امت مسلمہ کو اتحاد کی ضرورت ہے‘ قاری محمد طیب

75

پاکستان کے تعلیمی نصاب میں مسلمانوں کے متفقہ عقائداور نظریات پر مبنی مضامین شامل کیے جائیں‘ منتظم جامعہ حنفیہ سے گفتگو

جدہ: گزشتہ دنوںپاکستان سے عمرہ و زیارات پر حرمین شریفین آئے ہوئے معروف عالم دین قاری محمد طیب سے زمرد خان سیفی،ؔ حافظ محمد اکرم اور قاری محمد یونس کی وساطت سے ایک ملاقات ہوئی۔
مولانا حکیم عبدالغنی کے فرزند قاری محمد طیب گزشتہ 32 سال سے ’ جامعہ حنفیہ‘ دینی مدارس کے معلّم اور منتظم کے طور پر پنجاب کے معروف شہر بورے والا ضلع وہاڑی ( ملتان ڈوثرن) میں اور گردو نواح کے کئی شہروں میں دینِ اسلام کی بے لوث خدمت اور عصری تعلیم کے شعبے میںشب و روز مصروف ِ عمل ہیں-اس کارِ خیر کے لیے اُنہوں نے نہ صرف خود کو وقف کیا ہوا ہے بلکہ اُن کے ساتھ اُن کے صاحبزادے مولانا ابو دردا بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قاری محمد طیب نے ’ جامعہ حنفیہ‘ کی دینی خدمات کے حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جامعہ کی 9 شاخوں میں حفظ و درس اور اور عصری تعلیم کے حوالے سے مختلف شعبہ جات میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد ایک ہزار 590 ہے جبکہ اساتذہ اور عملے کی تعداد 92 ہے۔ سیکڑوں طلبہ کے قیام و طعام کا اہتمام ان مدارس کی طرف سے ہے-اُنہوں نے بتایا کہ اب تک شعبہ حفظِ قران سے 2828طلبہء سعادت حاصل کر چکے ہیں جبکہ درسِ نظامی سے فیض یاب ہونے والے طلبہ کی تعداد 319 ہے۔ اسی طرح عصری تعلیم کے حوالے سے پرائمری درجے سے لے کر ایم اے تک امتحان پاس کرنے والے سیکڑوں طلبہ ہیں اور متوسط وفاق المدارس آل پاکستان ، دراسات سوم آل پاکستان وفاق المدارس اور ملتان بورڈ میں مسلسل کئی برس سے تعلیمی شعبے میں جامعہ حنفیہ کے طالب علم پہلی ، دوسری اور تیسری پوزیشن کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ جامعہ حنفیہ میں بلاتفریق مختلف الخیال طبقات کے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور فروعی اختلافات سے بالا تر ہو کر اُنہیں دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے اور ان مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور دینی خدمات کا فریضہ انتہائی احسن طریقے سے انجام دے رہیں ہیں۔جدہ میں مقیم اُن کے شاگرد حافظ محمد اکرم اور دیگر شہروں میں مقیم کئی افراد انہی مدارس سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
قاری محمد طیب نے گفتگو کے دوران تجویز پیش کی کہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تما م تر اختلافات سے بالا تر ہو کر مسلمانوں کے متفقہ عقائد اور نظریات کو اُجاگر کرنے کے لیے مضامین کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم و تربیت کی بنیادیںبحیثیت مسلمان شاندار طور پر استوار ہوں- اُنہوں نے کہا کہ ایسی تعلیم سے آراستہ ہو کر مستقبل کے یہ معمار یقینا ًدینی حوالوں سے مثالی خدمات سرانجام دیں گے-اُنہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اتحاد بین المسلمین کی اشدضرورت ہے کیوں کہ دنیا بھرمیں مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم کا سدِ باب صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ مسلمان اخوت و اتحاد کی علامت بن جائیں-اُنہوں نے برمامیں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کی زبوں حالی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے لیے دُعا کی-
اُنہوں نے سعودی عرب کے فرماں رواں اور ان کی حکومت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب عالمِ اسلام کی امیدوں اور عقیدتوں کا مرکز ہے اور حجاج اور زائرین کی خدمت اور انہیں فراہم کردہ سہولتیں مثالی ہیں- حرمین شریفین کی توسیع ایک شاندار اور قابلِ قدر کارنامہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ