اسرائیلی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں!

131

ریاض احمد چودھری

اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس شائع کرنے والے عرب میگزین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں اضافے کی حالیہ لہرا اٹھنے کے بعد اسرائیل سے مزید تعاون مانگا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے اسرائیلی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور ملٹری انٹیلی جنس شاباک اور امان نے مزید ڈھائی سوکمانڈوز اور پروفیشنلز مقبوضہ کشمیر بھیج دیے ہیں۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حق میں حالات کنٹرول کرنے اور حریت پسند مزاحمت کار تنظیموں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اسرائیل نے انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سیکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں بھیجے تھے۔2000ء کے بعد اسرائیل نے اس میں اضافہ کیا۔ نئی اطلاعات کے مطابق 2016ء میں تحریک آزادی میں اٹھنے والی نئی لہر کے بعد اسرائیل نے مزید کمانڈوز مقبوضہ کشمیر بھیج دیے ہیں جس کے بعد کشمیر میں صیہونی کمانڈوز اور تربیتی ماہرین کی تعداد 650 سے تجاوز کر گئی ہے۔عرب میگزین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ساڑھے 300 اسرائیلی کمپنیاں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی معاونت کے ساتھ پاکستان کی فوجی تنصیبات کی جاسوسی میں ملوث ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی کمانڈوز کی موجودگی پرانی بات ہے، تاہم اس کے پہلی مرتبہ شواہد 2000ء میں اس وقت سامنے آئے جب کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں 4 اسرائیلی کمانڈوز کے مارے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ عرب ،خبررساں ادارے القدس پریس نے بعدازاں اس حوالے سے ایک خصوصی انٹرویو بھی شائع کیا تھا جسے عرب ذرائع ابلاغ میں غیر معمولی اہمیت دی گئی تھی۔ اسرائیلی کمانڈوز کی کشمیری علاقے سوپور اور بڈگام میں موجودگی کے شواہد سامنے آئے تھے۔ اسرائیل نے موساد کو کشمیر میں سرگرمیوں اور افرادی قوت بڑھانے کی اجازت مئی 1993ء میں اس وقت دی تھی جب نائب اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز نے بھارت کے سرکاری دورے کے دوران بھارت کے ساتھ عسکری معاہدہ کیا۔ اس سے پہلے معاہدے کے وقت موساد کے سیکڑوں جاسوسوں کے علاوہ 350 صیہونی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر پہنچائے گئے تھے۔
1997ء میں اسرائیلی صدر عیزر ویزمین نے بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر اسرائیل نے بھارت کو آندھرا پردیش میں قائم ہونے والے اسرائیلی جنگی طیارے بنانے والی فیکٹری کے لیے ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے جاسوسی آلات سے لیس بغیر پائلٹ چھوٹے طیارے فراہم کیے۔ بدلے میں اسرائیل نے بھارت سے پاکستانی حدود کے قریب عسکری بیس مانگی تھی تاکہ اسے پاکستان کی خفیہ نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ عسکری بیس کے علاوہ اسرائیل نے بھارت سے ایک خطرناک زہریلا مادہ Pennekolvanبھی لیا تھا جسے اسرائیل نے فلسطینی مزاحمت کارواں کے خلاف مہلک گیس بنانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ بھارت نے اسرائیل کے دونوں مطالبے مان لیے اور 18 ٹن مادے سے بھرے ہوئے 4 کنٹینرز ممبئی سے روانہ کردیے تاہم بدقسمتی سے انتہائی خفیہ طریقے سے بھیجے جانے والے یہ کنٹینرز سری لنکا کے کوسٹ گارڈز کے قبضے میں آگئے اور یوں بھارت کا اسرائیل کو ممنوع مادہ فراہم کرنے کا خفیہ راز بے نقاب ہوگیا۔
کشمیر میں تحریک آزادی کچلنے کے لیے بھارت نے اسرائیل کے تعاون سے جعلی داعش بنانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے خفیہ اسرائیل ایجنسی موساد کے ماہرین کشمیر میں موجود ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے مقبوضہ کشمیر میں جعلی داعش بنانے کے شرانگیز منصوبے کی تصدیق عرب ذرائع ابلاغ کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما آغا روح اللہ نے بھی کی ہے۔ ایک جعلی داعش قائم کرکے کشمیریوں کے خلاف مزید طاقت آزمائی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہیں پتا چلا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے موساد کے سربراہ سے نئی دہلی میں ملاقات کی ہے۔
کشمیریوں کے ساتھ بھارتی حکومت کا برتاؤ ظالمانہ اور غیر انسانی ہے تاہم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں ایک نوجوان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے بھارتی فوج کے افسر لیتل گوگوئی کو ایوارڈ دینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتاہے کہ بھارتی فوج کو علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔ بھارت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکا ر پٹیل نے کہاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے زیرتفتیش افسر کو ایوارڈ دینے سے پتا چلتا ہے کہ بھارتی فوج نہ صرف ایک ظالمانہ، غیر انسانی اور پرتشدد کارروائی کو نظرانداز کررہی ہے بلکہ اس کی باضابطہ قیمت مقرر کررہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی احتجاج نے جہاں بھارتی حکومت اور سیکورٹی اداروں کی نیندیں حرام کی ہیں اور اس سے دنیا بھر میں بھارتی حکومت کی سبکی ہو رہی ہے وہاں مسلمانوں کے ازلی دشمن اسرائیل نے بھارت کے ساتھ عسکری اور انٹیلی جنس سطح پر جاری تعاون کے حجم میں اضافہ کردیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ