ای او بی آئی پنشن میں اضافہ کیا جائے

80

سائٹ لیبر فورم اور ان سے منسلک CBA یونین نے EOBI کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں رفیع اللہ ایڈووکیٹ کے توسط سے پٹیشن دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریٹائر ہونے پر EOBI سے ورکرز کو جو پنشن ملتی ہے 5250 روپے وہ انتہائی ناکافی ہے۔ 5250 روپے پر ریٹائر ورکرز کی ادویات پوری نہیں ہوتی تو ورکر کھائے گا کیا؟ اس مہنگائی کے دور کو دیکھتے ہوئے ایک ریٹائر ورکر کی پنشن کم از کم تنخواہ کے برابر ہونا چاہیے۔ کیوں کہ EOBI اپنے ورکرز کو کم از کم پنشن 16 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپے دیتی ہے تو پھر صنعتی ورکرز کو اتنی کم پنشن کیوں جو ادارہ ورکرز کے فلاح وبہبود کے لیے ورکرز کے کنٹری بیوشن پر بنا ہو ان کے لوگ تو فائدہ اٹھاتے ہیں اور جن کے لیے بنا ہو وہ محروم رہے یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس ادارے میں حکومت کا کوئی کنٹری بیوشن نہیں ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے حکومت کو بھی ورکرز کی پنشن میں کوئی دلچسپی نہیں کہ مہنگائی کے تناسب سے ورکرز کی پنشن میں اضافہ کیا جائے۔ اس لیے سائٹ لیبر فورم اور ان سے منسلک CBA یونینوں نے خود عدالت عالیہ سے انصاف مانگنے کا فیصلہ کرلیا۔ کیوں کہ عدالت ہی ایک ادارہ ہے جو ورکرز کو انصاف فراہم کرسکتی ہے۔
لہٰذا عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ وہ لاکھوں غریب ورکرز جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین اور قیمتی سال ان ملز اور فیکٹریوں کو دیے اور اس ملک پاکستان کی معیشت میں بے پناہ خدمات سرانجام دیں زندگی کے اس آخری عرصے میں ان ورکرز کی زندگیوں کو آسان بنایا جائے۔ پاکستان فلاحی ریاست ہونے کے ناطے سے یہ ان غریب ورکرز کا حق ہے۔ تمام ورکرز امید کرتے ہیں کہ عدالت عالیہ ان غریب مزدوروں کی داد رسی کرے گا، ان غریب ورکرز کی اس دائر کردہ پٹیشن کو پاناما لیکس کی طرح روزانہ کی بنیادوں پر سنا جائے کیوں کہ انصاف میں تاخیر بھی انصاف کے قتل کے مترادف ہوتی ہے۔ ہم تمام ورکرز اُمید کرتے ہیں کہ عدالت عالیہ انصاف کو قتل ہونے سے بچائے گی۔ کیوں کہ بعض اوقات انصاف میں اتنی تاخیر ہوجاتی ہے کہ ورکرز انتقال کرجاتے ہیں اور ابھی بھی کئی سالوں سے غریب ورکرز یہ آس لگائے ہوئے ہیں کہ پنشن میں اضافہ ہوجائے گا اور ان کی باقی ماندہ زندگی سکون سے گزر جائے گی لہٰذا عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ غریب ورکرز کی اس آس کو ٹوٹنے نہ دیا جائے۔
نیب
اور نیب سے آخر میں سوال ہے کہ کرپشن کے حوالے سے نیب نے جو تحقیقات کی تھی اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں آیا۔ لہٰذا تمام ورکرز یونینز اس بات کا مطالبہ کرتی ہیں کہ نیب ورکرز کے فلاحی ادارے EOBI کی کرپشن کی تحقیقات مکمل کرکے عوام اور ورکرز کے سامنے لائی جائے۔ بصورت دیگر ورکرز اور عوام حق بجانب ہوں گے کہ نیب بھی اس کرپشن میں حصہ دار ہے جو EOBI میں ہوئی یا ہورہی ہے۔
نیب اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے اس ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کرے اور اپنی آخرت کی زندگی کو سنوارے اور اگر نیب اپنی آئینی اور قانون ذمے داری پوری نہیں کرتی تو پھر تمام ورکرز اپنا احتجاجی حق محفوظ رکھتے ہیں۔
سائٹ لیبر فورم اور ان سے منسلک
CBA یونینز کے ناموں کی فہرست
ہیلکس فارما ایمپلائز یونین CBA، جنرل سیکرٹری بخت زمین خان، سائٹ لیبر فورم کراچی جنرل سیکرٹری بخت زمین خان، اٹلس گروپ آف کمپنی ورکرز یونین CBA ریاض عباسی، BSN میڈیکل ایمپلائز یونین CBA گل بخت شاہ، زین پیکیجنگ انڈسٹری ورکرز یونین CBA شیر زمان خان، ایکسائیڈ بیٹری ایمپلائز یونین CBA لیاقت علی، کوکا کولا بیوریج ورکرز یونین CBA خائستہ رحمن، فارما ٹیک پاکستان ورکرز ویلفیئر یونین CBA امیر روان، مرک فارما ورکرز یونین CBA محمد سلیم، ہاشمی کینن ایمپلائز یونین CBA خواجہ مبشر، کوہ نور سوپ ایمپلائز یونین CBA اسرار احمد، ICI (وائیٹ) پاکستان لمیٹڈ ایمپلائز یونین CBA سعید زمرد حسن، آربی پاکستان ورکرز یونین CBA مختار حسین اعوان، OBS پاکستان ایمپلائز یونین CBA محمد ناظم، اسپین فارما ورک مین یونین CBA فرمان علی، سیرل پاکستان لمیٹڈ ایمپلائز یونین CBA اعجاز احمد، رؤف ٹیکسٹائل ایمپلائز یونین CBA محمد صابر، ASK ورکرز یونین CBA عین الہدیٰ شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ