وہی جام گردش میں لاسا قیا فطرت سے دُوری ‘ مسائل کا سبب

117

طاہر جبین
زندگی ایک مقدس امانت ہے اور اس میں خیانت کرنا ایک گناہ ۔ اس مقدس امانت کی حفاظت کرنا انسان کی ذمے داری ہے اور اس پر شکر گزار ہونا اس کا فرض ہے۔ا للہ تعالیٰ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ کائنات سے ہم آہنگ انہی فطری اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ ان اصولوں کی وضاحت ہمارے پیارے نبی ؐ نے اپنے کردار، اعمال اور اقوال سے کر کے دکھا دی۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں جاری و ساری کر لیں تو پھر وہی دور واپس لوٹ سکتا ہے کہ مدینہ کی بستی میں ایک حکیم آیا۔ ایک سال فارغ بیٹھ کر کسی مریض کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔ بالآخر مایوس ہو کر واپس لوٹ گیا کہ یہاں تو کوئی بیمار ہی نہیں پڑتا ۔
آج انسان بے شمار قسم کی بیماریوں کا شکار ہے۔ ذہنی ،جسمانی اور روحانی بیماریاں ، ترقی کے اتنے دعوئوں کے باوجود لا علاج امراض دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ طب کے میدان میں بے شمار تحقیقات کی گئیں اور حال یہ ہے کہ پوری عمر کی محنت کے بعد ایک سائنس دان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اگر پانی کی چند بوندیں گردن کے پیچھے دن میں چند مرتبہ لگا لی جائیں تو انسان فلاں اور فلاں اور فلاں بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ایک مسلمان کو وضو کرتے دیکھا تو حیرت سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو۔ اس نے جواب دیا ۔ وضو‘ طہارت کا یہ طریقہ ہمیں ہمارے نبی ؐ نے 1400 سال پہلے سکھا دیا تھا ۔
ہر عبادت میں جہاں روحانی بیماریوں کا علاج ہے، وہیں وہ بے شمار جسمانی بیماریوں کا سدباب بھی کرتی ہے۔ ہمارے مہر بان رب نے ان عبادات کو فرائض کا درجہ دے کر انسان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا بہترین بندوبست کر دیا ہے اور انسان کتنا نادان ہے کہ اس مہر بان رب کے احکامات کو بھول بیٹھا ہے۔
پھر جب انسان اپنے کسب کے ہاتھوں کسی مصیبت کا شکار ہوتا ہے تو پھرو ہی مہر بان رب اپنے نبی ؐ کی زبان مبارک سے تسلی دلاتا ہے ۔
’مسلمان پر جب کوئی بیماری یا مصیبت آتی ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اتار دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر مومن کو کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے درجات کی بلندی کا باعث بن جاتا ہے۔‘(بخاری شریف)
آیئے اپنی روز مرہ زندگی میں جھانک کر دیکھیں کہ کہاں کہاں ہم اس فطرت کی نفی کرتے ہیں، جس پر اللہ نے ہماری تخلیق کی۔ ہمارے وہ کون سے رویے ہیں جن کی وجہ سے ہم ایک صحتمند اور تندرست و توانا زندگی گزارنے سے قاصر ہیں ۔
ہمارے شب و روز کو کیسا ہونا چاہیے اور ہم انہیں کیسے گزارتے ہیں ۔
سورۃ النبا میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
(ترجمہ) ’اور ہم نے نیند کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنایا ۔ رات کا لباس بنایا اور دن کو روزی کمانے کا ذریعہ بنایا ۔ ‘
اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کے اندر ایک فطری گھڑی نصب کر رکھی ہے جو روز و شب کے اوقات کے مطابق کام کرتی ہے۔ ہمارے جسم پر مصنوعی روشنی کے اثرات بہت زیادہ مرتب ہوتے ہیں ۔ سورج غروب ہوتے ہی یہ فطری گھڑی جسم میں موجود متعلقہ اعضا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اب آرام کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لیےStress کا مقابلہ کرنے والے ہارمونز کی مقدار کم ہو جائے اور رات کے اندھیرے میںMelatonin ہارمونز خارج ہو جائیں جو نیند لانے میں موثر ہوتے ہیں جو ہمارے جسم میں موجود چربی کو ہضم کرتے ہیں ۔ کیسٹرول کو کم کرتے ہیں اور جسم کی مرمت اور تعمیر کا کام کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ یادداشت کے نئے خلیے بھی اس دوران بنتے ہیں۔ یہ سب کام رات کے اول حصے میں گہری نیند میں ہوتے ہیں اور اگر وہ تیزروشنیوں میں رات دیر تک بیٹھا رہے توStress کا مقابلہ کرنے والے ہارمونز ہی خارج ہوتے رہتے ہیں اور اس کا زیادہ مقدار میں اخراج انسان کو جلد بوڑھا کر دیتا ہے اور یوں جسم کی مرمت اور تعمیر کا کام بھی صحیح طور پر انجام نہیں پاتا ۔ آج کے انسان نے اپنے دنوں کو رات اور راتوں کو دن بنا رکھا ہے ۔ اور فطرت کے وضع کردہ اصولوں کی نفی نے 50 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کو بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا کر دیا ہے اور اس کو بے شمار بیماریوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے ۔
بقول اقبال
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مردِ کہستانی
یہ وہ لوگ ہیں جن کی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔ ایک پرمشقت دن گزارنے کے بعد شام ہوتے ہی سونے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے اور شب بھر ایک پر سکون نیند کا لطف اٹھانے کے بعد علی الصبح بیدار ہو کر اگلے دن کے لیے پھر کمر کس لیتے ہیں ۔
عبادات کس طرح انسانی زندگی میں روحانی تزکیہ کے ساتھ جسمانی تزکیہ کا اہتمام کرتی ہیں۔ آیئے ذرا ایک نظر اس پر بھی ڈالیں۔
نماز ساری کائنات کے طریقہ ہائے عبادت کا مجموعہ ہے۔ جمادات کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ حیوانات رکوع کی حالت میں اور نباتات سجدہ ریز ہیں ۔
نماز کی ابتدا وضو سے ہوتی ہے۔ وضو کے ذریعے دن میں 5 مرتبہ وہ اعضا جو لباس سے باہر ہوتے ہیں دھل جاتے ہیں اور انسان آلودگی سے محفوظ رہتا ہے ۔ صفائی کو چونکہ نصف ایمان کہا گیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آدھے ایمان کو مکمل کرتا ہے ۔
پانچ وقت کی نماز کو ایک سائنسی تحقیق کے مطابق روزانہ 3 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پیدل چلنے یا دوڑنے کے برابر بر قرار دیا گیا۔ یا پھر روزانہ آدھا گھنٹہ ورزش کے برابر ہے ۔ جسم ہررکعت میں اپنی 20 کیلوریز خرچ کرتا ہے ۔
آپ ؐ نے فرمایا:
’بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے‘۔(بخاری)
سجدے کی حالت کا مشاہدہ کیا جائے تو دل کا مقام دماغ کے اوپر ہوتا ہے اور اس طرح دماغ کے تمام حصوں کوخون با آسانی فراہم ہوتا ہے اور اس طرح انسان کی نظر ، قوت سماعت ، ارتکاز توجہ ، یادداشت اور بہت سی اور ذہنی صلاحیتوں پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ پھر یہ کہ انسان کے Sinusesمیں جمع شدہ بلغم اور مواد بہہ کر نکل جاتا ہے ۔ پھیپھڑے بھی ہوا خارج کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں اور جسم کے وہ پٹھے جو عام طور پر متحرک نہیں ہوتے، نماز کی حالت میں وہ بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اس طرح صحت مند رہتے ہیں۔
آپ ؐ نے فرمایا:
اپنے کھانے کو اللہ کے ذکر اور نماز کے ذریعے ہضم کرو۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ خالی پیٹ نمازیں ہلکی ہوتی ہیں جیسے فجر ، عصر اور مغرب وہ نمازیں ہیں جو کھانا کھانے کے بعد پڑھی جاتی ہیں جیسے ظہر اور عشا ان کی رکعتیں زیادہ ہیں ۔
نماز کے فوائد اتنے بے شمار اور لا تعداد ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس ایک عبادت میں اللہ تعالیٰ نے کتنی خیر کو جمع کر دیا ہے مگر اس کو حاصل تو تبھی کیا جاسکتا ہے جب اس کو صحیح طور پر ادا کیا جائے ۔
مگر عام طور پر تو ہماری نمازیں یہی تصویر پیش کرتی ہیں :
تیری نماز بے سرور، تیرا امام بے حضور
ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر
شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
ایسی نمازیں نہ تو روحانی بیماریوں کا علاج بنتی ہیں اور نہ جسمانی ۔ آپ ؐ نے فرمایا: ’تہجد کے وقت اُٹھ کر نماز پڑھنے کی عادت بنا لو کیونکہ تم سے پہلی قوموں کے صالح لوگوں کی یہ عادت تھی ۔ نماز تمہیں خدا سے قریب کرتی ہے۔ یہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہے۔ تمہارے گناہوں کو مٹاتی ہے ۔ اور جسم سے بیماری کو دور کرتی ہے ۔ ‘
حضرت سلمان فارسی ؓ اس حدیث کو نقل کرتے ہیں ۔ انہوں نے خود اس پر اتنا عمل کیا کہ بعض روایات کے مطابق ان کی عمر150 سال اور بعض کے مطابق 250 سال کے قریب تھی ۔
جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا بزرگ وبر تر رب آسمانِ دنیا پر آتا ہے اور فرماتا ہے ۔ ہے کوئی میرے حضور دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کا سوال پورا کروں؟ ہے کوئی بخشش کا طلبگار کہ میں اسے بخش دوں۔(بخاری و مسلم)
تہجد کا وقت اپنی ماضی کی زندگی کا محاسبہ کرنے اور اپنے لیے گناہوں پر ندامت کے اظہار کا بہترین وقت ہوتا ہے ۔ اس وقت انسان کی یادداشت کی صلاحیت اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔
سہل بن سعد ؒ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے پاس جبرائیل امین ؑ آئے اور ان سے کہا ۔ اے محمد ﷺ! جان لو کہ مومن کی عزت و وقار تہجد کی نماز میں ہے اور اس کی عظمت لوگوں سے مدد طلب نہ کرنے میں ہے؟
امام حسن البنا نے اپنے ایک مرید کو نصیحت کی ۔
ایمان شیرینی ہے اسے صدقہ اور وسط شب میں تہجد کی 2 رکعتوں میں تلاش کرو۔ جب یہ شیرینی تم چکھ لو تو اللہ تعالیٰ اسے تمہاری روح کا حصہ بنا دے گا ۔ یہ وہ زبر دست قوت ہے کہ جو شخص اس سے بہرہ یاب ہو جاتا ہے وہ دنیا کی ہر طاقت سے ٹکرا سکتا ہے ۔
عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
مگر ہمارا حال تو کچھ یوں ہے :
کس قدر تم پر گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے، ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی عالم خواجہ بختیار کاکی ؒ نے وفات کے وقت ایک وصیت کی کہ ان کی نماز جنازہ ایسا شخص پڑھائے گا جس میں 3 صفات ہوں ۔
(1) جس نے کسی نامحرم عورت پر کبھی بری نگاہ نہ ڈالی ہو۔ (2) جس کی عصر کی نماز کی تکبیر اولی( پہلی رکعت) کبھی فوت نہ ہوئی ہو ۔ (3)جس نے تہجد کی نماز کبھی نہ چھوڑی ہو ۔
جب جنازے کے وقت یہ وصیت سنائی گئی تو صبح سے شام ہو گئی ۔ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ۔ لیکن کوئی جنازہ پڑھانے کے لیے آگے نہ بڑھا۔ قرآن و حدیث کے علما اور طالب علم سبھی اس مجمعے میں شامل تھے ۔ عصر کے وقت ایک نقاب پوش صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھا۔ اپنے منہ سے نقاب ہٹایا اور خواجہ کی میت سے مخاطب ہو کر کہنے لگا:
’اے خواجہ بختیار کاکی! مجھے پتا ہے کہ یہ شرط آپ نے میرے لیے ہی لگائی ہے لیکن آپ نے مجھے دنیا کے سامنے بے نقاب کیوں کر دیا؟ اپنی بقیہ زندگی میں مجھ سے ان اعمال کی تکمیل میں اگر غفلت ہو گئی تو قیامت والے دن رسول اللہ ؐ کو کیا منہ دکھائوں گا ‘۔
یہ نقاب پوش دہلی کا تاجدار شمس الدین التمش تھا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ