ابوظفر زین

146

باپ کا خط ۔۔۔ بیٹی کے نام
نیا سفر، نیا گھر، نئی زندگی

میری پیاری بیٹی… السلام علیکم
آج اس گھر سے تو پہلی بار ایک نئے گھر کی طرف جارہی ہے اور یہ بڑی خوشی کا وقت ہے۔ آج سے تیرے پاس دو گھر ہیں… پہلا وہ گھر جہاں تونے اب تک زندگی کاٹی اور دوسرا وہ گھر جہاں تو آئندہ زندگی کاٹے گی۔ ان شاء اللہ۔ آج تیرے شب و روز میں والدین کے علاوہ ایک اور رفیق و شفیق داخل ہوتا ہے۔ آج سے تو صرف ایک بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک بیوی بھی ہے۔
ماں اور باپ کی آنکھیں اگر آج نم ہیں تو محض اس لیے کہ تو اب ان کے سامنے زیادہ نہ رہ سکے گی۔ اب تو ان کی خدمت میں اور وہ تیری خدمت میں زیادہ وقت نہ دے سکیں گے۔ لیکن ان کا دل خوش ہے کہ نہ صرف انہوں نے ایک بھاری فرض انجام دیا ہے بلکہ آج اللہ تعالیٰ نے یہ دن دکھایا کہ ان کی بیٹی پروان چڑھی اور عمر کے تقاضے کے ساتھ اس کے فرائض میں بھی اضافہ ہوا۔ وہ خوش ہیں کہ ان کی لخت جگر ایک ایسی نئی جگہ قدم رکھ رہی ہے جو نئی نئی ذمے داریوں کے ساتھ نئی نئی دلچسپیوں کا بھی مرکز ہے، جس کے بغیر یہ زندگی فضول ہے بلکہ لعنت ہے۔
کہنے کو ہم سب لوگ تجھے رخصت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ لیکن رخصتی کا لفظ ایک فرسودہ ریت اور رسم ہے۔ جس طرح تو ہمارے دلوں سے رخصت نہیں ہوسکتی، اسی طرح ہمارے گھر سے بھی رخصت نہیں ہوسکتی۔ تو کیا ہے؟ ہمارے دلوں کی امنگ، ہماری آنکھوں کا سرور، ہماری ضعیفی کا آسرا۔ جب تک ہم لوگ زندہ ہیں تو ہماری ہے، ہماری ہر چیز تیری ہے۔ آج کے بعد بھی ہم لوگوں پر تیرا اسی طرح حق رہے گا۔ جس طرح آج سے پہلے تھا۔ ہم سب جمع ہوئے ہیں تجھے گھر کے دروازے سے رخصت کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس شاہراہ حیات تک پہنچانے کے لیے جس پر چلنا فطرت کا عین تقاضا ہے، حاکم حقیقی کا عین حکم ہے، پیغمبروں کی بیٹیوں کا نشان منزل ہے۔
بیٹی! ڈر نہیں۔ سفر انوکھا ضرور ہے۔ ماحول نیا ہے لیکن پرکیف بھی۔ امتحان ہے شاید، بہت اہم امتحان ہے۔ لیکن کامیابی کے نتیجے میں زندگی کی سب سے رنگین اور لذت بھری بہاریں تیرے پاس ہوں گی اور زندگی کے بعد… سب سے بڑا اجر۔ شادی شدہ زندگی کامیاب کرنا عورت کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ خوش ہو کہ اللہ نے تجھے حسن صورت اور حسن سیرت عطا کیا ہے، تجھے عقل دی ہے اور صحت، علم بخشا ہے اور سلیقہ۔ پھر اس امتحان سے ڈرنا کیا؟ تو مسلح ہے اپنی ذمے داریوں کو سنبھالنے کے لیے۔ اُٹھ باہمت اور اعتماد سے کام لے۔ اور آگے قدم بڑھا۔
یہ سفر تنہائی کا سفر نہیں ہے تیرے والدین کی آنکھوں نے اپنے مقدور کی انتہا تک تیرے لیے سب سے موزوں جوڑا ڈھونڈ نکالا ہے۔ ہم غیب کا علم نہیں رکھتے لیکن ہم فضل خداوندی سے اُمید کرتے ہیں کہ تم دونوں مل جل کر حیات کی کٹھن منزلیں آسان کرلو گے۔ یاد رکھو کہ زن و شوہر مل کر دنیا پر بھاری ہوتے ہیں اور الگ ہو کر دنیا ان پر بھاری ہوتی ہے۔ ہم صمیم قلب سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم دونوں کو باہمی خلوص اور خدمت سے سرشار کرے۔ عقل اور صحت سے نوازے، ہمت اور طاقت سے تربیت دے۔ سعادت مند اولادیں اور ان کی خوشیاں نصیب کرے اور جب اس دار فانی سے اُٹھائے تو ایمان و عمل کی دولت سے مالا مال کرکے اُٹھائے۔ آمین!
تیرے لیے ہم اپنی بساط کے مطابق کچھ زادراہ پیش کرتے ہیں ان میں کچھ نقد ہے۔ کچھ کپڑے اور دیگر چیزیں۔ تا کہ جب تو اپنا گھر آباد کرے تو… خواہ کچھ ہی دنوں کے لیے سہی… فکر زمانہ سے آزادرہ سکے۔ ہمیں احساس ہے کہ یہ چند چیزیں شاید زیادہ دیر تیرے کام نہ آسکیں گی اور نہ اس سلسلہ میں ہم لوگ کچھ زیادہ کرسکیں گے۔ لیکن ہم جہیز میں تجھے ایک ایسا تحفہ بھی پیش کرتے ہیں جو بڑا بیش قیمت ہے اور رہتی عمر تک کام آسکتا ہے۔
یہ تحفہ کیا ہے؟
یہ ہماری معلومات اور تجربات کا نچوڑ ہے۔ خدا چاہے گا تو ان مشوروں پر عمل کرنے سے تیری ازدواجی زندگی ہمیشہ خوش و خرم رہے گی اور یہ مشورے بہت ہی آسان، بہت ہی سہل ہیں۔
نصیحتوں سے زیادہ کوئی بات خشک اور بدمزہ نہیں ہوتی۔ لیکن ایک فائدہ بھی ہے۔ نصیحت میں الفاظ کم از کم ہوتے ہیں۔ اور ہم الفاظ کے استعمال میں کفایت شعاری کے قائل ہیں۔ اور بیٹی! سوال یہ نہیں کہ ہمارا طریقہ بیان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تو کس طرح ہماری باتوں کو دل و دماغ میں جگہ دیتی ہے۔ ہمارے مشوروں کو خوشی خوشی قبول کرلے۔ انہیں اپنے گرم خون کی لالیوں میں رچالے۔ آج سے اپنی نگاہ کا زاویہ نیا کرلے۔
اور یہ ہمارے مشوروں کی فہرست بڑی ناتمام ہے۔ بہت سی کار آمد باتیں ضرور چھوٹ گئی ہوں گی۔ خدا کرے کہ ہمارے ہوش و تجربہ کی کمی کو تو اپنے ہوش و تجربہ سے پورا کرے۔ ان مشوروں میں بہت کچھ سامان تیرے شوہر کے لیے بھی ہے۔
یہ مشورے گھر کے اندر بھی کام آئیں گے اور گھر کے باہر بھی۔ ماڈرن عورت کی دنیا اب چار دیواروں میں محدود نہیں۔ اگرچہ چار دیواری اس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ زندگی خصوصاً شادی شدہ عورت کی زندگی نت نئے مسائل سے دوچار ہے۔ احمق عورتیں ان سے خوفزدہ ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ ان سے مفر نہیں۔ تو عقل کا ہتھیار سنبھال۔ اور اس میدان جنگ و جہاد میں بے خطر کود جا۔ ذرا غور کر مسائل کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ ہماری صلاحیتوں کا امتحان لیتے ہیں۔ ہماری شخصیتوں کو مضبوط و دلیر بناتے ہیں۔ اور ہمیں زیادہ گراں آفتوں سے مقابلہ کرنے کی تربیت دیتے ہیں آزمائشوں اور کبھی کبھی سنگین آزمائشوں میں ڈال کر قدرت ہمیں کندن بنانا چاہتی ہے۔ میری عزیزاز جان بیٹی! بڑے سے بڑا ہرگز کوئی شے نہیں ہے۔ اگر تو اسے کھیل اور ورزش سمجھے۔ مسئلہ تیرا فٹ بال ہے۔ تو اس کی فٹ بال نہیں۔ دنیا تیری طرف پُراُمید نگاہوں سے دیکھ رہی ہے کہ اس کی خوشحالی تیری خوشحالی سے وابستہ ہیں، تیرے مستقبل میں اس کا مستقبل ہے۔
کسی جگہ لکھا تھا کہ ایک شخص خواب میں عالم بالا کی سیر کو گیا۔ وہاں وہ اس مال گودام (اسٹور) کے پاس پہنچا جہاں قدرت کی نعمتوں کا اسٹاک رکھا ہوا تھا۔ صحت، محبت مسرت، علم، اخوت، انصاف، عقل وغیرہ۔ اس شخص نے محافظ فرشتے سے کہا کہ دنیا میں بیماریاں، نفرتیں، خود غرضیاں، لڑائیاں، بے ایمانیاں، ناانصافیاں، لالچیں، شرارتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اس لیے کچھ نعمتیں مجھے دے دو کہ میں وہاں لے جائوں۔ فرشتے نے کہا کہ قدرت اپنی نعمتیں تمہیں وہاں دے دے گی مگر بیج کی شکل میں پھل کی شکل میں نہیں۔ اس بیج سے پھل نکالنا تمہارا کام ہے۔ دنیا نام ہے بیج سے پھل نکالنے کا۔ علم سے، عقل سے، محبت سے، تدبیر سے، ہم تجھے چند نفسیاتی رہنمائیاں پیش کررہے ہیں۔ محنت اور تدابیر تیرا کام ہے۔
اور جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھ رہا ہے علم، عقل، محنت اور تدبیر کی قسمیں اور ضرورتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک صدی پہلے خاتون خانہ کا کام زیادہ نہ تھا۔ اب بین الاقوامی ریاستوں، مادّیات کی پرستش۔ سائنس کی ترقی، ایٹمی جنگوں، خلائی سفر… روز افزوں مہنگائی اور نت نئی اقتصادیات اور نفسیات نے اس کی سماجی، شہری اور خانگی ذمے داریوں میں زبردست اضافہ کردیا ہے۔ لیکن موجودہ عورت کے لیے اس کے انعام میں پھل بھی زیادہ لذیز ہے۔ مغرب کی آزادیاں ہوں یا مشرق کی پابندیاں… دونوں انتہائی غلط ہیں۔ اب تیرا کام ہے ان کے درمیان صحیح مقام ڈھونڈ نکالنا۔ کس نے کہا کہ عورت کمزور ہے۔ بالکل غلط۔ عورت بڑی طاقت رکھتی ہے جسم میں بے شک وہ مرد سے کمزور ہے۔ لیکن سوال جسمانی پہلوانی کے دنگل کا نہیں۔ جب انسان شیر ببر کو پنجرے میں بند کرسکتا ہے تو کیا عورت مرد کو مات نہیں دے سکتی۔ فیاض حقیقی نے عورت کو بہت سے ایسے اسلحہ جات عطا کیے ہیں جن کی بدولت وہ مرد پر حکمرانی کرسکتی ہے ان کو پہچاننے، تیز رکھنے اور موقع پر استعمال کرنے کا فن سیکھ… اور بس۔
ہاں! کس نے کہا کہ عورت ناقص العقل ہے۔ سراسر غلط۔ زندگی کے ہر میدان عمل میں، تاریخ گری کے ہر شعبہ میں باکمال خواتین کا تذکرہ قدم بہ قدم آتا ہے۔ علم جراحی کے ماہرین آج تک نہیں کہہ سکے کہ زنانہ اور مردانہ دماغوں کی ساخت یا قوام الگ الگ ہے۔ یا عورت کے دماغ میں مرد کے دماغ کی بہ نسبت مغز یا دوران خون، یا رگیں یا نسیں کم درجہ کی ہیں۔ اسی طرح علم نفسیات کے ماہرین عورت کے دماغ کو ایک ہی اصول کے تابع مانتے ہیں اور ایک ہی اثر کے تحت گردانتے ہیں۔ یہ بات قطعی الگ ہے کہ جسمانی لحاظ سے فطرت نے بعض کاموں پر قدرت صرف عورت کو دی ہے اور بعض کاموں پر قدرت صرف مرد کو، چند تفصیلات میں دونوں کا شوق اور تقاضا جدا جدا ہوسکتا ہے۔ لیکن جہاں تک عقل فکر اور تدابیر کا تعلق ہے دونوں ہی یکساں صلاحیتیں رکھتے ہیں۔
اور کس نے کہا کہ مرد عورت کے سر کا تاج ہے؟ صحیح کہا۔ جس طرح ایک ملکہ سلطنت کے اقتدار کا نشان اس کا تاجِ سر ہے، اسی طرح مرد عورت کا سب سے قیمتی زیور ہے۔ اس کا پرچم اقتدار ہے۔ اس کا سپہ سالارِ لشکر ہے۔ مرد بغیر عورت اتنا مجبور و محتاج نہیں جتنی عورت بغیر مرد۔ مغرب والوں کا کہنا کہ عورت مرد برابر ہیں، غلط ہے، فطرت نے مرد کو سرداری عطا کی ہے۔ کیونکہ کوئی تنظیم… خواہ وہ خانگی ہی سطح پر کیوں نہ ہو… حاکم اور محکوم کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اس سرداری پر نہ مرد کو نازاں ہونے کی وجہ ہے اور نہ عورت کو خائف ہونے کی۔ مرد حاکم ضرور ہے اور عورت محکوم۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرا ناکارہ اور فضول ہے۔ اس لیے بیٹی! تو کسی کمتری یا برتری کے غلط احساس میں مبتلا نہ ہو۔ صحیح توازن قائم رکھ۔ زندگی کی تمام مسرتیں توازن سے قائم ہیں اور توازن عقل سے۔
عورت کے ترکش میں قدرت نے تین عظیم الشان تیر رکھے ہیں جو مرد کے دل میں ہر وقت پیوست ہوسکتے ہیں۔ صحیح نشانہ بازی سے ہر مرد عورت کا جاں نثار بن سکتا ہے اور وہ سرداری جو فطرت نے مرد کے حصے میں تفویض کر رکھی ہے عورت کے حصے میں منتقل ہوسکتی ہے۔ ان تین حربوں کا نام ہے… عقل، سیرت اور نسوانیت۔

ام ایمان

حضرت فاطمہؓ بنت اسد

گزشتہ سے پیوستہ
رسول اللہ 
اللہ علیہ وسلم ابھی 35 سال کے تھے اور نبوت ملنے میں پانچ برس باقی تھے حضرت خدیجہ سے شادی اور تجارت میں منافع کے سبب مالی حالت اچھی تھی۔ اس زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کے احسانات کو یاد رکھا چنانچہ ایک دفعہ جب مکہ میں شدید گرانی پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ میرے چچا کی مالی حالت کمزور ہے اور وہ کثیر العیال بھی ہیں لہٰذا ان کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہیے چنانچہ آپ اپنے دوسرے چچا حضرت عباسؓ کے پاس گئے جو مالدار تھے ان سے کہا ’’آپ کے بھائی کا کنبہ بڑا ہے‘ مالی حالت اچھی نہیں ہے اوریہ لوگ شدید گرانی میں مبتلا ہیں لہٰذا ان کا بار ہلکا کرنے کے لیے ان سے بات کرکے ان کے ایک ایک بیٹے کواپنی کفالت میں لے لیتے ہیں۔‘‘
حضرت عباس ؓ اس بات پر راضی ہوگئے اور دونوں چچا بھتیجے ابو طالب کے پاس گئے اور اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے کہا کہ ’’عقیل اور طالب کو میرے لیے چھوڑ دو باقی تم ان میں سے جس کو لینا چاہو لے لو اس طرح رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ کو اپنے ہاں لے گئے اور حضرت عباسؓ نے حضرت جعفر کو لے لیا اس طرح حضرت علیؓ بچپن ہی سے رسول اللہ کی پرورش میں آگئے تھے اور انہیں رسول اللہ اور حضرت خدیجہ نے اپنی اولاد کی طرح پالا اس وقت حضرت علی کی عمر چار پانچ برس سے زیادہ نہ تھی یوں رسول اللہ نے اپنے شفیق چچا چچی کا بوجھ ہلکا کیا۔
بعث کے بعد جب رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے لیے دعوت کا آغاز کیا تو بنو ہاشم نے سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ حضرت فاطمہؓ بنت اسد کے سب سے چھوٹے فرزند حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ دعوت حق پر لبیک کہنے والے اولین لڑکے تھے خود حضرت فاطمہؓ بھی ابتدا ہی میں سعادت اسلام سے بہرہ مند ہوگئیں تھیں کچھ عرصے بعد ان کے دوسرے بیٹے حضرت جعفرؓ نے بھی دعوت حق کے لیے لبیک کہہ دیا علامہ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ
ایک دن رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ کے ساتھ مشغول عبادت تھے حضرت ابو طالب نے انہیں دیکھا تو حضرت جعفرؓ سے فرمایا:
’’بیٹے تم بھی اپنے ابن عم کے ساتھ کھڑے ہوجائو۔‘‘
حضرت جعفرؓ رسول اللہ کے بائیں جانب کھڑے ہوگئے عبادت کا لطف انہیں اس قدر آیا کہ پھر وہ حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے اور یوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں پناہ گزین ہونے سے پہلے ہی شرف اسلام سے بہرہ یاب ہوگئے۔
حضرت فاطمہؓ کا پور اگھرانہ رسول اللہ سے انتہائی دل سوزی کے ساتھ محبت کرتا تھا۔ رسول اللہ کی دعوت حق کو روکنے کے لیے قریش نے سوچا کہ ابو طالب کے ساتھ مل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دبائو ڈالنے کی کوششیں کرنی چاہیے۔
چنانچہ قریشی مکہ کا ایک وفد ان کے پاس گیا جس میں اشراف قریش کے بڑے بڑے سردار تھے انہوں نے ابوطالب سے کہا کہ
اے ابو طالب! آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبدوں کی برائی کی ہے ہمارے دین میں عیب نکالا ہے ہماری عقلوں کو ناحق اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ قرار دیا ہے اب آپ یا تو اس کو ہماری دل آزاری سے روکیں یا ہمارے اور اس کے درمیان سے ہٹ جائیں۔‘‘
حضرت ابوطالب نے نرمی سے بات چیت کرکے انہیں ٹھنڈا کیا۔ اور وہ واپس لوٹ گئے۔
اس کے بعد پر کئی دفعہ سردار قریش ابوطالب کے پاس آئے اور آپ کو رسول اللہ کی اعانت سے دستبردار ہونے کے لیے بھڑکایا اور ساتھ ساتھ دھمکایا بھی۔
( جاری ہے)

آخر ابو طالب نے ایک دن تنگ آکر رسول اللہ کو بلایا اور کہا ’’بھتیجے تمہاری قوم نے آکر مجھ سے یہ یہ باتیں کہی ہیں تم مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میں اٹھا نہ سکوں لہٰذا تم اپنی قوم سے وہ باتیں کہنی چھوڑ دو جو انہیں ناگوار ہیں۔‘‘
ابوطالب کی یہ بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوا کہ اب چچا کے لیے میری حمایت کرنا مشکل ہوگیا ہے آپ نے فرمایا ’’چچا جان اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دیں تو میں یہ کام نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ یا تو اللہ مجھے کامیاب فرمادے یا میں اس راہ میں ہلاک ہوجائوں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ کر رنجیدہ انداز میں چچا کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے کہ ابوطالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انہوں نے کہا:
’’اپنا کام جاری رکھو اور جو کچھ چاہو کرو خدا کی قسم میں کسی چیز کی وجہ سے بھی تمہیں دشمنوں کے حوالے نہ کروں گا۔‘‘
حضرت ابو طالب کی اس استقامت اور ثابت قدمی میں حضرت فاطمہؓقدم بہ قدم آپ کے ساتھ تھیں۔ آپ دونوں نے ہر طرح کی مخالفت کا مقابلہ کیا۔
ایک دن قریش کے لوگوں کے عزائم دیکھتے ہوئے ۔ حضرت ابو طالب نے بنی ہاشم او ربنی المطلب کو جمع کیا اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ سب مل کر رسول اللہ کی حفاظت کریں گے۔ اس بات کو سب نے قبول کیا اور ابوطالب کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے صرف ابولہب الگ کھڑا رہا۔
ابن سعد نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ جس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت زور و شور کے ساتھ ہورہی اور ابھی ہجرت حبشہ نہیں ہوئی تھی کہ ایک روز ابوطالب اور دوسرے اہل خانہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نہ پایا ابوطالب کو شبہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے اسی وقت بنی ہاشم اور بنی مطلب کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ ایک ایک خنجر یا کوئی اور ہتھیار اپنی چادر میں چھپالو اور میرے پیچھے پیچھے آئو اور میں مسجد حرام میں داخل ہوں گا دیکھو کہ سرداران قریش کی کس محفل میں ابن الحظلیہ (ابوجہل) بیٹھا ہوا ہے بس اس مجلس کے کسی فرد کو زندہ نہ چھوڑنا کیونکہ اسی مجلس کے لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کیا ہوگا۔‘‘
یہ ارادہ لے کر ابو طالب چلے اتنے میں زید بن حارثہ مل گئے اور ان سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخیر و عافیت ہیں۔
دوسرے دن حضرت ابو طالب صبح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر آئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر بنی ہاشم اور بنی مطلب کے نوجوانوں سمیت قریشی کے سرداروں کی مجلس میں پہنچے او ران سے کہا کہ :
’’اے قریش کے لوگوں! تمہیں کچھ معلوم ہے کہ میں نے کیا ارادہ کیا تھا؟‘‘
انہوں نے کہا نہیں:
’’ابو طالب نے سارا ماجرا بیان کیا اور اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ذرا اپنی چادریں ہٹائو جب انہوں نے چادریں ہٹائیں تو لوگوں نے دیکھا کہ ہر ایک کے ہاتھ میں ایک تیز ہتھیار ہے۔‘‘
پھر ابو طالب نے کہا:
’’خدا کی قسم اگر تم نے محمد کو قتل کیا تو میں تم میں سے کسی ایک کو بھی جیتا نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ ہم لڑ لڑ کر ختم ہوجائیں گے۔‘‘
اس واقعہ سے انہوں نے قریش کو اس بات کا احساس دلا دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ نے اپنے شوہر نامدار کی اس معاملے میں مکمل معاونت کی۔
انہوں نے بچپن سے لے کر جوانی تک رسول اللہ کی خدمت اور نگہداشت میں کوئی کسر باقی نہ اٹھا رکھی اور ایسا شفیقانہ سلوک کیا جیسے کوئی ماں اپنے بیٹے سے کیا کرتی ہے۔
ادھر قریش کا غصہ روزبرو بھڑکتا جارہا تھا وہ یہ بات دیکھ رہے تھے کہ ان کی ہر طرح کی مخالفت کے باوجود اسلام روز بروز پھیلتا جارہا ہے اب معاملہ مکہ تک ہی نہیں بلکہ مکہ سے باہر حبش تک اس کی جڑیں پھیل رہی ہیں کیونکہ جب قریش کے مظالم انتہا کو پہنچ گئے تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حبش کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی۔ چنانچہ بعثت کے پانچویں اور چھٹے سال مسلمانوں کے دو قافلے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے۔
حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین میں حضرت فاطمہؓ کے فرزند حضرت جعفرؓ او ران کی بیوی اسماءؓ بنت عمیس بھی تھیں ابن اسحق کا کہنا ہے کہ حضرت جعفرؓ کی ہجرت کرنے والے اولین قافلے میں شامل تھے۔
اسی اثناء میں حبشہ میں یہ مہاجرین کو یہ خبر پہنچی کہ کفار مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ دراصل واقعہ یہ ہوا کہ ایک روز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے پاس تلاوت کررہے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر سورہ نجم کی آیات جاری کردیں کلام کی تاثیر میںوہ شدت تھی کہ کفار اور مشرکین کی بڑی تعدا دجو حرم میں موجود تھی انہیں شور مچانے اور غل غپاڑہ کرکے لوگوں کو دوسری طرف متوجہ کرنے کا ہوش ہی نہ رہا وہ دم بخود آیات ربانی کے سحر میں خاموش مبہوت کھڑے رہ گئے او رجب آیات کے خاتمہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو سب کے سب حاضرین سجدے میں گر گئے۔
یہ منظر دیکھ کر وہ لوگ جو حبشہ کی طرف جانے والے تھے انہوں نے یہ خبر اس شکل میں پہنچائی کہ مشرکین قریش مسلمان ہوگئے مگر حقیقت یہ نہیں تھی چنانچہ افواہ کو سن کر بہت سے مسلمان مہاجرین مکے واپس آگئے لیکن حضرت جعفرؓ بن ابی طالب وہیں رہے بعد میں دوسرے گروہ نے جب ہجرت کی تو جعفرؓ بن ابی طالب سے حبشہ میں مل گئے۔
حضرت فاطمہؓ نے بڑے عزم اور حوصلے سے اپنے بیٹے اوربہو کی جدائی برداشت کی۔
مشرکین کو اس بات کا بڑا افسوس تھا کہ مسلمان اپنی جان اور ایمان بچا کر ایک پرامن مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے سوچا کہ سفراء کو بھیج کر حبشہ کے بادشاہ کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ کسی طرح ان لوگوں کو ہمارے حوالے کردے۔
لہٰذا انہوں نے دو نہایت سمجھدار اور گہری سوجھ بوجھ رکھنے والے اشخاص کو بھیجنے کا فیصلہ کیا چنانچہ انہوں نے عمرو بن عاص‘ عبداللہ بن ربیعہ کو اس سفارتی مہم کے لیے منتخب کیا اور ان دونوں کو بہترین تحفے اور ہدیے دے کر حبشہ روانہ کیا انہوں نے وہاں پہنچ کر وہ تحائف حبشہ کے بادشاہ کو پیش کیے۔
ساتھ ہی عرض کی اکہ اے بادشاہ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ نہ سمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں انہوں نے ایک نیا دین ایجاد کیا ہے ہمیں ان کے باپ چچا اور خاندان کے سرداروں نے بھیجا ہے کہ آپ انہیں ہمارے ساتھ واپس بھیج دیں۔
ان لوگوں کی بات مکمل کرنے کے بعد دربار کے مشیروں اور وزیروں نے ان کی تائید کی اور کہا کہ یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ان کو ان کے خاندان والوں کے حوالے کردینا چاہیے۔
لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قصے کو محض ایک طرف سے سن کر نہیں نمٹانا چاہیے بلکہ دوسری طرف کی بات بھی معلوم کرنا چاہیے انصاف کا تقاضا یہ ہے چنانچہ اس نے دوسرے دن مسلمانوں کو بلابھیجا۔دوسرے دن مسلمانوں نے دربار آنے سے پہلے حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کو اپنا ترجمان بنایا۔
حضرت جعفرؓ نے پوری صورتحال نجاشی کے سامنے رکھ دی یہاں تک کہ دوسری ملاقات میں نجاشی نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں دریافت کیا تو حق بات بتانے میں ذرا پیچھے نہ ہٹے حالانکہ جلاوطنی کی حالت میں تھے پیچھے کوئی مضبوط سہارا نہ تھا۔ سارے اہل دربار رشوت کھا کر مسلمانوں کو دشمن کے سپرد کردینے کے لیے تیار تھے اور اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ بادشاہ حق بات سن کر بگڑ نہ جائے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کلمہ حق پیش کرنے میں ذرا برابر کو تاہی اختیار نہ کی۔ یہ ماں کی تربیت تھی کہ حق کے سینہ سپر ہونے میں انہوں نے کسی قسم کی گھبراہٹ اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا۔
بعثت کے ساتویں سال مشرکین قریش نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک بنو ہاشم او ربنو مطلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالے نہ کریں گے کوئی شخص ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا نہ ان سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے گا او رنہ رشتہ ناتا رکھاجائے گا اس فیصلے کو انہوں نے تحریر کی شکل دی اور ہر قبیلے کے نمائندے نے اس پر اپنے دستخط کیے اور پھر اس معاہدے کو حرم کے دروازے پر لٹکادیا گیا۔
حضرت ابوطالب کو جب اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے بنوہاشم اور بنی عبدالمطلب کو بلایا اور ان سے کہا کہ ہم سب کے سب محمد کے ساتھ شعب ابی طالب میں جمع ہوجائیں اور آخر وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں اس تجویز کو دونوں خاندانوں نے قبول کیا ان میں کافر اور مسلمان سب کے سب تھے۔ چنانچہ دونوں خاندان ابو طالب کی ہدایت پر شعب ابی طالب میں محصور ہوکر بیٹھ گئے۔
بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہے اس دوران قریش نے مکہ نے ایسی ناکہ بندی کی تھی کہ کھانے پینے کی چیزیں پہنچنے کے تمام راستے بند ہوگئے تھے اس پریشان کن حالات میں حضرت فاطمہؓ بنت اسد مکمل استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہ کا ساتھ دیا ادھر اس تحریری معاہدے کو ختم کرنے کے لیے اللہ نے ایک ایسے لشکر کو بھیجا جو کسی کی نظر میں نہ آیا اور یوں دیمک نے اس سارے معاہدے کو چاٹ ڈالا سوائے اس جگہ کہ جہاں اللہ کا نام لکھا ہوا تھا۔
اللہ نے بذریعہ وحی یہ بات اپنے رسول تک پہنچادی رسول اللہ نے اس کا ذکر اپنے چچا ابوطالب سے کیا انہوں نے پوچھا کیا تم کو تمہارے رب نے خبر دی ہے؟
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔‘‘
ابوطالب نے اس بات کو اپنے بھائیوں اور خاندان کے بزرگوں کے سامنے رکھا انہوں نے پوچھا ’’آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘
’’ابو طالب نے کہا کہ واللہ محمد نے کبھی مجھ سے کوئی بات جھوٹی نہیں کہی ہے۔‘‘
رسول اللہ نے فرمایا’’میری رائے یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے بہترین کپڑے پہن کر قریش کی طرف نکلیں اور ان کو یہ بات بتائیں۔‘‘
چنانچہ سب نکلے اور حجر کی طرف گئے جہاں قریش کے بڑے اور دانا لوگ بیٹھا کرتے تھے ان لوگوں کو آتے دیکھ کر سب حاضر کی نظریں ان کی طرف اٹھ گئیں اور وہ سوچنے لگے کہ یہ لوگ آخر کیا کہنے کے لیے آئے ہیں؟
ابوطالب نے کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ خبر دی ہے اور خدا کی قسم کبھی وہ جھوٹ نہیں بولا ہے۔ اب تم وہ صحیفہ منگو اکر دیکھو اگر میرے بھتیجے کی بات سچی ہے تو ہمارے ساتھ اپنی قطع رحمی سے باز آجائو اور اگر وہ جھوٹا ہے تو میں اے تمہارے حوالے کردوں گا۔
حاضرین محفل نے کہا کہ آپ نے یہ انصاف کی بات کی ہے۔ پھر وہ صحیفہ منگوایا گیا کھول کر دیکھا تو بات وہی سچی نکلی جس کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور سر جھک گئے۔
ابو طالب نے کہا کہ اب تم پر واضع ہوگیا کہ ظلم اور قطع رحمی اور بدسلوکی کے مرتکب تم ہی لوگ ہوئے ٹھے پھر ہم کس قصور میں محبوس رکھے جائیں؟
پھر ابوطالب اپنے ساتھیوں کے ساتھ کعبہ کے پردوں کے پیچھے گئے اور بیت اللہ کی دیواروں سے لپٹ کر انہوں نے دعا مانگی کہ
’’خدایا ان لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے ہم سے قطع رحمی کی اور وہ کچھ اپنے لیے حلال کرلیا جو ہمارے معاملے میں ان پر حرام تھا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اپنے ہمراہیوں کو لیے ہوئے شعب ابی طالب کی طرف روانہ ہوگئے ان کے جاتے ہی بہت سے ُوگ آپس میں اس ظلم پر ملامت کی جو انہوں نے روا رکھا ہوا تھا ان میں سے مطعم بن عدی‘ عدی بن قیس‘ زمعہ بن اسود‘ ابوالنجتری بن ہاشم اور زبیر بن الجاامیہ پیش پیش تھے پھر یہ لوگ ہتھیار بند ہوکر شعب ابی طالب گئے اور بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب سے کہا کہ اب آپ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جاکر آباد ہوں۔
لیک محصوری کے خاتمے کو ابھی چند مہینے ہی ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پے درپے جدائی کے صدمہ آپڑے یہ جدائی اپنے شفق و حامی مددگار چچا ابوطالب اور آپ کی انتہائی وفادار اور غمگسار بیوی حضرت خدیجہؓ کے تھے۔
ابن سعد لکھتے حیں کہ 15 شوال 10 بعد بعثت حضرت ابو طالب کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر 80 سال تھی اس سال کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’عام الحزن‘‘ کا سال قرار دیا ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا اور دوسری طرف یکایک قریش کے لوگ یہ دیکھ کر کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی پشتیبان نہیں رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر بہت جری ہوگئے تھے۔
ایک روز قریش کے ایک اوباش نے سربازار حضور پاک کے سر مبارک پر مٹی ڈال دی آپ اس حال میں گھر تشریف لے گئے۔ آپ کی صاحبزادی آپ کا سر دھوتی جاتی اور روتی جاتی اور حضور انہیں تسلی دینے کے لیے یہ فرماتے جاتے تھے کہ:
’’نہ رو میری بیٹی اللہ تیرے باپ کا حامی ہے۔‘‘
شفیق چچا کے رخصت ہونے کے بعد آپ کی سرپرستی کی ذمہ داری حضرت فاطمہؓ نے اٹھالی اور ایک عورت ہونے کی حیثیت سے جو کچھ بن آیا آپ کے لیے کیا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرزندوں سے زیادہ چاہتی تھیں۔
جب عام مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا تو حضرت فاطمہؓ بھی ہجرت کرکے مدینہ چلی گئی۔ لیکن اپنے چھوٹے فرزند حضرت علیؓ کو رسول اللہ کے ساتھ چھوڑ گئیں۔
رسول اللہ کے ہجرت موقع پر ان کے لخت جگر حضرت علی کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بستر پر آپ ؓ کو سلایا اور ہجرت کے لیے روانہ ہوئے۔
ہجرت کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان پر تشریف لے گئے اور رات ہونے تک وہیں رہے تاکہ دشمن کو کسی معاملے میں شک نہ ہو رات کو اپنے طے شدہ وقت کے مطابق وہ بارہ افراد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کے لیے مامور کیے گئے تھے پہنچے لیکن ان لوگوں کے آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علیؓ کو اپنے بسر پر اپنی سبز چادر اڑھا کر لٹادیا تھا اس لیے دشمن باہر سے تانک جھانک کر جب بھی دیکھتے یہ ہی سمجھتے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر سورہے ہیں وہ لوگ رات بھر باہر بیٹھے آپ کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہے تاکہ صبح سویرے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلیں گے یکبارگی آپؐ پر ٹوٹ پڑیں۔
اسی دوران جب کہ دشمن گھیرا ڈالے ہوئے تھے رات کو کسی وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اطمینان سے باہر تشریف لائے اوران کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل کر چلے گئے اس وقت آپ سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھ رہے تھے صبح ہوئی تو ان لوگوں نے حضرت علیؓ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترپر سے اٹھتے دیکھا۔
تب ان کو علم ہوا کہ رسول اللہ تو کبھی کے جاچکے ہیں انہوں نے حضرت سے پوچھا ’’تمہارا صاحب کہاں ہے؟‘‘
انہوں نے جواب دیا ’’مجھے کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں تشریف لے گئے ہیں میں ان پر کوئی نگراں تو نہیں ہوں تم لوگوں نے انہیں نکلااور وہ نکل گئے۔‘‘
یہ سن کر ان لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی انہوں نے حضرت علیؓ کو ڈانٹا ڈپٹا مارا پیٹا کچھ دیر مسجد حرام میں لے جاکر بند رکھا مگر جب کسی بھی طریقے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ معلوم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو انہیں چھوڑ دیا۔
ہوسکتا ہے کہ انہیں اس لالچ نے بھی حضرت علیؓ کو چھوڑنے پر آمادہ کی اہو کہ انہیں ان سے اپنی امانتیں وصول کرنی ہوں اور شاید ان کے ضمیر نے بھی ان کو ملامت کیا ہو کہ تم جس شخص کو قتل کرنے کے لیے جمع ہوکر آئے اس کے اخلاق کی بلندی کا یہ عالم ہے کہ وہ قتل گاہ سے نکلتے ہوئے بھی اپنے دشمنوں کی امانتوں کو ان تک بحفاظت پہنچا دینے کے لیے فکر مند ہے۔
ہجرت نبوی کے دو سال بعد حضرت علیؓ کا نکاح رسول اللہ کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرہؓ سے ہوگیا اور یوں ایک گھر میں دو فاطمہؓ جمع ہوگئیں ایک ساس اور ایک بہو۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمدہ اور نفیس بہت بڑی چادر مجھے دی اور ارشاد فرمایا کہ اسے فواطم میں برابر کی تقسیم کردو فواطم فاطمہ کی جمع ہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں چار خواتین فاطمہ نام کی جمع تھیں۔
(1) فاطمہ بنت اسد
(2) فاطمہ بنت محمد
(3) فاطمہ بنت حمزہ
(4) فاطمہ بنت شیبہ
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تعمیل ارشاد کرتے ہوئے چادر کے چار حصے کرتے ہوئے چاروں خواتین کو ایک ایک حصہ دے دیا۔
حضرت فاطمہؓ بنت اسد ہجرت کے بعد چند سال ہی زندہ رہیں حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہؓ بنت اسد کی وفات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ اسی وفت ان کے گھر پہنچے اور میت کے پاس بیٹھ کر افسردہ انداز میں فرمایا۔
اماں جان! اللہ آپ کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے میری والدہ کے بعد کتنی مرتبہ آپ خود بھوکی رہیں اور مجھے خوب کھانے کودیا ‘ پہنے کو لباس دیا‘ کھانے کے لیے عمدہ چیزیں فراہم کیں اور خود ان سے اپنا ہاتھ روکے رکھا یقینا آپ کا یہ عمل اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کے لیے تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ماں جیسی چچی جان کی یاد میں بہت ملول اور غمزدہ ہوئے آپ کے چشم مبارک سے سیل اشک رواں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر والوں کو اپنی قمیض مبارک مرحمت کی اور ہدایت کی کہ انہیں میری قمیض کا کفن پہنائو۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ ؓ بن زید اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو حکم دیا کہ جنت البقیع میں جاکر قبر کھودیں جب وہ قبر کا اوپر کا حصہ کھودچکے تو سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم خود نیچے اترے اور اپنے دست مبارک سے لحد کھودی اور خود ہی اس میں سے مٹی نکالی جب یہ کام پورا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لحد کے اندر لیٹ گئے اور دعا مانگی الٰہی میری ماں کی مغفرت فرما اور ان کی قبر کو وسعت دے۔
یہ دعا مانگ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر سے باہر نکلے تو شدت غم سے ریش مبارک ہاتھ میں تھی اور رخسار پر آنسو بہہ رہے تھے لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو فرمایا’’ابو طالب کے بعد ان سے زیادہ میرے ساتھ کسی نے مہربانی نہیں کی میں نے اپنی قمیض ان کو اس لیے پہنائی کہ جنت میں انہیں جگہ ملے اور قبر میں اس لیے لیٹا کہ قبر میں آسانی ہو۔‘‘
تاریخ میں پانچ ایسی خوش نصیب شخصیات ہیں جن کی قبروں میں رسول اقدس جائزہ لینے کے لیے خود اترے ان کے نام یہ ہیں۔
(1) حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ
(2) حضرت عبداللہ مربی رضی اللہ عنہ جو ’’ذوالجادین‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہوئے تھے۔
(3 حضرت ام رومان رضی اللہ عنہ جو آپ کی خوشدامن اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ تھیں۔
(4) حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہ
(5) اپنے بیٹے کی قبر میں جو حضرت خدیجہ الکبری کے بطن سے تھا اور بچپن میں ہی اللہ کو پیارا ہوگیا تھا۔
ایک روایت میں یہ ہے کہ اس موقع پر جب کہ حضرت فاطمہؓ بنت اسد لحد میں اتاری جارہی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو فاطمہؓ بنت اسد پر درود پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
حضرت فاطمہ بنت اسد کے فرزند عقیلؓ ام ہانی اور ججانہ نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔ ججانہ کی زندگی کے بارے میں تاریخ خاموش ہے البتہ ام ہانی کے واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا آغاز اپنی ان ہی چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کے گھر سے ہوا تھا جہاں آپ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے ہوئے تھے اورمکان کی چھت کھول کر جبرائیل امین اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے گئے۔
حضرت فاطمہؓ بنت اسد کے سارے بچے ناموس رسالت کے محافظ و شیدائی تھے۔ ایک ماں کے لیے سکون قلب کی اس سے بڑھ کر کیا بات ہوگی۔ اور جس خاتون کو سید المرسلین کی قمیض کا کفن اور آخری آرام گاہ کو جسم مبارک کا لمس نصیب ہوا ہو ان کے مراتب کے کیا ہی کہنے ہیں بے شک اللہ اور اللہ کا رسول ان سے راضی اور وہ اللہ کی رضا پر مطمئن تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ