بدلہ

113

ہاجرہ ریحان

گزشتہ سے پیوستہ
میں اس ایک واقعے کے بعد جتنا بھی عزیزہ سے دور ہونے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی میرے قریب آتی جاتی… عزیزہ بچپن سے بیمار رہتی تھی اور اس کی صحت کبھی بھی ایسی نہ ہو پائی کہ وہ اکیلے نڈر ہو کر اسکول کالج جاسکتی لہٰذا عابدہ آنٹی اس کو میرے قریب رکھنا چاہتی تھیں اور یوں ہم دونوں نے ایک ہی اسکول اور کالج سے پڑھائی مکمل کی اور ان تمام عرصے کا ساتھ بھی ماں بیٹی سے میری نفرت کو کم نہیں کرسکا تھا… اس کے ساتھ بیٹھنے‘ کھڑے ہونے یہاں تک کہ وین میں ساتھ سفر کرنے سے بھی میں کتراتی تھی… مگر وہ ایسا کوئی موقع جانے نہ دیتی۔ یوں ہم نے ایک ہی مضمون میں ماسٹرز کیا اور اتفاق سے ایک ہی کمپنی میں ہمیں ٹریننگ کے لیے رکھ لیا گیا۔
6مہینے کی ٹریننگ کے بعد ہماری کمپنی نے تمام ہی نئے آنے والوں کو بینکاک اپنے آفس میں تقسیم سرٹیفکیٹس کی تقریب میں بھیجا جس میں مجھے اور عزیزہ کو باقاعدہ کمپنی کی طرف سے جاب کی آفر بھی ملنا تھی لہٰذا میں دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔
ہم سب پاکستانیوں نے مل کر کمپنی کو درخواست دی کہ ہمیں بینکاک کی سالِ نو کی رات باہر گزارنے کی اجازت دی جائے جس کے بدلے ہم نے ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور اچھے بچوں کی طرح ایک ساتھ ہوٹل میں واپس آجانے کا حلف نامہ بھی بھر کر دے دیا تھا۔
بینکاک رات کا شہر ہے‘ یہ رات کو جاگتا ہے‘ ہمیں اس بات کا احساس پہلی ہی رات کو ہو گیا تھا۔ ہم نے سالِ نو کی پہلی رات کے اجتماع میں جو آتش بازی کا اہتمام تھا‘ اس کی بڑی دھوم سنی تھی اور وہی دیکھنے ہم اس میدان میں شام سے ہی آچکے تھے۔ لوگوں کا ہجوم بڑھتا چلا جا رہا تھا‘ لوگ دھکا نہیں دے رہے تھے مگر آگے جانے کے جگہ بھی نہیں مل رہی تھی‘ راستہ بنانا مشکل ہو رہا تھا‘ ہم سب ڈرے ہوئے بھی تھے اور جوش بھی خوب تھا۔ ہماری پوری ٹیم ایک لائن میں آگے بڑھ رہی تھی… مزے کی بات یہ تھی کہ اتنے اور نسل کے لوگ میں ہم سب بھی گم سے ہو گئے تھے اور دور سے تو پہچان میں بھی مسئلہ ہوتا تھا۔ ہمیں کسی ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں سے ہم سکون سے بیٹھ کر نئے سال کی خوشی میں ہونے والی آتش بازی دیکھ سکیں۔ سب سے آگے عثمان تھا کیونکہ وہ ہم سب میں زیادہ لمبا اور طاقتور تھا… اس کے بعد سلمان‘ کومل‘ سعدیہ‘ سعد پھر میں اور آخر میں کمزور دبلی سی عزیزہ تھی۔ عثمان نے رش میں گھسنے سے پہلے ہدایت دی تھی کہ اپنے پیچھے والے کا خیال رکھنا ہے ورنہ ہم بکھر گئے تو اس رش میں ملنا ناممکن ہے… بس اتنا خیال رکھا جائے کہ میرے پیچھے جو تھا وہ موجود رہے۔ انجان لوگوں کے اس رش میں پھنس جانے کا مطلب کچھ اور بھی ہو سکتا ہے وہ ہمیں ڈرا دھمکا بھی چکا تھا۔ (جاری ہے)
میرے آگے سعد بار بار مجھے پیچھے مڑ کر دیکھ چکا تھا جب کہ میں عزیزہ کو نظروں میں رکھ کر چل رہی تھی اس کو ہم نے بیچ میں رکھا تھا مگر وہ اپنی کمزور صحت اور ہلکی چال کے باعث سب سے پیچھے ہو گئی تھی۔
شور اتنا تھا کہ آواز دینے یا پکارنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔ ہر دو قدم پر بڑے بڑے اسپیکر لگے ہوئے تھے جن میں وہاں موجود مختلف ملکوں کے باشندوں کو خوش کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً ان کے ہاں کے مشہور گانے زور و شور سے لگائے جارہے تھے ایسے ہی ہماری سماعتوں نے جنید جمشید کا گانا ’یہ شام پھر نہیں آئے گی…‘ ڈسکو جھنکار کے ساتھ سنا تو ہم بھی جھومنے لگے۔ اچانک عثمان کی رفتار تیز ہو گئی شاید اس کو کوئی خالی جگہ نظر آگئی تھی اور وہ اسے گھیر لینا چاہتا ہوگا۔ کسی کو موقع نہ ملا کہ اپنے پیچھے آنے والے کو خبردار کرتا مگر سعد جب بھاگا تو اس نے پیچھے مڑ کر دونوں ہاتھوں سے مجھے اپنے پیچھے تیزی سے آنے کا اشارہ کر دیا میں نے بھی بھاگنا شروع کردیا اور اسی وقت مجھے محسوس ہوا کہ عزیزہ میرے پیچھے نہیں ہے میں نے بھاگتے بھاگتے مڑ کر دیکھا تو واقعی مجھے عزیزہ کہیں نظر نہ آئی بس اس کے کالے دوپٹے کی جھلک سی محسوس ہوئی اور اسی وقت میری نفرت امنڈ کر مجھ پر غالب آگئی۔
میں نے دل میں سوچا اچھا ہو اگر گم ہو جائے اس رش میں بے ہودہ… اس کو پتا چلے جب پوری رات اس کو یہاں اکیلے گزارنی پڑے جب اسے رش سے نکلنے کا راستہ نہ ملے گا جب یہ ہم سب کو پوری رات پاگلوں کی طرح کھوجتی رہے گی تو دماغ ٹھکانے لگے گا… مجھے چور بنایا تھا میں تم کو بھی کسی قابل نہ رہنے دوں گی۔ دونوں ماں بیٹی کو خوب سبق ملے گا… میں تو پاکستان جا کر سب کو ہی بتا دوں گی کہ ہم نے پوری رات کے لیے عزیزہ کو کھو دیا تھا… ہم سب تو چند گھنٹے گزار کر واپس ہوٹل چلے گئے تھے مگر اُس شباب کباب کی رات بھر کی محفل میں عزیزہ نے کیا کیا… کون کیا کہہ سکتا ہے پر کیا پتا عزیزہ جان بوجھ کر ہم سے الگ ہوئی ہو؟‘
عزیزہ کے کمزور اور لاغر وجود سے امید بھی یہی کی جاسکتی تھی کہ اگر وہ کھو گئی تو پھر نہیں ملے گی اور میں ان چند لمحوںمیں بہت سی باتیں‘ جو میں عابدہ آنٹی کو آج رات ہی فون پر اور کل آفس میںعزیزہ کے غائب ہونے پر کہوں گی… تفصیل سے سوچ لیں اور آخری بار پیچھے مڑ کر دیکھا… جو ذرا سے دوپٹے کی جھلک تھی وہ بھی غائب ہوچکی تھی… عزیزہ واقعی اجنبی شہر کے بے ہنگم رش میں گم ہو گئی تھی اور بس یہیں ایک وقت جیسے میرا دل رک گیا۔
میں جو اب تک دوڑ لگا رہی تھی اپنی بے ربط سانس کے ساتھ ایک ہی جگہ تھم گئی… یہ تھکن نہیں تھی… عزیزہ کے یوں اچانک غائب ہوجانے کا خوف تھا کہ میں چند لمحوں کے لیے خود کو ہوا میں تحلیل محسوس کرنے لگی۔ یہ میں نے کیا کر دیا… اپنی اتنی معصوم سی عزیزہ کو کھو دیا… یہ مجھ سے کیا ہوگیا… عزیزہ مجھ سے بچھڑ گئی… ہجوم اسی جوش سے میرے ارد گرد آگے پیچھے سے گزر رہا تھا۔ اتنے برسوں کی دل میں دبی ہوئی نفرت اسی جوش بھرے ہجوم میں کہیں بکھر گئی… ہر سوچ جلن یہاں تک کہ خود کے بھی ہجوم میں گم ہو جانے کا احساس ہونے پر میں نے سب بھول کر عزیزہ کی جانب دوڑ لگا دی… یہ نہیں ہوسکتا… میں اور عزیزہ ساتھ آئے ہیں ساتھ ہی جائیں گے… اب چاہے رات اکیلے گزارنی پڑے تو بھی کم از کم ہم دونوں ساتھ ہوں گے۔ تھوڑی ہی دور جا کر مجھے وہ کمزور سی پتلی دبلی سی نظر آگئی… میرا نشان کھونے کے باعث وہ بھی اپنی جگہ کھڑی تھی اور ڈر سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر خود کو شتر مرغ کی طرح محفوظ سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ میں نے دور سے ہی اسے دیکھ کر ایک دو لمحہ رک کر سکھ کا سانس بحال کیا اور پھر قریب پہنچ کر ہلکے سے اُس کا کندھا ہلایا تو اس نے آنکھوں پر سے دھیرے دھیرے ہاتھ ہٹائے اور مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں سے ٹپاٹپ آنسو بہنے لگے… میں نے بڑے بردبار انداز میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ہی تھا کہ وہ مجھ سے لپٹ گئی میں بھی جیسے بڑی بہن کی طرح اسے چپ کرانے اور دلاسہ دینے میں لگ گئی کہ اب کی بار کسی نے میرے کندھے کو زور سے جھنجھوڑا۔
ہم دونوں نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا تو عثمان کھڑا تھا وہ سب کو مشکلوں سے تلاش کی ہوئی جگہ پر بٹھا کر ہمیں ڈھونڈتا آیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے جھنجھلاہٹ نمایاں تھی… اس نے غصے سے پوچھا ’یہ جو بھرے بازار میں تم دونوں فلم بیچ رہی ہو‘ اس کا نام کیا رکھا ہے؟‘
عزیزہ روتے روتے ہنس پڑی… میں نے مسکرا کر جواب دیا ’حیوان بنا انسان…‘

Print Friendly, PDF & Email
حصہ