حجاب بنا

132

عفت مظہر احسن
فیشن

پردہ مسلمان عورت کے لیے فرض قرار پایا۔ پردے کی غرض و غایت یہ ہے کہ مسلمان عورت کا تقدس پامال نہ ہو۔ وہ کسی کی بدنظری اور چھیڑ چھاڑ کا شکار نہ ہو، اور پردے کے قلعے میں محفوظ و مامون رہے۔ لیکن جدیدیت اور مرعوبیت کی تیز آندھی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور افسوس صد افسوس پردہ بھی جدیدیت کی سولی پر لٹک گیا۔
اسلامی دنیا میں جہاں کہیں دیکھیں۔ پردے کے لیے صرف اور صرف کالے برقعے نظر آئیں گے۔ سعودی عرب، بحرین، مصر، مسقط، ایران، دبئی رنگین برقعوں کا تصور کہیں دور دور تک نہیں۔ پاکستان کے ہر مدرسے میں یونیفارم کے طور پر کالا بُرقع پہنا جاتا ہے، ایک ہی طرح کا کھلا، چوڑا، غیر دلکش، سادا اور حیا دار برقع، بچیاں اور اساتذہ سب ایک ہی رنگ میں رنگی ہوئی، کسی برقعے کی کوئی نمایاں خصوصیت کوئی الگ پہچان نہیں۔ (یہی برقعے کا اصل مقصد ہے)۔
کالے رنگ کا کپڑا غالباً برقعے کے طور پر اِس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ کالے رنگ سے نظر ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہے، اٹکتی نہیں، اُلجھتی نہیں اور کالا رنگ جاذبِ نظر اور دلکش نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں آج سے 20، 25 برس پیچھے دیکھیں تو صرف کالے رنگ کے ہی برقعے پہنے جاتے تھے۔ پھر اچانک بنا کچھ سوچے سمجھے رنگین برقعوں کی وبا پھوٹ پڑی اور رنگین برقعے 80 فیصد خواتین کی توجہ کا مرکز بن گئے اور رنگ بھی ایسے کہ اللہ کی پناہ، شوخ و چنچل کھلتے ہوئے رنگ، گلابی، کاسنی، طوطی اور حتیٰ کہ میرون۔
سالانہ اجتماع میں ایک خاتون سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے تیز بادامی رنگ پر کالے چیک کا برقع پہنا ہوا تھا۔ (جو دور سے نمایاں نظر آرہا تھا) میں نے حیرت اور افسوس سے اُنہیں دیکھتے ہوئے کہا۔ آپ نے چیک دار برقع پہنا ہوا ہے۔ تو کہنے لگیں۔ ہاں ہمارے شہر میں چیک دار برقعوں کا فیشن آیا ہے لگتا ہے یہ فیشن ابھی اسلام آباد میں نہیں آیا، اور میں اُن کا جواب سن کر ہکا بکا رہ گئی۔ برقعے بھی فیشن کی زد میں آگئے۔ جب، جہاں، جیسا فیشن چلا بلا چوں و چرا اپنالیا۔ بے شک برقعے کا تقدس مجروح ہو۔ روح زخمی ہو، مقصد فنا ہوجائے۔
آج برقعوں میں اس قدر ورائٹی دیکھنے کو ملتی ہے کہ برقعوں کا فیشن شو آرام سے کرایا جاسکتا ہے۔ زرق برق، چمکیلے بھڑکیلے سلمیٰ ستارے موتیوں، نلکیوں، نگوں کے کام سے لدے پھولے، مکیش کے کام سے سجے سلور اور گولڈن ڈوریوں سے مرصع۔ ملٹی کلر کڑھائیوں اور کٹ ورک سے بھرے، کہ نظر ہٹانے کو جی نہ چاہے۔ سلائیوں سے نمک پارے اور شکر پارے بنے۔ پرنٹڈ برقعے بھی دیدہ دلیری سے پہنے جارہے ہیں۔ باریک کپڑے کے فٹڈ برقعے۔ اس کے علاوہ لمبے لمبے چاک والے برقعے بھی بہت عام ہوگئے۔ ہوا سے اُڑتے کپڑوں کی جھلک دکھاتے اور لبھاتے ہیں۔ شادیوں میں کام سے بھرے برقعے پہنے جاتے ہیں۔ ایک ایسی ہی خاتون فرمانے لگیں۔ سادا برقعہ پہن کر بور ہوگئی تھی۔ میں نے سوچا چلو برقعے پر ہی کام بنوالیتے ہیں۔ برقع جیسا بھی ہو یہ اطمینان کافی ہے کہ پہنا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے برقعے پردے کے لیے پہنے جاتے ہیں یا آرائش و زیبائش کے لیے؟… جب مرعوبیت اتنی زیادہ ہے تو برقع پہننے کی ضرورت کیا ہے۔ برقع پہننے کا مطلب تو یہ ہے کہ میں بُری نظروں سے بچوں، کوئی مجھے دیکھے نہ، سراہے نہ، میں نمایاں نظر نہ آئوں، تو رنگین کام والے برقعے پہننے کی بظاہر وجہ تو یہی نظر آتی ہے کہ سراہی جائوں، لوگ مجھے دیکھیں کہ میں زمانے کے ساتھ چل رہی ہوں ’پینڈو‘ نہیں ہوں کہ سادا ’پرانے زمانے‘ کا برقع پہنوں، ماڈرن تقاضوں کے عین مطابق دیدہ زیب، دلکش، جاذب نظر جذبات بھڑکانے والا۔ اس ضمن میں مولانا مودودیؒ کہتے ہیں۔ چادر اور برقع اوڑھنے کا جو حکم ہے۔ اس کا منشا اجنبیوں سے زینت چھپانا ہے، اور ظاہر ہے یہ منشا اُسی صورت میں پورا ہوسکتا ہے جبکہ چادر (برقع) سادہ ہو۔ ورنہ ایک مزین اور جاذب نظر کپڑا لپیٹ لینے سے تو یہ منشا الٹا فوت ہوجائے گا۔ (تفہیم جلد چہارم) گویا برقعے کا مقصد لباس اور جسم کی زینت چھپانا ہے اور جب برقعے کے ذریعے ہی زینت کا اظہار کیا جائے تو اُس کا مقصد فوت ہوجائے گا۔ پردے کی آیات جب نازل ہوئیں تو حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں، کہ اس آیت کے اُترتے ہی انصاری عورتیں جب باہر نکلتی تھیں تو سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔
ڈبل کپڑے کے برقعوں نے خواتین کو راضی کرنے میں بڑا حصہ لیا ’ایک ٹکٹ میں دو مزے پردہ بھی ہوگیا اور فیشن بھی۔ کالا اور میرون ڈبل کرکے ایک برقع بنالیا۔ جب چاہا کالا پہنا جب چاہا میرون۔ اسی طرح تیز سبز اور طوطی رنگ اور گلابی اور کاسنی ملا کر ایک برقع بنایا۔ اسی طرح اور بہت سے تجربات برقعے پر کیے گئے جو بہت کامیاب رہے۔
اب آئیے کنٹراسٹ اسکارف کی طرح یعنی اسکارف الگ رنگ کا اور برقع الگ رنگ کا۔ اللہ جانے یہ عاجزی، مسکینی ہے، سادگی ہے، فیشن ہے یا وقت کا تقاضا یا بے خبری، شاید برقعوں اور اسکارف کے ڈھیر میں ہم رنگ اسکارف ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پتا نہیں جس رنگ کا برقع اُسی رنگ کے اسکارف اوڑھنے میں کیا قباحت ہے؟ کچھ خواتین برقعوں پر شوخ نیلے پیلے آتشی گلابی پرنٹ کے دوپٹوں کا استعمال کرتی ہیں۔ شاید اسی رواج کے پرنٹڈ اسکارف کو جنم دیا۔
سادے برقعوں پر پرنٹڈ اسکارف ستم بالائے ستم اور پرنٹ بھی ایسے کہ اللہ کی پناہ فیروزی، جامنی اور میرون، زرد پھول پتیاں اور ان پر پھندنے اور موتیوں کی ڈوریاں لٹکتی ہوئی۔ کالے اسکارف پر جھلمل کرتے کالے ستاروں کا کام جو آرائش و زیبائش کو چار چاند نہیں آٹھ چاند لگادیتے ہیں۔ بس سوچنا یہ ہے کہ ایسے اسکارف ہم اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے پہنتے ہیں یا دوسروں کو خوش کرنے کے لیے۔ پھر ایک قابل توجہ المیہ ’ٹیڈی‘ اسکارف کا یعنی بے انتہا مختصر (چھوٹے اسکارف) جو صرف بمشکل سر اور منہ کو ڈھک پاتے ہیں۔ کندھے اور جسم کھلا، پردہ صرف سر اور منہ چھپانے کا نام ہے کیا؟ اتنے بھاری بھرکم لمبے چوڑے وجود پر ننھا منھا سا اسکارف کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ کبھی شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھیں۔
جو لوگ برقعے اور اسکارف مہیا کرتے ہیں۔ اُن سے کام سے بھرے اور پرنٹڈ اسکارف کو روکنے کی بات کی گئی تو جواب ملا۔ یہ تو اُن بچیوں کے لیے ہے جو نیا نیا برقع اوڑھتی ہیں وہ کالے اور سادا اسکارف اوڑھتے ہوئے جھجکتی ہیں۔ ہ تو ایک عُذر تھا جب کوئی وبا پھوٹتی ہے تو چھوٹے بڑے سب اس کی زد میں آتے ہیں۔ جب شروع سے اللہ کے دین میں گنجائش نکالنے کی عادت ڈال دی جاتی ہے تو پھر دین کے ہر معاملے میں عُذر اور گنجائش تلاش ہوتی ہیں۔ کالے کپڑوں کا فیشن اپنے عروج پر ہے۔ کونسی بچی ایسی ہوگی جس کے پاس کالا جوڑا نہ ہو۔ پر کالا برقع… شیطان بدی پر خوشنما غلاف چڑھاتا ہے اور اسے رنگین بناتا ہے اور نیکی کو بوجھل اور خشک بناتا ہے۔ اُس کے نقش قدم پر تھوڑی چلنا ہے۔ یاد رکھیے Demands اور Supply کا یہ قانون ہے کہ Demand نہ ہو تو Supply خودبخود ختم ہوجاتی ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو لگتا ہے جالی کے برقعے چُنے ہوئے اور پٹاپٹی کے برقع جلد ہی منظر عام پر آجائیں گے۔
ہم لوگ جو دین کی تھوڑی بہت سمجھ رکھتے ہیں اپنے احتساب کے ساتھ اپنے برقعوں اور اسکارف کا بھی احتساب کریں کہ ہمارا برقع اپنے سارے تقاضے پورے کررہا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے ہمیں ایک دوسرے کا آئینہ بننا ہوگا۔ پیار اور حکمت کے ساتھ۔
بات سمجھ کی ہے، جب بات سمجھ آجائے تو عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے، ہم پردہ تو کرتے ہیں مگر حکمتیں اور مصلحتیں جانے بغیر، اگر پردے کی حکمتیں اور مصلحتیں گہرائی سے سمجھ آجائیں تو پردے کی ساری کمی اور کوتاہیاں دور ہوجائیں۔
برقعے کو فیشن بنانے اور اس کی اصل روح کو فنا کرنے میں شیطان اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ دشمن کے فریب میں نہ آئیے، چوکنا ہوجائیے، ہم رنگ اسکارفوں کے ساتھ سادے حیا دار برقعوں کو رواج دئہئیم برقعے اور فیشن کا کوئی میل نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ