عورت سے عورت پن چھین لیا گیا

375

ہم جب اپنے الیکٹرونک میڈیا پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں بخوبی یہ احساس ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کی اصلاح کے بجائے بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔ کچھ عرصے پہلے پاکستانی ڈراموں کی دھوم تھی، یہ ایسے ڈرامے تھے کہ خاندان کے افراد اکٹھے بیٹھ کر انہیں دیکھ سکتے تھے۔ پہلے تو صرف ایک چینل ہوا کرتا تھا مگر اب لاتعداد نجی چینل کھل گئے ہیں، ایک آدھ کو چھوڑ کر تقریباً تمام چینل بے حیائی اور فحاشی کے معاملے میں ایک دوسرے سے مسابقت پر آمادہ ہیں۔ ڈراموں کا معیار بہت گر گیا ہے۔ ذو معنی مکالمے اور بے ہودہ مناظر عام ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے ایسے موضوعات پر ڈرامے پیش کیے جارہے ہیں جنہوں نے بے حیائی اور فحاشی کی ساری حدیں پھلانگ دی ہیں۔
دوسری طرف بے ہودہ اور اخلاق باختہ اشتہارات نے عورت سے اس کا عورت پن چھین لیا ہے۔ چند سکوں کی خاطر عورت کی عزت نیلام کی جارہی ہے، ہمارے میڈیا نے عورت کو صرف جنس کی علامت بنا کر پیش کیا ہے، عورت کی اس تذلیل پر کیا کسی کی غیرت نہیں جاگتی؟ وہ لوگ جو عورت کو تجارت کا مال سمجھتے ہیں وہ روز آخرت اللہ تعالیٰ کو اس کا کیا جواب دیں گے۔ ہمیں میڈیا کے اس رویے پر اپنی آواز اُٹھانا چاہیے ورنہ ہماری نئی نسل کو تباہی کے راستے پر جانے سے کوئی بچا نہیں سکتا۔
شہلا عبدالجبار، گلستان جوہر

Print Friendly, PDF & Email
حصہ