فلک ناز سٹی کے الاٹیز کے مسائل پر توجہ دی جائے

264

فلک کارپوریٹ سٹی جس کا نیا نام فلک سٹی ٹاور رکھا گیا ہے، پہلے یہ مکمل کمرشل کثیر المنزلہ منصونہ تھا لیکن اب نقشے میں ردوبدل اورایس بی سی اے کی ملی بھگت سے تجارتی و رہائشی منصوبے میں تبدیل کردیا گیا ہے، میری گراؤنڈ فلور پر ایک دکان ہے اور بلڈر نے گراؤنڈ فلور پر مارکیٹ کے الاٹیز کے ناک میں دم کیا ہوا ہے، یہاں سب سے بڑا مسئلہ پارکنگ کا ہے، بلڈرز نے نقشے کے مطابق گراؤنڈ فلور کے الاٹیز کے لیے میزنائن پر پارکنگ اور واش رومز دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن بلڈر نے پوری میز نائن پر دکانیں بنا کر اُنہیں فروخت کردیا اور یہ سب کچھ سندھ حکومت کے سب سے زیادہ لاڈلے اور چہیتے ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت سے کیا گیا ہے اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ عدلیہ کے واضح فیصلے کے باوجود پورے کراچی میں جس طرح دن دیہاڑے اور دھڑلے سے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر جاری ہے یہ اس کی ادنیٰ سی مثال ہے، فلک سٹی ٹاور میں پارکنگ کی جگہ ہڑپ کرنے کے بعد بلڈرز زبردستی الاٹیز کو پانچویں فلور پر گاڑیاں اور موٹر سائیکل پارک کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ جو صریح زیادتی بھی ہے دوسرا ظلم یہ ہے کہ بلڈر نے اتنی بڑی مارکیٹ بنائی ہے۔ لیکن مارکیٹ میں مال کے لوڈ، اَن لوڈ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ غیر قانونی پارکنگ والے مارکیٹ کے عین مقابل تھانے کی بدمعاشی کے زور پر مارکیٹ والوں کو گاڑیاں پارک نہیں کرنے دیتے۔ مارکیٹ میں مال لانے اور لے جانے والوں کو پارکنگ فراہم نہیں کرتے اور اگر کوئی زبردستی کرلے تو اسے گالیاں دیتے ہیں، ہاتھا پائی کرتے ہیں اور میٹھادر ٹریفک سیکشن سے لفٹر منگوا کر اس کی گاڑی کو اٹھوا دیتے ہیں۔ ایس بی سی اے کے چیئرمین سے اپیل ہے کہ خدا کے واسطے فلک سٹی ٹاور کے معاملات کا ازسر نو جائزہ لے کر الاٹیز کے حقوق واگزار کروائیں ۔
عبدالوحید، فلک سٹی ٹاور، تالپور روڈ کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ