مہر النساء

129

حاملہ خواتین کے لیے بہترین غذائیں

زمانہ حمل میں ماں کی متوازن اور صحت بخش غذا اس کے شکم میں پرورش پانے والے بچے کے لیے زندگی کے بہترین آغاز کی ضمانت ہے۔ نہ صرف آغاز میں بلکہ آئندہ زندگی میں بھی یہ بچہ ماں کی اس متوازن اور صحت بخش غذا کے فائدے اُٹھاتا رہتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد بھی اگر ماں متوازن اور صحت بخش غذا کا سلسلہ جاری رکھے تو نہ صرف اس کا دودھ پینے والے بچے کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ آئندہ بچے کی غذائی عادات اور معمولات پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لہٰذا جو خواتین ماں بننے کا منصوبہ بنا رہی ہیں یا جو ماں بننے والی ہیں (یعنی حاملہ ہیں) ان سب کو فوری طور پر اپنی غذا کی جانب توجہ دینی چاہیے اور ماں بننے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔
جو خواتین ماں بننے کی خواہش مند ہیں انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر عورت کا وزن معمول سے کافی کم یا کافی زیادہ ہو تو دونوں صورتوں میں استقرار حمل کے امکانات کم ہوجاتے ہیں تاہم جن خواتین کا وزن زیادہ ہے انہیں اسے کم کرنے کے لیے شدید قسم کی ڈائٹنگ نہیں شروع کردینی چاہیے کیونکہ اس عمل سے ان کا جسم بعض ضروری حیاتین اور معدنیات سے محروم ہوسکتا ہے۔
ماں بننے کی خواہشمند عورت کو تو احتیاط کی ضرورت ہے ہی لیکن باپ بننے کے خواہشمند مرد کو بھی اپنے طرزِ زندگی میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ اسے بھی صحت بخش غذا کھانی چاہیے۔ ان دونوں کو چاہیے کہ کیفین کا استعمال بھی کم کریں، کیونکہ بعض تحقیقی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین کی زیادتی ماں اور باپ بننے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔
یوں تو ایک حاملہ عورت کے لیے صحت بخش غذا وہی ہے جو استقرار حمل سے قبل اس کے لیے صحت بخش تھی تاہم بعض غذائی اشیا ایسی ہیں جنہیں حمل کے زمانے میں زیادہ کھانا چاہیے اور بعض ایسی ہیں جن سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چاول، پاستا، دلیا، روٹی اور آلو جیسی نشاستے دار اشیا سے جسم کو توانائی ملتی ہے جس کی حمل کے دوران میں بہت ضرورت رہتی ہے۔ اگر چاول غیر مصفا اور روٹی چوکر والی ہو تو اس سے جسم کو ریشہ بھی خوب ملے گا۔
پھلوں اور سبزیوں میں حیاتین اور معدنیات بہت پائے جاتے ہیں لہٰذا مناسب مقدار میں روزانہ کم از کم 5 بار یہ غذائیں کھائیں۔ زمانہ حمل میں پروٹین بہت اہم ہے، کیونکہ یہ بچے کے عضلات، ہڈیوں اور اعضا کی تشکیل اور نشوونما میں بڑا نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ لہٰذا اس زمانے میں گوشت، مچھلی، دالیں، انڈے، مرغی کا گوشت وغیرہ استعمال کیجیے۔ یہ وہ غذائیں ہیں جن سے پروٹین حاصل ہوتا ہے۔
دودھ اور دودھ سے بنی اشیا میں حیاتین (وٹامن ڈی) اور کیلشیم خوب ہوتا ہے جو بچے کے جسمانی ڈھانچے اور دانتوں کی تشکیل کے لیے بہت ضروری ہے، لہٰذا روزانہ تھوڑا سا دودھ، دہی، پنیر وغیرہ ضرور کھانا چاہیے۔ کم بالائی والا دودھ پئیں یا اس دودھ سے بنی چیزیں کھائیں۔
اپنی غذا میں چکنائی شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حاملہ عورتوں اور تمام لوگوں کو بھی یہ چاہیے کہ حیوانی ذرائع مثلاً مکھن، چربی وغیرہ کے بجائے نباتی ذرائع مثلاً زیتون کے تیل، نباتی مارجرین وغیرہ سے اپنے جسم کی ضرورت کی چکنائی حاصل کریں۔ البتہ اس مقصد کے لیے روغنی مچھلی مثلاً سلیمانی مچھلی، سرمئی وغیرہ، ایک بہت اچھا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا ہفتے میں 3 بار یہ مچھلی کھائیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روغنی مچھلی سے بلند فشار خون میں بھی افاقہ ہوتا ہے۔
اکثر زمانہ حمل میں قے اور متلی کا زور ہوتا ہے لہٰذا روغنی کھانوں سے پرہیز کیجیے۔ ادرک اور لیموں کو چائے کی طرح پیجیے۔ خیال رہے کہ کیلے، ادرک، سبزیوں، غیر مصفا چاول، مچھلی اور ناشپاتی سے متلی میں کمی ہوتی ہے۔ صبح بستر سے اُٹھنے سے قبل حاملہ خواتین کو کوئی چیز کھا لینی چاہیے۔ اس سے بھی متلی کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر متلی بہت زیادہ ہو تو معالج سے مشورہ کیجیے۔
حمل کے زمانے میں سینے کی جلن سے بچنے کے لیے چکنے اور مسالے دار کھانوں سے پرہیز کیجیے۔ کھانا تھوڑا تھوڑا کرکے کھائیے۔ کھانے کے فوراً بعد لیٹنے یا بیٹھنے کے بجائے تھوڑا سا ٹہل لیا جائے تو ہضم میں مدد ملتی ہے۔ رات کو سونے سے قبل دودھ کا چھوٹا گلاس پی لینے سے بھی سینے کی جلن کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے اور اگر عام چائے کے بجائے پودینے کی چائے نیز عام کوفی کے بجائے پیپرمنٹ کی چائے پئیں تو اس سے بھی سینے کی جلن میں افاقہ ہوسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ