نسیم الغنی سہتو کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

157

جسارت لیبر فورم کے نگران قاضی سراج کی قیادت میں 10 رکنی وفد نے کمشنر سیسی نسیم الغنی سہتو سے ان کے دفتر میں 24 جنوری کو ملاقات کی۔ وفد میں نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر عبدالسلام، سینئر نائب صدر امان بادشاہ، سائٹ لیبر فورم کے رہنما مبشر زبیر، AGS بیٹری CBA یونین کے جنرل سیکرٹری ریاض عباسی، فارما ٹیک CBA یونین کے جنرل سیکرٹری امیر روان، آدم جی انجینئرنگ CBA یونین کے صدر نوید احمد، اٹلس انجینئرنگ CBA یونین کے صدر نصیر الدین، سائٹ لیبر فورم کے رہنما گل زمین، میرٹ پیکیجنگ CBA یونین کے جوائنٹ سیکرٹری محمد امین شامل تھے۔ ملاقات میں سندھ لیبر فیڈریشن کے چیئرمین مرزا شاہد بیگ بھی اتفاق سے موجود تھے۔ ملاقات میں سب سے پہلے شرکا نے اپنا تعارف کرایا، جس کے بعد مزدور رہنما ریاض عباسی، خواجہ مبشر زبیر اور دیگر نے کمشنر کو تفصیل سے مزدور مسائل بتائے۔ کمشنر سیسی نے کھلے ذہن سے وفد سے ملاقات میں بتایا کہ سیسی میں سسٹم کو آٹومیشن کرنے کی کوشش جاری ہے، انہوں نے کہا کہ مالکان مزدوروں کو مکمل رجسٹرڈ نہیں کراتے۔ کمشنر نے کہا کہ 50 فیصد کارخانے کہیں رجسٹرڈ ہی نہیں، جہاں تک لوکل کمپنیوں کی دواؤں کی خریداری کا معاملہ ہے سرکار کہتی ہے کہ جس کا ریٹ کم ہے اس سے دوائیں خریدی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک دو نمبر کی دواؤں کا تعلق ہے مارکیٹ میں دو نمبر دوائیں موجود ہیں، حکومت ان کو روکے۔کمشنر نے کہا کہ وہ سیسی کے نظام درست کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ مزدوروں کے نمائندے رہنمائی فراہم کریں۔ نشاندہی پر غلط کام کو روکوں گا۔ انہوں نے وفد کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ آخر میں قاضی سراج نے کہا کہ وہ کھلی کچہری منعقد کریں جس پر کمشنر نے اتفاق کیا۔
سیسی میں مزدوروں کو درپیش مسائل
ایمبولینس نئی آئی ہیں مگر چلائی نہیں جاتیں، ولیکا کا اسٹاف ذاتی استعمال کررہا ہے، مریضوں کو پرانی ایمبولینس دی جاتی ہے اکثر کہا جاتا ہے ایدھی بک کروالو ڈرائیور نہیں ہے۔ معیاری دوائیں مہیا کی جائیں، لوکل کمپنی کی میڈیسن دی جاتی ہے۔ واش روم اور ہسپتال میں صفائی نہیں ہے۔ ہسپتال کا عملہ ایک بجے کے بعد غائب ہوجاتا ہے۔ ایمرجنسی نامکمل ہے اور ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہوتا۔ نیورو سرجن اور کارڈک کنسلٹنٹ نہیں ہے۔ جس مرض کا ڈاکٹر نہ ہو مریضوں کو جناح اور سول ریفر کیا جاتا ہے۔ پینل کے پٹیل ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔ گورننگ باڈی سے سیکورڈ ورکر کے دانتوں کے علاج کی منظوری لی جائے۔ تمام مریضوں اور ہسپتال کا ریکارڈ کمپیوٹرائز کیا جائے۔ ایکسیڈنٹ کی مد میں جو کنٹری بیوشن کاٹا جارہا ہے اسی حساب سے ورکر کو پے منٹ کی جائے۔ OT میں جو سامان ہے وہ تبدیل کیا جائے۔ فیزیو تھراپی وارڈ میں جدید سامان مہیا کیا جائے۔ ایمرجنسی اور وارڈ میں داخل مریضوں کو لے کر آنے جانے کے لیے وہیل چیئر اور وارڈ بوائے کا انتظام کیا جائے۔ تمام وارڈ کی مرمت کی جائے۔ مریضوں کو صاف پانی مہیا کیا جائے۔ ہسپتال کا تما عملہ کارڈ لگائے تا کہ پتا چل سکے کہ یہ کسی کا ملازم ہے نہ کہ پرائیوٹ آدمی۔ ہسپتال میں ورکرز کی فائل لینے میں مہینوں لگ جاتے ہیں جو کہ ایک دن میں بننی چاہیے۔ ہسپتالوں میں ایوننگ اور نائٹ میں DMS لگایا جائے تا کہ کسی پریشانی کی صورت میں مریض DMS سے رابطہ کرسکے۔ ہیپاٹائٹس، کینسر اور دل کے مریضوں میڈیسن کی Approval ایک دن میں کی جائے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے مریض انتقال کرجاتا ہے مگر اس کے علاج کی میڈیسن کی منظوری بعد میں ملتی ہے۔ ولیکا ہسپتال میں 55 کے قریب ڈاکٹر ہیں جن میں سے 22 ڈیوٹی پر آتے ہیں باقی گھر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں۔ بیہوشی کے ڈاکٹر کم ہیں ایمرجنسی میں اگر آپریشن کرنا پڑے تو بیہوشی کا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے مریض انتقال کر جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ