افغانستان کاذکر ’موت‘

88

سمیع اللہ ملک
اب بھی دنیامیں بسنے والوں کی کثیرتعدادیہ سمجھتی ہے کہ نائن الیون کاواقعہ ایک بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں رونما ہوا اورکئی امریکی دانشوراورسیاسی تجزیہ نگار اپنے خدشات وتحفظات کااظہارکرچکے ہیں اوراس کی تائیدمیں فنی ماہرین کی دستاویزاتی فلمیں خودامریکاکی مارکیٹ میں کافی مقبول ہیں۔ اس واقعے کی پلاننگ کچھ ایسی ڈرامائی تھیں کہ اس حادثے نے ساری دنیاکوہلاکررکھ دیا۔اس واقعے کے بعدفوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ فوری طور پر کیا گیا تھا اور اس خوفناک حادثے کے بعد امریکا میں عوامی ردِعمل بھی مثبت تھا۔ یہ احساس جاگزیں تھا کہ یہ جنگ ضروری ہے کیونکہ پہلی مرتبہ امریکی سرزمین پر مہلک ترین حملہ ہوا تھا۔ جن افراد کو اس کی منصوبہ بندی کاذمے دار اور انتہا پسندی کی ترویج کرنے والے افراد کو اپنی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے فراہم کر نے کاالزام لگایاگیا ان کے پیچھے جانے اور ان کا خاتمہ کرنے کے لیے افغانستان کوتاراج کرنے کے لیے چند دنوں میںجدیدجنگی ہتھیاروں اور 60 ہزارسے زائدخطرناک فضائی حملوں سے یہ مقصد بہت مختصر مدت میں پورا ہوگیا۔
امریکی مشن نے بہت جلد طالبان حکومت کو ختم اور افغانستان سے القاعدہ کے ٹھکانوں کا صفایا کردیا۔ طالبان کسی طور امریکی فائر پاور کا مقابلہ نہ کر سکے لیکن اس فوری ہاتھ آنے والی کامیابی کے بعد امریکیوں پر ایک ناخوشگوار سچائی آشکار ہوئی، وہ یہ کہ جنگیں شروع کرنا آسان لیکن ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ویت نام سے بھی یہی تلخ سبق حاصل ہوا تھابعد میں عراق سے ہاتھ آنے والی سچائی بھی یہی تھی لیکن قصر سفیدکے فرعون نے دہشتگردی ختم کرنے کے نام پر افغان عوام پرنیپام بم اورمنی ایٹم بم کے بے تحاشا اوربے رحم استعمال سے افغانستان کومکمل تباہ کر دیا۔ امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف تو بہت تیزی سے حاصل کرلیے تاہم تب سے اب تک اس سوال کا جواب دینا انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے کہ اس دور افتادہ سرزمین پر امریکی فوجی اتنی طویل مدت سے کیا کر رہے ہیں، کیوں لڑ اور مر رہے ہیں۔
جب سے طالبان کی سرگرمیوں میں نمایاں شدت آئی ہے، امریکا کو نئی اور جامع حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اس وقت طالبان کے کنٹرول میں اس سے کہیں زیادہ علاقہ ہے جتنا 2001ء کے بعد کبھی ان کے پاس تھا۔اب تویہ حال ہے کہ امریکی وزیرخارجہ اوروزیردفاع کوبھی یہ ہمت نہیں کہ وہ اپنے ہزاروں فوجیوں کی معیت میں افغان دارلحکومت میں اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں سے ملاقات کرسکیں ۔
امریکا نے افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ اس نہ ختم ہونے والی جنگ میں اب تک2400 امریکی فوجی اور31000 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جان و مال کی بھاری قربانی دینے کے باوجود اس جنگ میں ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ صرف سیکورٹی کا محاذ نہیں جس پر امریکا ناکام رہا، کئی اور شعبوں میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی ہے۔بظاہر امریکا کادعویٰ ہے کہ وہ برسوں سے افغانستان کے طول و عرض میں ہونے والی منشیات کی تجارت روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے کیونکہ طالبان اس تجارت سے حاصل ہونے والی رقوم سے اپنے جنگی اخراجات پورے کرتے ہیں اور منشیات کو کنٹرول کیے بغیر طالبان کو شکست دینا مشکل ہے ۔ اسے ختم کرنے کی کوشش میں پہلے تو پوست کی فصلوں کو تلف کرنے کے لیے اسپرے کیا گیا اور اس کے بعد متبادل فصلیں اگانے اور ضرورت کے مطابق روزی کمانے کے لیے کسانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی۔ ان کوششوں کا نتیجہ کیا نکلا؟ حالیہ برسوں میں پوست کی ریکارڈ فصلیں ہوئی ہیں۔افغان معیشت کو درست کرنے کا شعبہ بھی ناکام رہا ہے لیکن اس بارے میں کئی بین الاقوامی رپورٹس منظرعام پرآچکی ہیں کہ خودامریکی فوجی منشیات کے ساتھ دیگرقیمتی نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
کچھ فوجیوں نے وطن واپسی پر افغانستان کے کٹھن حالات کا ذکر کرکے عام امریکیوں کو دنگ اورپریشان کردیا۔ ڈومینگ ٹیری نے 2015ء میں معروف جریدے ’اٹلانٹک‘ میں لکھا تھا:افغانستان کا ذکر چھیڑنے کا مطلب موت کی باتیں کرنا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اس موضوع کو فوراًًتبدیل کر دیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ