اسلامی تفریحی مشاغل

283

شاہ تراب الحق قادری

اسلام فرض ونفلی عبادات کے ساتھ ساتھ ان تفریحی مشاغل کی اجازت بھی دیتا ہے جن سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو، معاشرے میں کوئی خرابی نہ پھیلتی ہو اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت کا با عث ہوں۔ آقا ومولاؐ کے قائم کردہ معاشرے میں مسلمانوں کی تفریحی مشاغل اور اس حوالے سے نبی کریمؐ کی سیرت مبارکہ کو سامنے رکھ کر ہم اپنے تفریحی مشاغل کی حدود کا تعین کرسکتے ہیں۔
رحمت عالمؐ نے جن تفریحی مشاغل کو پسند فرمایا ہے وہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے تفریح طبع کا باعث ہوتے ہیں بلکہ وہ جسمانی طور پر طاقت میں اضافے کا بھی ذریعہ اور جہاد ک ے لیے عملی تربیت بھی ثابت ہوتے ہیں۔ کم نصیبی سے آج جن چیزوں کو تفریح سمجھ لیا گیا ہے وہ نہ صرف بے حیائی اور گناہوں پر مشتمل ہیں بلکہ مسلمانوں کو جسمانی اور روحانی طور پرناکارہ بنادیتے ہیں اور کھیل کے طور پر جن مشاغل کو اپنا یاگیا ہے وہ معاشرتی ذمے داریوں کے علاوہ بندے کو احکام الٰہی سے بھی غافل کردیتے ہیں۔
نبی کریمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ ہر وہ چیز جس سے مرد کھیلے باطل ہے۔ (ترمذی) اس حدیث پاک میں آقا علیہ السلام نے ان تمام مشاغل سے منع فرمایا ہے جو احکام الٰہی سے غافل کرتے ہوں یا ان سے کوئی جسمانی وروحانی فائدہ نہ ہوتا ہو۔ ایک اور حدیث شریف میں ارشاد ہوا طاقت ور مومن ا للہ تعالیٰ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے۔ (مشکوٰۃ)
نبی اکرمؐ لوگوں کو نشانہ بازی کی ترغیب دیا کرتے۔ ایک بار آپ نے نشانہ بازی کی مشق کے لیے دوفریق بنائے اور فرمایا: تیر چلاؤ، میں فلاں فریق کی جانب ہوں۔ یہ سن کر دوسرا فریق تیر چلانے سے رک گیا اور عرض گزار ہوا کہ آقا جب آپ اس فریق کی طرف ہیں تو پھر ہم ان کے خلاف تیرکس طرح چلاسکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تیر چلاؤ، میںتم سب کے ساتھ ہوں۔ (بخاری)
عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ میں نے آقا علیہ الصلوۃ کو منبر پر یہ فرماتے سنا کہ کافروں سے لڑنے کے لیے تم اپنی قوت جس قدر مضبوط کرسکو ضرور کرو، خبردار! قوت تیر اندازی میں ہے۔ یہ بات آپؐ نے تین بار فرمائی۔ (مسلم) ایک اور جگہ ار شاد فرمایا: تم تیر اندازی ضرور سیکھو، یہ بہترین کھیل ہے۔ (طبرانی)
نبی کریمؐ بہترین شہ سوار تھے۔ بخاری میں ہے کہ رسول معظمؐ کے حکم سے گھوڑوں کی دوڑ کرائی جاتی تھی۔ آپ اونٹوں کو بھی دوڑاتے تھے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ کی اونٹنی ہمیشہ دوڑ میں سبقت لے جاتی تھی۔ ایک بارکسی بدوکا اونٹ آگے نکل گیا تو صحابہ کرام کو سخت صدمہ ہوا، آپ نے ارشاد فرمایا: ا للہ تعالیٰ کو زیبا ہے کہ جو چیز گردن اٹھائے اسے نیچا دکھادے۔ (بخاری)
ستر پوشی کے ساتھ تیراکی اچھی ورزش بھی ہے اور کھیل بھی۔ سیدنا عمرؓ کا ارشاد ہے کہ اپنی اولاد کو تیراکی اور تیر اندازی سیکھاؤ اور ان سے کہوکہ گھوڑے پر چھلانک لگا کر سوار ہوا کریں۔ (مسند احمد)
نبی اکرمؐ صبح سویرے اٹھنے کی بہت تلقین فرمایا کرتے تھے ۔آپ نیزہ بازی اور شمشیرزنی کو بھی پسند فرماتے تھے، آپ نے حبشیوں کی نیزہ بازی اور شمشیر زنی کو بھی پسند فرمایا۔ ایک مرتبہ عید کے دن آپ نے حبشیوں کو نیزہ بازی کے کرتب دکھانے کی اجازت عطافرمائی۔ (بخاری)
دوڑ نا اور دوڑ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا بہترین کھیل بھی ہے اور جسم کے لیے مفید بھی، متعدد روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ کرام دوڑنے میں بہت تیز رفتار تھے اور دوڑنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریمؐ صرف ان تفریحی مشاغل کی اجازت دیا کرتے تھے جن سے احکام الٰہی کی نفی نہ ہوتی ہو اور وہ جسمانی اور ذہنی طور پر فائدہ مند ہوں، نیز یہ کہ ان تما م مشاغل کے باوجود صحابہ کرام یادالٰہی سے غافل نہ ہوتے۔
سیدنا بلالؓ کا ارشاد ہے کہ میں نے صحابہ کرام کو دوڑنے کا مقابلہ کرتے اور انہیں آپس میں ہنستے ہوئے بھی دیکھا ہے، لیکن جب رات ہوتی تو وہ راہب یعنی تارک الدنیا بن جاتے۔ (مشکوٰۃ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ