو اس مسئلہ پر عالمی سطح پر اپنے پروگراموں کے ذریعے راہ ہموار کرتی ہے۔ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالی کا وہ المیہ ہے جو آج بھی حقوق انسانی کا واویلا کرنے والوں کے لیے لمحہ فکر ہے یہ محض دو ملکوں کے سرحدی تنازع کا مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں کشمیری مسلمانوں کی زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ جو ہندو ذہنیت و انگریزوں کے سازشی منصوبے کی المناک داستان ہے جس کا آغاز تقسیم ہند کے موقع پر کانگریس و انگریز گٹھ جوڑ سے ہوا جس میں مرکزی کردار باؤنڈری کمیشن کے سربراہ لارڈ کلف نے ادا کیا۔ سازش کا آغاز مسلم اکثریت کے علاقوں گورداس پور، پٹیالہ، پٹھان کوٹ کو بھارت میں شامل کرنے سے ہوا جس نے کشمیر یوں کی جدوجہد کو کچلنے اور کشمیر پر بھارتی فوج کے قبضہ کی راہ ہموار کردی۔ جب کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے تعصب سے مبرا انصاف پر مبنی یہ فیصلہ دیا کہ ریاستوں کو ہندوستا ن و پاکستان میں شامل ہونے یا آزاد رہنے کا پورا حق ہونا چاہیے اور مہاراجا کشمیر رعایا کے مفاد کا صحیح اندازہ کریں گے، (بحوالہ ظہور پاکستان از چودھری محمد علی) لیکن بھارت نے پہلے سے طے شدہ خفیہ سازش کے تحت اس تجویز کو رد کردیا اورکشمیر میں فوجیں اتار دیں اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا عالمی رد عمل پر بھارت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو نے اگرچہ استصواب رائے کا وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بھی ایک چال ثابت ہوا اور سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے باجود آج تک بھارت نے عالمی دنیا و اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یقین دہانی کے باجود کشمیریوں کو یہ حق نہیں دیا جو آج بھی سلامتی کونسل میں موجود عمل درآمد کی منتظر ہے اور اس مسئلہ پر اقوام متحدہ نے بھی اب چپ سادھ لی ہے لیکن کشمیری عالمی ضمیر و انصاف کے اداروں کو مختلف پلیٹ فارم سے یاد دہانی کراتے ہیں 5فروری کے دن کا پیغام بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ عالمی انسانی حقوق و دیگر امن و انصاف پسند قوتیں بھارت کو کشمیریوں کے حق خوداریت کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کریں۔ دنیا بھر میں کشمیریوں کا حق پر مبنی اس موقت کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن بھارت آج بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور ایک قدم اور بڑھ کر بڑی ڈھٹائی سے کشمیرکو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے اور کشمیروں کی جائز جدوجہد کو 8لاکھ فوج کے ذریعے کچلنے کی ناکام کوشش کررہا ہے ظلم کی سیاہ رات آج بھی کشمیر جنت نظیر پر طاری ہے لیکن وہ وقت دور نہیں جب خونِ شہدأ رنگ لائے گی۔ کشمیر ایک دن آزاد ہوگا اور وہ دن تکمیل پاکستان کا دن ہوگا ان شاء اللہ قربانیوں و شہادتوں کا یہ سفر رکا نہیں تھما نہیں یہ جاری ہے، جاری رہے گا، جب تک آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔
ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جب تک ظلم کی یہ سیاہ رات چلے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ