گاؤ کدل قتل عام کی برسی پر سرینگر میں ہڑتال ،حریت رہنما نظر بند

90

سرینگر(آن لائن)بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں 1990ء میں شہریوں کے وحشیانہ قتل عام کیخلاف سرینگر کے گاؤ کدل اور اسکے ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دی تھی۔بھارتی فوجیوں نے گاؤکدل میں 21جنوری 1990ء کو پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 50سے زائد افراد کو شہید کر دیا تھا۔ یہ لوگ علاقے میں فوجیوں کی طرف سے کئی خواتین کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ قابض
فوج نے قتل عام کیخلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلیے سرینگر کے رینہ واری، خانیار، نوہٹہ، مہاراج گنج ، صفہ کدل، مائسمہ اور کرال کھڈ تھانوں کی حدوں میں آنے والے علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے لائن آف کنٹرول پر جاری گولہ باری اور اس کے نتیجے میں انسانی زندگیوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ کا خطرہ بدستور قائم رہے گا ۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کنٹرول لائن پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشیدگی بڑھائی جارہی ہے جسکا مقصد کشمیر کو ایک سرحدی تنازعے کے طور پر پیش کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ