رزق حلال کی اہمیت وفضیلت

1391

عبدالمنان معاویہ

دین اسلام کامل ومکمل نظام حیات ہے، اس لیے انسانیت کے لیے اس دین میں حصول رزق کے بارے میں بھی رہنمائی ہے۔ دین اسلام کے دیے ہوئے اصول وضوابط کی روشنی میں جو رزق حاصل ہوگا وہ حلال شمار ہوگا۔ اسلام نے اپنے پیروئوں کو رزق حلال کمانے اور حرام رزق سے بچنے کی ترغیب و اور ترہیب دی ہے۔ نبی کریمؐ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ خود طیب ہے اور وہ اسی چیز کو پسند کرتا ہے جو طیب ہو۔‘‘ (مسلم)
بخاری میں مقدام بن معد یکربؓ سے روایت ہے کہ سرورِ کائناتؐ نے فرمایا: اُس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیںجس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا، اور بے شک اللہ کے نبی دائودؑ اپنے دستکاری سے کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری)
اُم المومنین سیدہ عائشۃ الصدیقہؓ روایت فرماتی ہیں کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جو تم کھاتے ہو اُن میں سب زیادہ پاکیزہ وہ ہے جو تمہاری کمائی سے حاصل ہوا، اور تمہاری اولاد بھی کمائی کے ہے۔‘‘ (ترمذی،ابن ماجہ) یعنی اولاد کی کمائی بھی انسان کے لیے مالِ حلال میں شمار ہوگی ۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں نبی رئوف رحیمؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کے بعد اہم فریضہ کسب حلال ہے۔‘‘ (کنزالعمال) یعنی نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج کے بعد مسلمان پر اہم فرض رزق حلال کمانا ہے۔ اس کے یہ معنی بھی ہوئے کہ مسلمان جب روزی کمانے کی سعی کرتا ہے اور روزی کمانے میں سرگرداں رہتا ہے تو دین اسلام روزی کمانے سے اُسے منع نہیں کرتا بلکہ روزی کمانے کے لیے کچھ حدود وقیود مقرر کرتا ہے تاکہ اُن حدود وقیود کی پابندی کرتے ہوئے وہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لیے رزق حلال کمائے، رزق حلال میں برکت ہوتی ہے اور رزق حرام دیکھنے میں زیادہ، لیکن حقیقت میں اُس میں برکت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر رزق حلال سے تیار کیا گیا تین افراد کا کھانا پانچ افراد کھائیں تو کھانا پھر بھی بچ جاتا ہے۔ جبکہ حرام کی کمائی سے تیار شدہ تین افراد کا کھانا تین افراد کی کفایت بھی نہیں کرتا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: جو بندہ مال حرام حاصل کرتا ہے اگر اس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس سے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ مرے تو جہنم جانے کا سامان ہے… الخ۔ (مسند احمد بن حنبل)
جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’جنت میں وہ گوشت داخل نہیں ہوگا جو حرام کھانے سے بڑھا ہو اور ہر وہ گوشت جو حرام خوری سے بڑھا ہو دوزخ کے زیادہ لائق ہے۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل، بیہقی)
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریمؐ کو ’’حبیب اللہ‘‘ فرمایا، اور ہمارے آقاؐ نے فرمایا: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ کہ رزق حلال کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔ کتنی فضیلت والی بات ہے اُن حضرات کے لیے جو رزق حلال کماتے ہیں کہ لسان نبوتؐ نے انہیں اللہ کا دوست ہونے کی بشارت دی ہے، یہ کوئی عام فضل وعنایت نہیں ہے ۔
اسی طرح اولیاء کرامؒ کا معمول رہا کہ وہ رزق حلال کے لیے تگ ودو کرتے ہیں۔ وقت کے بادشاہ ان کے پاس نذرانے بھیجتے لیکن یہ حضرات انہیں قبول نہ فرماتے بلکہ واپس بھیج دیتے تھے، چند واقعات اولیاء کرامؒ کے پیش خدمت ہیں جن کی دینی کاوشوں سے اسلام چہار جوانب پھیلا۔
عبداللہ بن مبارکؒ بہت بڑے محدث، فقیہ اور ولی اللہ گزرے ہیں، اُن کی وفات کے بعد کسی نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ حضرت کیا معاملہ پیش آیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا ہے لیکن میرے گھر کے سامنے جو لوہار تھا اُسے بلند مرتبہ ملا ہے، وہ شخص حیران ہوا، صبح اُس کی بیوی سے جا کر ملا اور پوچھا کہ تیرا شوہر کیا ایسا عمل کرتا تھا کہ اسے جنت میں عبداللہ بن مبارک سے بھی اونچا رتبہ ملا ہے، اُس کی بیوی نے کہا اور تو خاص نہیں، ایک تو جب آخر شب عبداللہ بن مبارک نمازِ تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو یہ کہتا تھا کہ اے اللہ! کاش میرے رزق میں فراخی ہوتی تو میں بھی رات کے اس پہر تیرے سامنے سر بسجود ہوتا، اور دوسرا اس کا عمل یہ تھا کہ جب یہ دکان پر ہتھوڑا مارنے کے لیے اوپر اٹھاتا اور اذان ہوجاتی تو فوراً ہتھوڑا پیچھے کی جانب گرا دیتا تھا کہ اللہ نے پکارا ہے، بس یہ دو عمل تھے اس کے اور تو کچھ خاص نہیں۔ اس حکایت سے معلوم ہوا کہ رزق حلال کمانے کی برکت اور کسب حلال کے ساتھ اللہ کے فرائض کی پابندی ایسا عظیم الشان عمل ہے جس سے انسان بڑے بڑے زاہدوں سے بھی روزِ محشر بڑھ سکتا ہے۔
ماضی قریب کے ایک بزرگ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ جب ٹرین پر سفر کرتے تھے تو سامان کا وزن خود کراتے تھے، جتنا سامان زیادہ ہوتا اُس اضافی سامان کی رقم جمع کراتے، ایک بار ایک ٹکٹ کلکٹر نے کہا کہ حضرت آپ رقم جمع نہ کرائیں، فلاں اسٹیشن تک میں خود ہوں اُس کے بعد جو ٹکٹ کلکٹر آئے گا میں اُسے کہہ دوں گا، وہ آپ کو تنگ نہ کرے گا۔ آپؒ نے فرمایا کہ بھائی وہ کہا ں تک جانا ہے، اس ٹکٹ کلکٹر نے کہا حضرت جہاں تک ٹرین جائے گی، تو تھانویؒ نے فرمایا کہ بھائی مجھے تو اس سے بھی آگے جانا ہے، اور میری منزل روزِ محشر ہے اگر وہاں تک تمہاری رسائی ہے تو بتلائو، وہ خاموش ہوگیا، اور تھانویؒ نے اضافی سامان کی رقم جمع کرادی۔ اسی طرح تھانویؒ نے ایک بزرگ عالم کو خلافت عطا فرمائی، ایک مرتبہ وہ آپ سے ملنے آئے اور ساتھ اپنے فرزند کو بھی لائے، تھانویؒ نے پوچھا بھائی کیسے آئے؟ کہا حضرت ٹرین سے آئے ہیں، حکیم الامتؒ نے فرمایا کہ بھائی بچے کی عمر کیا ہے کہا کہ تیرہ سال، تو حضرت نے فرمایا کہ بچے کی ٹکٹ کتنی لی، کہا حضرت دیکھنے میں بارہ کا ہی لگتا ہے اس لیے ہاف ٹکٹ لی ہے، تو تھانویؒ نے فرمایا کہ بھائی جو شخص گورنمنٹ کا حق مار سکتا ہے وہ مخلوق خدا کو کیا فائدہ دے گا اور اُس بزرگ سے خلافت واپس لے لی۔
آج ہم نہ رسول کریمؐ کے فرمودات کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں، اور نہ ہی اصحاب رسول یا آل رسول کے نقوش پا پر چل رہے ہیں، اولیاء کرام سے محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے لیکن حضرات اولیاء کرام کی تعلیمات سے روگردانی کررہے ہیں، اور ہماری خواہش ہے کہ پھر سے دنیا میں مسلمانوں کو عروج حاصل ہو، تو اس کے لیے ہمیں اسلاف سے رشتے کو مضبوط سے مضبوط ترکرنا ہوگا، نوجوان نسل کو اسلاف کی زندگیوں سے، اُن کے کارہائے نمایاں سے روشناس کرانا ہوگا تاکہ ان میں اپنے اسلاف کے نقش پا پر چلنے کا جذبہ پیدا ہو۔ تبھی ہم دوبارہ مسند عروج پر متمکن ہوسکتے ہیں۔ اقبالؒ نے فرمایا ؎
ڈالی گئی جو فصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے
ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ