متاثرین کنٹرول لائن‘ شہدااور زخمیوں کے لیے امدادی پیکج میں اضافہ

94

مظفرآباد(صباح نیوز) کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے متاثرین کے لیے امدادی پیکج پر نظرثانی کے لیے قائم کابینہ کی سب کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس ،متاثرین کے لیے امداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ طبعی سہولتوں کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ ، متاثرین سیز فائر لائن کے بجلی بلوں کی سرکاری طور پر ادائیگی اور متاثرین کے لیے ایکٹ 89ء کے تحت متبادل زمین کی فراہمی کی تجویز ‘ آفات سماوی اور متاثرین فائرنگ کی امداد کے لیے الگ الگ مدات کے قیام کافیصلہ، فائرنگ سے متاثرہ
8اضلاع میں خصوصی فنڈز کے قیام کی تجویز، 10اضلاع میں موجود بھارتی فوج کی فائرنگ کے متاثرین کی مالی امداد و معاوضہ جات کے لیے 21کروڑ 80لاکھ 60ہزار روپے کے اہتمام کے لیے اقدامات ،کمیٹی نے جہلم ویلی اور کوٹلی کے متاثرین کی فوری مدد کے لیے دونوں اضلاع میں ڈپٹی کمشنر ز کو 70، 70 لاکھ روپے کے فنڈز کی ہمہ وقت موجودگی اور دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو 50،50 لاکھ روپے کی ہمہ وقت موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت ۔اجلاس کمیٹی کے چیئرمین وزیر مواصلات و ورکس چودھری محمد عزیز کی زیر صدارت منعقد ہوا ،جس میں وزیر مال سردار فاروق سکندر ، سینئر رکن بورڈ آف ریونیو فیاض علی عباسی ، محکمہ مالیات ، محکمہ مال کے متعلقین سمیت دیگر افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیز فائر لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متاثرہ علاقوں میں ابتدائی طبعی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی جبکہ امدادی رقوم کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے گی ۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ایمبولینس اور سرجن ڈاکٹرز کی موجودگی اور بلڈ بینک قائم کیے جائیں گے ۔ متاثرہ آبادی کو لوڈ شیڈنگ فری ایریا قرار دیا جائے گا۔ اجلاس میں شہدا اور زخمیوں کے لیے امداد میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی اور معاملہ منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں آبادی کو فائرنگ رینج سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور5 کلو میٹر فائرنگ کی رینج میں آنے والی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔کابینہ کی سب کمیٹی نے اجلاس کی رپورٹ فوری طورپر کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیر مواصلات و ورکس چودھری محمد عزیز نے کہا کہ اس وقت متاثرین کو امداد ی رقوم کی ادائیگی کے لیے 21کروڑ 80لاکھ 60ہزار روپے کی رقم کی ضرورت ہے جبکہ املاک کے نقصان کو شامل کرکے مجموعی طور پر 52کروڑ روپے سے زائد رقمکی ضرورت ہے، جس کے اہتمام کی کوشش کی جارہی ہے ،وفاقی حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں معاملہ زیر غور ہے ۔ چودھری محمد عزیز نے آزاد کشمیر کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے پاک فوج کے کردار کو سراہا اور واضح کیا کہ سیز فائرلائن پر قربانیاں دینے والے عوام اور پاک فوج کے جوان ملکی دفاع کے لیے جو تاریخ رقم کررہے ہیں وہ تاریخ کا اہم ترین باب ہے اور آئندہ آنے والی نسلیں اس پر فخر کریں گی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ