کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی جاری مزید6افراد شہید، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی شدید احتجاج

118

سری نگر/سیالکوٹ(صباح نیوز) کنٹرول لائن کے نکیال سیکٹر اور بین الاقوامی سرحد یا ورکنگ بانڈری پر ہفتے کو بھارت اورپاکستان کی افواج کے درمیان فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رہاجس میں مزید 6پاکستانی شہری شہید جبکہ 11زخمی ہوگئے‘ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا جبکہ بھارتی فوجی حکام نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فائرنگ سے ایک بھارتی فوجی اور3شہری ہلاک ہوئے‘ املاک کو نقصان پہنچا اور ڈیڑھ
سو سے زائد مویشی مارے گئے۔ عالمی میڈیا کے مطابق مقابل افواج نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو ہدف بنانے کے لیے ہلکے اور درمیانی درجے کے خود کار ہتھیاروں اور مارٹر بموں کا استعمال کیا‘دونوں نے ایک دوسرے پر فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرکے فائرنگ میں پہل کرنے کا الزام دہرایا ہے اور کہا ہے کہ بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ کی زدمیں شہری علاقے بھی آگئے۔ہفتے کو پاکستانی فوجی حکام نے بتایا کہ بھارتی فائرنگ اور شیلنگ سے آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی کے نکیال سیکٹر میں2 شہری شہیداور5 زخمی ہوگئے جبکہ ضلع سیالکوٹ کے سرحدی دیہات میں 3 شہری ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں بھارتی فوج حکام نے بتایا کہ پاکستانی فائرنگ سے ایک بھارتی فوجی اور3 شہری ہلاک اور نصف درجن افراد زخمی ہوگئے‘ نیز جموں، سانبہ، کھٹوعہ اور راجوری اضلاع کے سرحدی دیہات میں درجنوں مکانوں اور دوسری املاک کو نقصان پہنچا ہے اور ڈیڑھ سو سے زائد مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ گولا باری سے بچنے کے لیے تقریباً 10 ہزار لوگ اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان نے بھارتی فورسزکی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر کھوئی رٹہ،باگسر اور خانجر سیکٹرز میں ورکنگ باؤنڈری میں بلا اشتعال سیز فائر کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے ہفتے کو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ہفتے کو ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر ایک بار پھر بھارتی فورسز نے بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک 60 سالہ شہری محمد علی شہید جبکہ 6سالہ چمن بی بی اور27 سالہ ماریہ زخمی ہوئیں۔ ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے بھارتی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ پر احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ضبط و تحمل کے مطالبے کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جارہی ہے‘ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ