سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین برس بعد اسپتالوں کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا

339

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپنے قیام کے تین برس بعد کام کا آغاز کر دیا ہے، کمیشن کا بنیادی مقصد سندھ بھر میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری، اتائی ڈاکٹروں کا خاتمہ اور صحت کے شعبے میں ہونے والی نت نئی تحقیقات پر عمل درآمد کرانا ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ریگولیٹری باڈی ہے جس کے تحت سندھ بھر کے اسپتالوں اور کلینکس کی رجسٹریشن، مانیٹرنگ اور دیکھ بھال کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلتھ کے شعبے میں دنیا بھر میں روزانہ نت نئی تحقیقات سامنے آتی ہیں، کمیشن ان تحقیقات پر بھی عمل درآمد کے لیے ممکنہ اقدامات کرے گا۔ تقریب میں ڈائریکٹر ہیلتھ کراچی، وائس چانسلر ڈاؤ یونی ورسٹی، پی ایم اے کے عہدیداران سمیت شعبہ صحت سے متعلق اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ لانچنگ تقریب کا آغاز ہوا ہی تھا کہ صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی اندوہ ناک خبر آگئی جس کے بعد ان کی فاتحہ کے بعد تقریب کو ختم کر دیا گیا۔ تاہم سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن آج (جمعہ) سے باضابطہ طور پر کام کا آغاز کر دے گا۔ واضح رہے کہ صوبائی اسمبلی نے 24 فروری 2014ءکو سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کی منظوری دی تھی جو 19 مارچ 2014ءکو گورنر سندھ کے دستخط کے ساتھ ہی نافذ العمل ہو گیا تھا۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے چیئرمین وزیر صحت سندھ ہیں جب کہ دیگر اراکین میں سیکریٹری صحت، جناح سندھ میڈیکل یونی ورسٹی کے وائس چانسلر بھی شامل ہیں، چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا عہدہ ڈاکٹر منہاج اے قدوائی کے پاس ہے۔ کمیٹی کے اراکین میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، پرائیویٹ ہاسپٹلز ایسوسی ایشن، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز اور جنرل پریکٹشنرز کے نمائندے شامل ہیں۔ تین برس میں کمیشن کی جانب ہیلتھ کمشنرز کو نامزد کرنے کے لیے صرف کمیٹی ہی تشکیل دے سکا تھا جس کا تعارفی اجلاس 9 ستمبر کو ایک مقامی ہوٹل میں ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے گزشتہ برس صوبے بھر میں 9 ہیلتھ کمشنرز کی نامزدگی کی۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کا بنیادی مقصد صوبے میں صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی، مریضوں کے حقوق اور ڈاکٹرز کا تحفظ، نجی اسپتالوں میں فیس کا تعین اور اتائی ڈاکٹروں کا خاتمہ ہے۔ کمیشن کو سرکاری و نجی اسپتالوں کی نگرانی کا اختیار بھی حاصل ہے جب کہ صحت سے متعلق اداروں کی رجسٹریشن کرنا، شکایات کا جائزہ لے کر ان کے ازالے کے لیے اقدامات کرنا بھی کمیشن کی ذمے داری ہے۔ آج (جمعہ) سے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن صحت سے متعلق اداروں کی رجسٹریشن کا آغاز کر رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ