ای او بی آئی کے پنشنر اور بینک الفلاح !

152

تحریر**قموس گل خٹک

ای او بی آئی کا ادارہ بنیادی طورپر ملازمت سے ریٹائرڈ ۔ معذوراور ملازمت کے دوران فوت ہونیوالے کارکنوں کی بیواؤں کے آنسو پونچھتا ہے۔ دنیا کی سائنسی اور صنعتی ترقی کے باوجود اس ادارے میں پنشن کی شرح 5250/-روپیہ مقرر ہے ۔ جو بلی پالنے کا شوق رکھنے والے خوشحال لوگوں کی ایک بلی کے ماہوار خوراک کے لیے بھی ناکافی ہے ۔ مگر جمہوری دور حکومت میں مزدوروں کا یہ اہم مسئلہ صوبائی یا وفاقی پارلیمنٹ میں اب تک زیر بحث آنے کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ کیوں کہ سیاسی جماعتوں کے مابین مزدوروں پر ہونیوالے مظالم اور سہ فریقی ویلفیئر اداروں میں کرپشن پر شاید کوئی اختلاف نہیں ملک کی تمام جماعتوں کی قیادت جاگیرداروں یا سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہے اور پارلیمنٹ میں چند مڈل کلاس کے نمائندے اپنی پارٹی قیادت کے رحم وکرم پر ہیں ۔ جب ہم مزدور نمائندے ای او بی آئی سے ملنے والی پنشن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس ادارے پر مسلط بے تاج بادشاہ لمبی لمبی تقرریں شروع کرکے پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا جواز ادارے کے مالی حالات خراب ہونا بتاتے ہیں یہاں سے یہ بحث چھڑجاتی ہے کہ کیا اس ادارے کو حکومت میچنگ گرانٹ دیتی تھی ۔ جو بندہوگئی یا حکومت نے گرانٹ میں کمی کردی جبکہ حکومت اس ادارے کو مالی گرانٹ نہیں دیتی بلکہ اس کے تمام وسائل صنعتی اور کمرشل اداروں سے مروجہ قانون کے تحت پریمیم سے جمع کیے جاتے ہیں ۔اور سال 2000تک مزدوروں سے پریمیم کا حصہ وصول نہیں کیا جاتا تھا۔ پھر یکم جولائی 2001میں صنعتی اور تجارتی اداروں کے مالکان کے علاوہ مزدور سے بھی 20 روپیہ یکم جولائی 2005سے 30 روپیہ ، یکم جولائی
2006سے 40روپیہ ، یکم جولائی 2007سے 46روپیہ ، یکم جولائی 2008سے 60روپیہ ، یکم جولائی 2010سے 70روپیہ، یکم جولائی 2012سے 80/-روپیہ ، یکم جولائی 2013سے 100روپیہ اور یکم جولائی 2014سے 120روپیہ اور یکم جولائی 2015سے 130 روپیہ ماہوار کردیا گیا ہے اس طرح صنعتی اور تجارتی اداروں کی انتظامیہ کے پریمیم میں بھی اضافہ ہوا۔ مگر ان تمام اضافوں کے باوجود اس ادارے کے مالی حالات بہتر نہ ہوئے اور نہ اس بات کو مدنظر رکھا گیا کہ ان اضافوں کے تناسب سے پنشن میں کتنا اضافہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ اہم سوال یہ بھی ہے کہ صنعتی اورتجارتی اداروں کی انتظامیہ اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے پریمیم میں اضافے کو مالی طورپر غیر مؤثر کون بنارہا ہے ۔جب تک اس کی روک تھام نہیں کی جائیگی اس وقت تک مالی حالات کے خرابی کا رونا بند نہیں ہوگا۔ جب پورے ملک کے عوام بشمول حکمران یہ جانتے ہیں کہ ای او بی آئی میں اب تک 18فی صد مزدور بھی رجسٹرڈ نہیں ہوئے اور بقیہ 82فی صد تعداد پر فیلڈ افسران اور ایمپلائیر کے مابین بارگننگ ہوتی ہے تو فنڈز کہاں سے آئیں گے میں ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں اور ثابت کرسکتا ہوں کہ جہاں آٹھ سو مزدور کام کرتے ہیں وہاں زیادہ سے زیادہ 300مزدور رجسٹرڈ ہوتے ہیں ۔ کیا اس کرپشن کی ذمہ داری ریٹائرڈ معذور یا مرنے والوں کی بیوہ پر ڈالی جاسکتی ہے ۔دنیا میں ابتک جتنے قوانین بنے ہیں ان میں یہ بات یکساں نظر آتی ہے کہ جس جرم میں کوئی شریک نہیں وہ اس کے نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ہمارے ملک میں انکم ٹیکس کی شرح زیادہ اور وصولی دنیا میں سب سے کم ہے ۔ اگر اس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو صرف انکم ٹیکس دینے والوں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے ۔ جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جاتا۔یہی صورتحال ای او بی آئی کی وصولی کا ہے اور یہ اس ادارے کے اعلی حکام اور حکومتی اداروں کے علم میں بھی ہے میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ای او بی آئی کے مرکزی دفاتر میں کرپشن نہیں ہوتی یہ سب فیلڈ میں ہورہاہے علی انٹر پرائز کراچی میں جب دل خراش واقع پیش آیا تو پتہ چلا کہ ڈھائی ہزار ملازمین میں سے ایک بھی ای او بی آئی یا سوشل سیکورٹی سے رجسٹرڈ نہیں تھا۔ اور نہ محکمہ لیبر کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ مگر اس کے بعد جب گڈانی جہاز بریکنگ کا حادثہ پیش آیا تو یہی صورتحال بر قرار رہی لیکن نہ اداروں کے مالکان کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ان اداروں کے خلاف جنہوں نے اربوں روپیہ رجسٹریشن کی مد میں وصول نہیں کیے۔ جبکہ نیب عام طورپر رولز کی خلاف ورزیوں پر کارروائی میں لوگوں کی تذلیل کررہا ہے ۔کیا یہ اربوں روپیہ ماہانہ ملکی سطح پر قانونی پریمیم وصول نہ کرنا کرپشن نہیں ہے ؟جبکہ اس کو نیب باآسانی ریکارڈ سے ثابت بھی کرسکتا ہے۔
ویسے امید کم ہے کیونکہ اس سے صرف مزدور متاثر ہورہے ہیں ۔پنشن کی کمی کے ساتھ اس کے حصول کے سلسلے میں نئے نئے ناقابل شرائط جاری ہونے سے بڑھاپہ پنشن کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ کوئلے کی صنعت میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے عمر میں پانچ سال کی رعایت مگر مدت ملازمت میں رعایت واپس لے کر پندرہ سال کردے گئی۔جن لوگوں نے مائیننگ انڈسٹری میں مزدوروں کو کبھی کام کرتے نہیں دیکھا وہ یہ کام کررہے ہیں ۔پھر نیشنل بینک آف پاکستان سے پنشن کی خدمات واپس لیکر الفلاح بینک کے حوالے کی گئی اس کاجواز یہ بتایاگیاتھا کہ بینک الفلاح پنشنر کو ATMکی سہولیت فراہم کرے گا۔ مزدور رہنماؤں نے بروقت کہا تھا کہ بینک الفلاح کی برانچیں بہت سارے صنعتی علاقوں میں موجود نہیں اور اس کے ATMبھی بہت کم ہیں۔ جب دوسرے بینک کے ATMسے مزدور پنشن کے پیسے نکالیں گے تو اس کو ادائیگی کرنی ہوگی یہ تو معمولی اعتراضات ثابت ہوئے جب سے اس بینک کوپنشن کی خدمات حوالے کی گئی ۔پنشنر کو سابقہ واجبات سالہا سال ادا نہیں کیے جاتے ۔ ای او بی آئی کے حکام کو شکایت کریں تو وہ بینک انتظامیہ کے آگے بے بس نظر آتے ہیں ۔پورے ملک میں بینک الفلاح کی جانب سے پنشنر کو ادائیگی میں دشواریوں کی شکایات ہیں اس لیے کہا جارہاہے کہ مزدور آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔ کوئی ہے جو اسکا نوٹس لے کر یہ مسئلہ حل کرائے۔ بینک الفلاح سے پنشن کی ادائیگی کے سلسلے میں ہزاروں مزدوروں کو شکایات ہیں مگر اس کوحل کرنے میں ای او بی آئی کے حکام قطعی ناکام ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ