محمدی بلڈ بینک 15برس میں 3 لاکھ سے زائد خون اور اس کے اجزاء کے محفوظ یونٹس فراہم کر چکا ہے۔ سی ای او

182

کراچی (اسٹاف رپورٹر) محمدی ہیماٹولوجی، آنکولوجی سروسز اینڈ ویلفیئر فاو¿نڈیشن کے قیام کو 15سال مکمل ہو گئے۔ اس عرصے میں کراچی سمیت ملک بھر میں قائم چھ بلڈ بینکس کے ذریعے تین لاکھ سے زائد محفوظ خون اور اس کے اجزاءکے یونٹس فراہم کیے گئے۔ صرف قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی ) کراچی میں تقریبا دو لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔ ان بلڈ بینکس سے ہر سال 30ہزار سے زائد خون اور اس کے اجزاءکے یونٹس فراہم کیے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ کراچی اور ملتان میں واقع دو تھیلے سیمیا سینٹرز کے ذریعے تھیلے سیمیا سے متاثرہ بچوں کو اب تک 40 ہزار سے زائدخون اور اس کے اجزاءکے یونٹس فراہم کیے جا چکے ہیں۔ فاو¿نڈیشن کے رجسٹرڈبلڈ ڈونرزکی تعداد سات ہزار سے تجاوزکر چکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار محمدی ہیماٹولوجی، آنکولوجی سروسز اینڈ ویلفیئر فاو¿نڈیشن کے صدر سرور علی، سی ای او مہدی رضوی اور ایگزیکٹیو میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر سرور علی نے بتایا کہ محمدی ہیماٹولوجی، آنکولوجی سروسز اینڈ ویلفیئر فاو¿نڈیشن 2003ءمیں اکبر کمانی مرحوم اور سی ای او مہدی رضوی نے قائم کی تھی۔ میں 2005ءمیں اس ٹیم کا حصہ بنا۔ فاو¿نڈیشن کا مرکزی دفتر کراچی جب کہ برانچز قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی)، یونائیٹڈ اسپتال شہیدملت روڈ، کورنگی کراچی، ملتان اور اسکردو میں قائم ہیں۔ کورنگی برانچ 500 بستروں کے کریک جنرل اسپتال میں واقع ہے جو ایک میڈیکل کالج کا ٹیچنگ اسپتال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون سندھ موجود مریضوں کے لیے محفوظ خون اور اس کے اجزاءکی شدید کمی تھی، محمدی نے ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مکلی ضلع ٹھٹھہ میں اپنا بلڈ بینک زینب جنرل اسپتال میں 2017ءمیں قائم کیا جہاں سے دیگر مریضوں کے ساتھ تھیلے سیمیا کے بچوں کی خون کی ضروریات بھی پوری کی جاتی ہیں، جنوبی پنجاب بھی ایک بڑی آبادی والا خطہ ہے لیکن یہاں خون کی بیماریوں کے علاج کی سہولتیں ناپید تھیں، محمدی فاو¿نڈیشن نے وہاں بھی بلڈ بینک اور تھیلے سیمیا سینٹر 2009ءمیں قائم کیا۔ جنوبی پنجاب کے مریضوں سمیت یہ سینٹر نشتر اسپتال کی ضرورت بھی پوری کرتا ہے، اس کے علاوہ اسکردو ایک ایسی جگہ ہے جہاں خطرناک حادثات عام ہیں، ہر روز کسی کی زندگی خصوصاً دوران زچگی بروقت خون نہ ملنے کی وجہ سے گل ہو جاتی تھی، خون کے حصول کے لیے لوگوں کو شہر سے دور 18سے 20 گھنٹے کی مسافت پر راولپنڈی جانا پڑتا تھا، وہاں پر بلڈ اسکریننگ اور خون کے اجزاءکا تصور ہی نہیں تھا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر محمدی نے اپنا بلڈ بینک 2012ءمیں یہاں قائم کیا جہاں سے لوگوں کو سو فی صد محفوظ خون بلامعاوضہ فراہم کیا جاتا ہے، یہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال اسکردومیں واقع ہے۔ سی ای او مہدی رضوی نے بتایا کہ محمدی ہیماٹولوجی، آنکولوجی سروسز اینڈ ویلفیئر فاو¿نڈیشن کے قیام کو 15سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں کراچی سمیت ملک بھر میں قائم چھ بلڈ بینکس کے ذریعے تین لاکھ سے زائد محفوظ خون اور اس کے اجزاءکے یونٹس فراہم کیے جا چکے ہیں، صرف قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کراچی میں قریباً دو لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے، این آئی سی وی ڈی میں بلڈ بینک 2006ءمیں قائم کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک اسپتال انتظامیہ کی مدد اور بھرپور تعاون سے یہ سلسلہ جار ی ہے، ان بلڈ بینکس سے ہر سال 30 ہزار سے زائد خون اور اس کے اجزاءمستقل بنیادوں پرفراہم کیے جا رہے ہیں، اس کے علاوہ کراچی اور ملتان میں واقع دو تھیلے سیمیا سینٹرز کے ذریعے تھیلے سیمیا سے متاثرہ بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اب تک 40ہزار سے زائدخون اور اس کے اجزاءکے یونٹس فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ اچھی ساکھ اور رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے دیگر تھیلے سیمیا سینٹرز کے بچوں کے لیے بھی خون اور اس کے اجزاءفراہم کیے جاتے ہیں۔ ہماری آگہی مہمات کی وجہ سے کراچی، ملتان اور اسکردو میں فاو¿نڈیشن کے رجسٹرڈ بلڈ ڈونرز کی تعداد سات ہزار سے تجاوزکر چکی ہے جو مستقل بنیادوں پر خون کے عطیات دیتے ہیں۔ این آئی سی وی ڈی برانچ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مہدی رضوی نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز نے بھی بلاشبہ مریضوں کی خدمت کی ہے لیکن موجودہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے جس طرح ہر عام غریب مریض کے لیے اسپتال کے دروازے کھول دیے ہیں اور ان کا علاج بالکل مفت ہورہا ہے، اس کی وجہ سے بلڈ بینک میں بھی خون کی طلب بڑھ گئی ہے ۔اس وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے محمدی فاو¿نڈیشن نے بھی ایک منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت مریضوں سے لیا جانے والا کمیونٹی شیئر 600 روپے بھی ختم کر دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ منظوری کے لیے حکومت سندھ اور مالی معاونت کے لیے مخیر حضرات کو بہت جلد بھیجا جائے گا۔ ایگزیکٹیو میڈیکل ڈائریکٹرایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان نے بتایا کہ محمدی بلڈ بینکس اور تھیلے سیمیا سینٹرز میں استعمال ہونے والے خون کی اسکریننگ عالمی معیارکی مشینوں اور کٹس کے ذریعے کی جاتی ہے جس کی نگرانی فاو¿نڈیشن کا کوالٹی کنٹرول ڈپارٹمنٹ کرتا ہے، ہماری برانچز سے جاری کیا جانے والا خون انتہائی محفوظ اور عالمی معیارکے مطابق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد محمدی فاو¿نڈیشن کا مرکزی دفتر نمائش چورنگی بریٹو روڈ پر قائم کیا جا رہا ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جہاں پر بلڈ بینک، تھیلے سیمیا سینٹر، لیبارٹری اور انسٹی ٹیوٹ آف ہیماٹولوجی اینڈ ٹرانسفیوژن میڈیسن بھی قائم کیا جائے گا، اس انسٹی ٹیوٹ میں تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیز کے الحاق سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن کے طالب علموں کو بلڈ بینکنگ میں ڈپلوما اور سرٹیفیکیٹ کورسز کرائے جائیں گے، اس انسٹی ٹیوٹ میں ہیلتھ سیکٹر کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے بھی محفوظ انتقال خون اور اس سے متعلق امور پر سرٹیفیکیٹ کورسز کرائے جائیں گے۔ ڈاکٹر محمد عثمان نے کہا کہ انتقال خون ایک بہت حساس عمل اور میڈیسن کے شعبے میں ایک آپریشن سمجھا جاتا ہے، ہم کم سے کم کمیونٹی شیئر پر مفت محفوظ خون فراہم کرتے ہیں، سندھ ایک بڑا صوبہ ہے جہاں بہت سے بلڈ بینکس موجود ہیں تاہم محمدی ان چند بلڈ بینکس میں سے ایک ہے جہاں اعلیٰ معیاری اور محفوظ خون فراہم کیا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ