رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتیں

111

لوگوں کے کام آنا
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جس نے کسی مومن سے دُنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کردے گا اور جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی اللہ تعالیٰ اس پر دُنیا و آخرت میں آسانی فرما دے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے اور جو کسی علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلا‘ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لیے جنت کا کوئی راستہ آسان کردے گا۔ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جب بھی کچھ لوگ جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھتے ہیں اور اس پر باہم غور و فکر کرتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور ان پر رحمت چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں (اپنے پروں سے) ڈھک لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس کے لوگوں (فرشتوں) میں کرتا ہے اور جس کا عمل ہی سست ہو اس کا نسب اسے تیز رفتار نہیں بنا سکتا (یعنی نسب اس کے عمل کی تلافی نہیں کرسکتا)۔ (مسلم)۔
اسلامی اخوت
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال و دولت کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ نہ باہم حسد کرو، نہ مکر و فریب سے کام لو، نہ غصہ کرو، نہ ترک تعلق کرو اور نہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے سودے پر (اس کا سودا توڑنے کے لیے) سودا کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جائو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسوا کرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے، نہ اسے ذلیل سمجھتا ہے۔ آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا: تقویٰ یہاں (دل میں) ہے۔ آدمی کے بُرا ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر و ذلیل سمجھے۔ ہر مسلمان پر مسلمان کا خون، مال اور آبر و حرام ہے۔ (مسلم: ۲۵۶۴)
مسکینوں سے محبت
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے مجھے 7 چیزوں کی وصیت فرمائی:
۱۔ مسکینوں سے محبت کروں اور ان سے قریب رہوں۔
۲۔ اپنے سے نیچے والے کو دیکھوں، اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں۔
۳۔ رشتے داروں سے تعلق جوڑے رہوں، چاہے وہ مجھ پر ظلم ہی کیوں نہ کریں۔
۴۔ ’’لاحول ولاقوۃ الاباللہ‘‘ زیادہ سے زیادہ پڑھا کروں۔
۵۔ حق بات کہوں چاہے وہ کڑوی ہی کیوں نہ ہو۔
۶۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کروں۔
۷۔ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگوں۔ (احمد و طبرانی)
حسنِ اخلاق
حضرت ابوالدردہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: قیامت کے دن بندے کے میزان میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ فحش گو اور بدکلام کو ناپسند فرماتے ہیں۔ (ابودائود و ترمذی)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: مومنین میں ایمان کے اعتبار سے سب سے مکمل، سب سے اچھے اخلاق والا شخص ہے اور تم میں سب سے بہتر لوگ وہی ہیں جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور میرے سب سے قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھے ہیں اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مجھ سے سب سے زیادہ دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جو تم میں زیادہ بڑھ چڑھ کر بولنے والے، زیادہ چبا چبا کر بولنے والے اور ’متفقھین‘‘(ڈینگ مارنے والے) ہیں۔ دریافت کیا گیا: یا رسول اللہؐ ’’متفیھون‘‘ کون لوگ ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: متکبر لوگ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ