افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

449

عورت کا اصل مقام
گھر سے باہر کے سب کاموں کا بوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔ اس کو بیرونِ خانہ کے فرائض سے اسی لیے سبکدوش کیا گیا ہے کہ وہ اندرونِ خانہ کے فرائض انجام دے اور اس کے باہر نکلنے سے گھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم نہ نکالیں۔ ضرور ت پیش آنے پر ان کو جانے کی اجازت ہے۔ مگر شریعت کا منشا یہ ہے کہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تر گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔ (دینیات)
٭…٭…٭

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

انسانی زندگی میں بگاڑ
انسانی زندگی میں بگاڑ جن چیزوں سے پیدا ہوتا ہے ان کو ہم چار بڑے بڑے عنوانات کے تحت جمع کر سکتے ہیں:
1۔ خدا سے بے خوفی، جو دنیا میں بے انصافی، بے رحمی، خیانت اور ساری اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے۔
2۔ خدا کی ہدایت سے بے نیازی، جس نے انسان کے لیے کسی معاملے میں بھی ایسے مستقل اخلاقی اصول باقی نہیں رہنے دیے ہیں جن کی پابندی کی جائے اسی چیز کی بدولت اشخاص اور گروہوں اور قوموں کا سارا طرزِ عمل مفاد پرستی اور خواہشات کی غلامی پر قائم ہوگیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ نہ اپنے مقاصد میں جائز و ناجائز کی تمیز کرتے ہیں اور نہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کے بُرے سے بُرے ذرائع اختیار کرنے میں انہیں ذرا سا تأمّل ہوتا ہے۔
3۔ خودغرضی، جو صرف افراد ہی کو ایک دوسرے کی حق تلفی پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ بڑے پیمانے پر نسل پرستی، قوم پرستی اور طبقاتی امتیازات کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس سے فساد کی بے شمار صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔
4۔ جمود، یا بے راہ روی، جس کی وجہ سے انسان یا تو خدا کی دی ہوئی قوتوں کو استعمال ہی نہیں کرتا یاغلط استعمال کرتا ہے۔ یا تو خدا کے بخشے ہوئے ذرائع سے کام نہیں لیتا، یا غلط کام لیتا ہے۔ پہلی صورت میں اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ کاہل اور نکمے لوگوں کو زیادہ دیر تک اپنی زمین پر قابض نہیں رہنے دیتا بلکہ ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آتا ہے جو کچھ نہ کچھ بنانے والے ہوں۔ دوسری صورت میں جب غلط کار قوموں کی تخریب، ان کی تعمیر سے بڑھ جاتی ہے تو وہ ہٹا کر پھینک دی جاتی ہیں اور بسا اوقات خود اپنی ہی تخریبی کارروائیوں کا لقمہ بنا دی جاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ چیزیں بھی، جن کی بدولت انسانی زندگی بنتی اور سنورتی ہے۔ (بناؤ بگاڑ)
٭…٭…٭
انسانی فکر
انسانی فکر کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی غلطی، اور محدودیت کا اثر لازماً پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خدائی فکر میں غیرمحدود علم اور صحیح علم کی شان بالکل نمایاں ہوتی ہے۔ جو چیز خدا کی طرف سے ہوگی اس میں آپ ایسی کوئی چیز نہیں پا سکتے جو کبھی کسی زمانے میں کسی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہو، یا جس کے متعلق یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کے مصنف کی نظر سے حقیقت کا فلاں پہلو اوجھل رہ گیا۔ مگر اس معیارِ تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے یہ بات نہ بھول جائیے کہ علم، اور علمی قیاس، اور نظریۂ علمی میں بڑا فرق ہے۔ ایک وقت میں جو علمی قیاسات اور علمی نظریات دماغوں پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں، اکثر غلطی سے ان کو ’’علم‘‘ سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کے غلط ہونے کا بھی اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا ان کے صحیح ہونے کا۔ تاریخ علم میں ایسے بہت کم قیاسات ونظریات کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جو بالآخر ’’علم‘‘ ثابت ہوئے ہیں۔ (دین حق)
٭…٭…٭
ظاہر و باطن
میں تو اس کا قائل ہوں کہ بندۂ مومن کو ہر اُس حکم کی تعمیل کرنی چاہیے جو خدا اور رسولؐ نے دیا ہو اور یہ بھی مانتا ہوں کہ دین انسان کے باطن اور ظاہر دونوں کو درست کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جو چیز میں آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مقدم چیز باطن ہے، نہ کہ ظاہر۔ پہلے باطن میں حقیقت کا جوہر پیدا کرنے کی فکر کیجیے، پھر ظاہر کو حقیقت کے مطابق ڈھالیے۔ آپ کو سب سے بڑھ کر اور سب سے پہلے اُن اوصاف کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو اللہ کے ہاں اصلی قدر کے مستحق ہیں اور جنہیں نشوونما دینا انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصلی مقصود تھا۔ ظاہر کی آراستگی اول تو ان اوصاف کے نتیجے میں فطرۃً خود ہی ہوتی چلی جائے گی اور اگر ان میں کچھ کسر رہ جائے تو تکمیلی مراحل میں اس کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔ (تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ