PIA کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے

56

تحریر ** شیخ مجید

PIA نجکاری کا شور اتفاق ہے کہ جب جب نواز شریف کی حکومتی آتی ہے اور اُٹھتا ہے اور ایک بار پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کی صدارت میں 2011ء میں بھی اُٹھا تھا۔ پہلے نواز شریف کے پچھلے دو ادوار میں PIA کو فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اوپن اسکائی پالیسیز بھی اس کے حوالے سے نافذ کی گئی اور PIA کو انتظامی معاملات کو اس طرح سے چلایا گیا کہ اس کا تمام تر فائدہ حکومت وقت یا ان کے افراد کو ہوا۔ نواز شریف کے دو ادوار کے علاوہ 2011ء میں آصف علی زرداری نے PK-TK (یعنی پی آئی اے اور ٹرکش ائر لائنز کے درمیان دس طرح کا معاہدہ ہوا کہ PIA تمام ایسے مسافر جو کینیڈا، امریکا اور یورپ جانا چاہتے تھے PIA انہیں استنبول (ترکی) پہنچاتی اور وہاں سے ٹرکش ائر لائنز انہیں منزل مقصود پر پہنچاتی۔ اب مسئلہ بظاہر تو 2189 لاکھ متاثرہ مسافروں کا تھا لیکن PIA ملازمین بھی اس سے متاثر ہوئے۔ PIA میں اس وقت ہم CBA تھے، ہم نے آصف علی زرداری کو سمجھایا لیکن وہ تو اپنے ایک ذاتی دوست جو PIA کے MD کیپٹن کے کہنے پر PIA کو انٹرنیشنل ریجنل ائر لائن میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے اور ہماری بات ان کی سمجھ میں نہ آئی۔ ہم نے PIA جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی جو پائلٹوں سے مل کر گروپ I تک تمام ملازمین اس میں شامل تھے۔ بالآخر ہم نے PIA میں ہڑتال کردی۔ چار دن یہ ہڑتال پورے ملک میں چلی، چوتھے دن آصف علی زرداری نے جناح ٹرمینل پر بیٹھے ہوئے ہم ملازمین پر پولیس اور اپنے آدمیوں کو چھوڑ دیا انہوں نے ہماری خوب خوب پٹائی کی لیکن بھلا ہو الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کا کہ اس نے یہ تمام کوریج دکھائی اور پاکستانی عوام حیران رہ گئے تو تب جا کر آصف زرداری کو ہوش آیا اور انہوں نے ہم سے مذاکرات کیے اور MD پی آئی اے کیپٹن اعجاز ہارون کو برطرف کیا گیا۔ PK-TK معاہدہ منسوخ ہوا اور ہمارے جو ملازمین اس دوران برطرف کردیے گئے تھے بحال ہوئے۔ اسی طرح نواز شریف کے تیسرے دور میں پھر نجکاری کا شوشا چھوڑا گیا، اسی طرح ہم نے PIA جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی اور جدوجہد کا آغاز ہوا اور ہمارے پرامن جلوس پر فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں ہمارے دو ملازمین منیجر کمیونیکیشن عنایت رضا اور محمد اسلم شہید ہوئے اور کئی افراد زخمی ہوئے لیکن ہم نے ہمت نہ ہاری۔ اس جدوجہد میں ائر لیگ جو CBA تھی اس کے سیکرٹری جنرل ناصر جنجوعہ اور دیگر نے بڑا مثبت کردار ادا کیا۔ PIA کا معاملہ پارلیمنٹ میں گیا اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی نجکاری کی مخالفت کی اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے بھی پارلیمنٹ نے باقاعدہ ایک ایکٹ کے ذریعے ان کے مطالبے کے مطابق لیا گیا کہ “pensions and other existing obligations of the corporation to retired employees shall not be changed to their disadvantage”
پنشن اور دیگر مراعات کو قانونی حیثیت دے دی اور اب پھر نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز نے کہا ہے کہ وہ PIA کی نجکاری کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس بیان پر کافی شور اُٹھا ہے، حزب اختلاف کی ساری جماعتوں خصوصاً پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے کھل کر نجکاری کی مخالفت کی ہے اور PIA میں موجود ساری یونینوں اور ایسوسی ایشنز نے دانیال عزیز کے اس بیان کی مذمت کی ہے اور کھل کر کہا ہے کہ یہ منصوبہ PIA کو تباہی کی طرف لے جائے گا لیکن اس میں جو خاص بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حمایت یافتہ ائر لیگ یونین نے بھی اس بیان پر دانیال عزیز کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس کے خلاف باقاعدہ مظاہرہ بھی کیا۔
گویا یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ PIA کی تمام یونینوں اور ایسوسی ایشنز کو دانیال عزیز کا PIA کو نجکاری کرنے کا منصوبہ قبول نہیں ہم نے بھی پہلے کی طرح نجکاری کے اس منصوبہ کی کھل کر مخالفت کی ہے کہ PIA کو ان دو ماہ میں جو حکومت کے پاس باقی رہ گئے ہیں کسی طرح فروخت کرے گی اور ان کے ہر ناپاک عزائم کو ناکام بنادیں گے اور PIA کو تباہ و برباد نہیں ہونے دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ