خطبۂ جمعہ کی مقدار

307

محمد مجتبیٰ قاسمی

نمازِ جمعہ پنج گانہ نمازوں سے الگ طریقے پر ادا کی جاتی ہے، اس میں دو خطبے ہوتے ہیں جس میں خطیب اپنی ذات اور لوگوں کو خشیثِ الٰہی کی تلقین کرتا ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض انجام دیتا ہے۔خطبہ موعظت ونصیحت کو کہتے ہیں، جس میں حمد وثنا، ترغیب و ترہیب ہوتی ہے، یہ خطبہ ایسی پاک بات اور مؤثر ذریعہ ہے کہ اس سے بڑے بڑے کام آسانی سے حل ہوجاتے ہیں، اسے دنیاوی معاملہ میں بھی اہمیت حاصل ہے اور دینی امور میں بھی قدر ومنزلت رکھتا ہے، یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے بڑا معرکہ سر ہوجاتا ہے، جتنے انبیا تشریف لائے سب نے احکامِ خدا کو خطابت کی مدد سے لوگوں تک پہنچایا۔
نماز سے قبل خطبے کا پس منظر
نماز جمعہ کا خطبہ عیدین کے خطبے کی طرح تھا جو نماز دوگانہ ادا کرلینے کے بعد دیا جاتا تھا، ایک دن نماز کے بعد آپؐ حسب معمول خطبہ فرما رہے تھے کہ اچانک ایک قافلہ آگیا اور اس نے اپنے آمد کی اطلاع نقارہ بجاکر دی جسے اکثر صحابہ کرام سن کر اجتہادی سہو کی وجہ سے آپ کو اسی حالت میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سخت ڈانٹ پلائی اور اس سے بچنے کی دائمی شکل نماز سے پہلے خطبہ شروع کرکے عطا کیا۔ (ماخوذ از کشاف وغیرہ)
خطبہ کی مقدار حدیث کی روشنی میں
حدیث قولی: نبی کریمؐ کا ارشاد ابووائل، عمارؓ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ عمارؓ نے ہمارے سامنے خطبہ دیا جو مختصر اور جامع تھا، لہٰذا جب وہ اترے تو ہم نے عرض کی آپ نے مختصر لیکن جامع خطبہ دیا۔ (کاش ہمیشہ آپ زندہ رہتے) تو انھوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی پاکؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ آدمی کی عقلمندی کی علامت یہ ہے کہ اس کی نماز سے اس کا خطبہ مختصر ہو، لہٰذا نماز لمبی اور خطبہ مختصر کرو اور تقریر تو جادو ہے۔(مسلم) اس حدیث پاک سے اشارے اور حکم دونوں ملتے ہیں کہ لوگوں کو خطبہ مختصر دینا چاہیے اور ابوداؤد شریف میں عمارؓ سے ہی مروی ہے کہ ہمیں آقاؐ نے خطبوں کے مختصر کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث فعلی: جابر بن سمرہؓ نے روایت کی ہے کہ رسولؐ کھڑے ہوکر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے تھے، پھر کھڑے ہوتے اور چند آیتیں پڑھتے اور اللہ عزوجل کا ذکر کرتے اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز مختصر ہوتی۔ (نسائی)ابوداؤد کے مراسیل میں ہے جس کو امام زہری سے روایت کیا ہے کہ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد نبی پاکؐ نے سب سے پہلے یہی خطبہ دیا۔ آپؐ ہجرت کرکے ابھی ابھی تشریف لائے ہیں تقاضہ تو یہ تھا کہ خوب لمبا چوڑا خطبہ دیتے لیکن خطبہ نہایت مختصر مگر جامع دیا اور دین ودنیا کی بھلائی کی بات اور مغفرت کی دعا کی ابوداودؒ نے جابر بن سمرہ سوائیؓ کی روایت کردہ حدیث پاک نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ (۰۲) رسول اللہؐ جمعے کے دن بہت لمبا خطبہ نہیں دیتے تھے بلکہ وہ چند کلمات ہوتے۔
صحابہ کرامؓ کا طرز عمل
خطبے کا مختصر ہونا جس طرح قول رسول فعل نبی اور تعلیم نبوی سے ثابت ہے، اسی طرح اجماعِ صحابہ کرامؓ بھی اس کے لیے مضبوط مستدل ہے، اس اجماع نے ایک اہم اشکال کو رفع کیا ہے کہ آپؐ تو جوامع الکل تھے، لہٰذا اپنی مکمل بات چند کلمات میں کہہ لیتے تھے، آپ کے بعد دوسرے حضرات میں یہ صفت نہیں پائی جاتی ہے اس لیے یہ لمبی بات کرکے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے مجاز ہیں، اجماع کی روایت عثمان غنیؓ کے حوالے سے صاحب بدائع الصنائع نے نقل کی ہے کہ عثمان غنیؓ سے مروی ہے کہ جب آپ خلیفہ بنائے گئے تو پہلے جمعے میں خطبہ دیا تو جب الحمدللہ کہا تو رک گئے۔ پھر فرمایا: تم لوگ فعال امام کے زیادہ محتاج ہو بہ نسبت بہت زیادہ بولنے والے امام کے، اور حضرات شیخین (صدیق اکبر وفاروق اعظمؓ) اس جگہ کے لیے چند باتیں تیار کررکھتے تھے اور عنقریب تمہارے روبرو اس کے بعد خطبے آئیں گے اور میں اپنے لیے اور تم لوگوں کے لیے استغفار کرتا ہوں اور انھوں نے صحابہ کرامؓ کو جمعے کی نماز پڑھائی۔ یہ تمام باتیں مہاجرین وانصار کی موجودگی میں پیش آئیں اور تمام حضرات نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی، کسی نے بھی ان کے یہ کرنے پر نکیر نہیں کیا باوجودیکہ وہ حضرات امر بالمعروف اور نہی عند المنکر کی صفت سے متصف تھے، لہٰذا یہ صحابہ کا اجماع ہے۔ اس واقعے سے دو باتیں سمجھ میں آئیں: (1) تینوں خلفا نے مختصر خطبہ دیا۔ (2) صحابہ کرام کی موجودگی میں عثمان غنیؓ کے مختصر خطبہ دینے کو صحابہ کرام نے درست سمجھا اور کچھ نکیر نہیں کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ