حضرت فاطمہؓ بنت اسد

236

انتہائی شفیق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماں کی طرح محبت کرنے والی چچی جان

ام ایمان

حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی اور ہاشمی خاندان میں سے ہی تھیں۔ ان کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاشم تک پہنچ کر مل جاتا ہے۔ حضرت فاطمہؓ کے والد اسد بن ہاشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب بن ہاشم کے سوتیلے بھائی تھے۔ حضرت فاطمہؓ نے قریش کے معزز ترین خاندان ہاشم میں آنکھ کھولی۔ نہایت نازو نعم کے ساتھ بہترین تربیت پائی۔ آپؓ بچپن سے ہی نہایت اعلیٰ اوصاف کی مالک تھیں۔ چنانچہ گوہر شناس عبدالمطلب نے انہیں اپنی بہو بنانے کے لیے منتخب کرلیا اور اپنے فرزند عبدمناف (ابو طالب) سے ان کانکاح کردیا۔
حضرت ابو طالب سے اللہ نے انہیں چار بیٹے دیے جن کے نام طالب‘ عقیلؓ‘ جعفر اور علی رکھے۔ بیٹیاں ام ہانیؓ اور جمانہ تھیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے کئی رشتے تھے۔ وہ رسول اللہ کی شفیق چچی اور سمدھن بھی تھیں کہ آپ کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ کی ساس تھیں۔ حضرت عبدالمطلب کی بھتیجی ہونے کے ناتے سے آپ کے والد عبداللہ کی چچا زاد بہن اور رسول اللہؐ کی پھوپھی بھی ہوتیں تھیں۔
جب رسول اللہؐ کی والدہ بی بی آمنہ کا انتقال ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ رکھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تمام اولادوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ ہر وقت اپنے پاس رکھتے تھے۔ قریب بٹھاتے تھے۔ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اس بات کی آزادی تھی کہ جس وقت چاہتے ان کے پاس چلے جاتے تھے۔ خواہ وہ سوئے ہوئے ہوں یا آرام کررہے ہوں حالانکہ دوسرے بیٹوں کو ان کی ہیبت کی وجہ سے یہ جرأت نہ ہوتی۔
کعبہ کی دیوار کے سایہ میں ان کے لیے ایک فرش بچھایا جاتا تھا جس پر ادب کی وجہ سے ان کی کوئی اولاد نہیں بیٹھتی تھی بلکہ سب اردگرد بیٹھتے مگر حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس وقت خوب صحت مند بچے تھے، آکر سیدھے اسی فرش پر بیٹھ جاتے۔ آپ کے چچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہٹانا چاہتے تھے تو عبدالمطلب کہتے ’میرے بیٹے کو چھوڑ دو خدا کی قسم اس کی شان ہی کچھ اور ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ اپنے بلند مرتبے تک پہنچے گا جس پر اس سے پہلے کوئی عرب نہ پہنچا ہوگا۔‘
ابن سعد نے لکھا ہے کہ قبیلہ بنی مذلج جو قیافہ شناسی کے لیے مشہور تھا، اس کے چند لوگ عبدالمطلب کے پاس آئے اور کہا کہ اس بچے کی خاص حفاظت کرناکیونکہ ہم نے کوئی نشان قدم ایسا نہیں دیکھا جو مقام ابراہیم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم سے اس قدر مشابہہ ہو جیسی مشابہت اس بچے کا نشان قدم رکھتا ہے۔
اس موقع پر ابوطالب وہاں موجود تھے۔ عبدالمطلب نے ان سے کہا کہ ’یہ لوگ جو بات کہہ رہے ہیں اسے غور سے سنو اور اس کی حفاظت کرو۔‘
شفیق دادا کی محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ حاصل نہ رہی آپ صرف 8 سال کے تھے کہ حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ ان کا اصل نام عبدمناف تھا لیکن آپ اپنے بڑے بیٹے طالب کی وجہ سے ابوطالب کی کنیت سے اتنے مشہور ہوگئے کہ اصل نام دب کر رہ گیا۔
حضرت ابوطالب کے بیٹے طالب عمر میں رسول اللہؐ کے تقریباً برابر ہی تھے، انہیں رسول اللہؐ سے بہت محبت تھی۔ جنگ بدر میں جب قریش کے لوگ اپنے ساتھ بنی ہاشم کو بھی مجبور کرکے لڑنے لے کر گئے تو ان میں طالب بھی تھے۔ لیکن انہوں نے جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ بعد میں نہ مقتولوں میں ان کا پتا چلا نہ زخمیوں میں او رنہ ہی وہ واپس مکہ آنے والوں میں تھے۔ کچھ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں چلے گئے۔
ابوطالب رسول اللہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ اپنی اولادوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ جہاں جاتے ساتھ لے جاتے، کھانے کے وقت کوشش کرتے تھے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آکر شریک ہوں، تب دوسرے کھانا شروع کریں۔ شروع میں جب رسول اللہ چچا کے پاس آتے تو جیسا کہ قاعدہ تھاکہ بچوں کو تھال میں کھانا دے دیا جاتا اور بچے چھین جھپٹ کر کھاتے لیکن آ پ چپ چاپ کنارے بیٹھ جاتے۔ ایک دن حضرت فاطمہ بنت اسد بچوں کو دیکھنے آئیں تو دیکھا کہ سارے بچے کھانے میں لگے ہیں اور رسول اللہ کنارے بیٹھے ہیں۔
محبت سے پوچھا تو پتا چلا کہ رسول اللہ تو کبھی اس طرح چھین جھپٹ کر نہیں کھاتے۔ تب سے وہ رسول اللہ کے لیے علاحدہ برتن میں کھانا نکالتیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے کھاسکیں۔ حضرت ابو طالب کے ہاں اتنی فراعت نہ تھی۔ لہٰذا سب کا پیٹ بھر نہ پاتا پھر یہ بات محسوس کی گئی کہ جب رسول اللہ کھانے میں شریک ہوتے اور ساتھ کھاتے تو سب کا پیٹ بھر کر بھی کھانا بچ رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ برکت دیکھ کر ابوطالب نے قاعدہ بنالیا کہ جب سب کھانے کے لیے بیٹھتے تو وہ کہتے ٹھہرو جب تک میرا بیٹا نہ آجائے۔ پھر جب رسول اللہ آجاتے تو کھانا شروع کیا جاتا۔ ابوطالب کہتے بیٹا تم بڑے مبارک ہو۔ ابوطالب کے لیے الگ مسند بچھائی جاتی جس پر کوئی نہ بیٹھتا تھا، مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ہی جا کر بیٹھا کرتے تھے۔ اس پر ابو طالب کہا کرتے کہ: ’ربیعہ کے خدا کی قسم! میرے اس بھتیجے پر سرداری سجتی ہے۔‘
جتنا وقت رسول اللہ نے حضرت ابوطالب کے ساتھ گزارا حضرت فاطمہ نے ایک ماں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی اور محبت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ رسول اللہ آپ کے بعد آپ کے لیے دعا کرتے ہوئے فرماتے تھے۔
’میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے۔‘ (جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ