شریفوں کی حکومت میں ہے کوئی محفوظ؟

87

خالد ایچ لودھی

ایک اور دل ہلا دینے والا واقعہ۔۔۔ سات سالہ پھول جیسی زینب کے ساتھ زیادتی اور پھر اس کا بہیمانہ قتل، قیامت گزری ہوگی اس معصوم زینب پر، اور اب قیامت گزر رہی ہے اس کے ماں باپ پر، یہ خاندان کس طرح یہ صدمہ برداشت کر پائے گا؟ اس ظلم پر کیا صبر کر پائے گا؟ ذرا بتائے شریف خاندان۔۔۔
میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کیا جواب دیں گے کہ انہوں نے تین تین بار حکومتوں کے مزے لوٹے ہیں، اس کے بدلے میں انہوں نے اپنے عوام کو کیا دیا؟ ملک میں اس وقت جنگل کا قانون ہے، پنجاب کی پوری سیکورٹی فورس ’’ہاؤس آف شریف‘‘ کی حفاظت اور شاہی پروٹوکول پر لگی ہوئی ہے ’’جاتی امرا‘‘ اس وقت پاکستان کا ’’ بکنگھم پیلس‘‘ بنا ہوا ہے، لندن میں بکنگھم پیلس ملکہ برطانیہ کی موجودگی میں عوام کے لیے کھول دیا جاتا ہے، سیکورٹی کے معمول کے مطابق انتظامات ہوتے ہیں، پارلیمنٹ میں ملکہ برطانیہ اور پھر شاہی خاندان پر قومی خزانے سے خرچ ہونے والے ایک ایک پاؤنڈ کا برابر حساب لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ شاہی پروٹوکول اور سیکورٹی پر اخراجات کی چھان بین اور اس کا سالانہ آڈٹ تک ہوتا ہے۔
یہاں پاکستان میں ہے کوئی پوچھنے والا۔ ’’جاتی امرا‘‘ پر قومی سرمایہ کیوں خرچ ہوا؟ شریف خاندان کے ہر فرد کو سیکورٹی اور پروٹوکول کیوں اور کس استحقاق کی بنیاد پر دیا جاتا ہے؟ شریف خاندان نے جان بوجھ کر عوام کو اورنج ٹرین اور میٹرو بس جیسے لولی پاپ دکھائے ہیں وہ اس بنا پر کہ کوئی تعلیم، صحت اور پولیس کے حوالے سے سوال نہ کرسکے، ابھی چند سال قبل پنجاب میں یہ خوش خبری سنائی گئی کہ چینوٹ میں اربوں کا سونا دریافت ہوا ہے جس سے پورے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ کوئی ان سے پوچھے کہ یہ سونے کے ذخائر کہاں گئے؟ قومی خزانہ تو خالی ہوتا چلا گیا، قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا اور ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے، ان کا سمدھی وزیر خزانہ لندن میں بیٹھا ہے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے اردگرد جتنے بھی من پسند اور منظور نظر افراد نظر آتے ہیں ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق جرائم کی دُنیا سے ہے، کوئی کرنسی اسمگلر تو کوئی قاتل۔۔۔ تو پھر شریفوں کی حکومت میں کون ہے جو محفوظ ہے؟ قانون کی حکمرانی کہاں ہے؟ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے کی روایت بن چکی ہے، عوامی سطح پر عدالتوں کے فیصلوں پر تنقید کی جاتی ہے، کرپشن ثابت بھی ہوچکی مگر میں نہ مانوں کی رَٹ مسلسل جاری ہے۔
زینب کے اغوا، اس کے ساتھ زیادتی اور قتل کرنے والے اگر گرفتار بھی ہوگئے تو انہیں نشانِ عبرت کیسے بنایا جائے گا؟ کیا ہمارا موجودہ نظام عدل ایسا ہے کہ گھناؤنے سے گھناؤنے جرم میں ملوث بڑے سے بڑے مجرم کو نشانِ عبرت بنائے جاسکے تا کہ معاشرے میں موجودہ مجرمانہ ذہن رکھنے والوں کے دل میں ڈر پیدا ہو اور بڑھتے ہوئے جرائم کو روکا جاسکے۔ مجھے خوف آرہا ہے خود میرے اپنے گھر میں میری ہمشیرہ یاسمین کی بیٹی زینب پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہی ہے، دوسری بیٹی زینب میری اپنی بہو ہے جو میرے بیٹے ولید کی بیوی ہے جو اب لاہور سے لندن آرہی ہے۔
زینب کے ساتھ قصور میں جو ظلم ہوا یہ المیہ ہے۔ اغوا، زیادتی اور قتل ہونے والی پھول جیسی زینب کچرے کے ڈھیر سے ملی، اس افسوسناک واقعہ کی ایف آئی آر آرمی چیف اور چیف جسٹس کے نوٹس کے بعد درج ہوئی، اب بتائیں کہ کیا اس سرزمین پر ہماری بیٹیاں اور بیٹے اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں گے؟ کیا کسی کی جان و مال اور عزت محفوظ ہے، قومی دولت تو لوٹ لی گئی، کیا قانون حرکت میں آیا؟ کیا کسی کو سزا ہوئی؟ میاں شہباز شریف فرماتے ہیں کہ عوام کو ان کا حق نہ دیا تو خونیں انقلاب آئے گا۔ میاں صاحب نوٹ فرمالیں کہ خونیں انقلاب آپ کے اپنے گھروں کے باہر دستک دے رہا ہے۔ جو محافظ آج مراعات یافتہ اور چند مخصوص خاندانوں کی حفاظت پر مامور ہیں ذرا ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی چمک دیکھیں کہ یہ چمک کیا کہہ رہی ہے۔ ذرا یہ بتائیے کہ کیا اس قوم نے ’’جاتی امرا‘‘ ’’بلاول ہاؤس‘‘ اور ’’بنی گالا‘‘ جیسے محل بنانے اور ان محلوں میں رہنے والے شاہی خاندان کی پاکستان میں اجارہ داری اور ان کی خاندانی حکومتوں کی خاطر یہ پاکستان حاصل کیا تھا کہ جس میں یہ خاندان اور ان کی اولادیں حکومت کریں اور محفوظ رہیں۔ باقی تمام کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کریں۔ قوم اس پر ذرا غور کرے اور پھر قومی مطالبہ کیا جائے کہ زینب کے قاتلوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے، یہی نشان عبرت بنانے کا واحد طریقہ ہے، صرف پولیس افسران کو معطل کردینا اور پھر چند افراد کو گرفتار کرکے ضمانت پر چھوڑ دینا یہ سب رسمی کارروائیاں ہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہور کی تنزیلہ، شازیہ اور پھر پیٹ میں قتل ہونے والے بچے کے دُکھ پر ابھی تک قوم احتجاج کررہی ہے، مگر کیا انصاف کسی کو ملا؟ ہرگز ایسا نہیں ہوا۔ اب اس وقت سے ڈریں کہ جب ’’جاتی امرا‘‘ ’’بلاول ہاؤس‘‘ اور ’’بنی گالا‘‘ جیسے محفوظ قلعوں کی دیواروں کو لوگ گرانے کی ابتدا کردیں گے۔ بہت ہوچکا، لٹ چکا ملک، خوار ہوچکی پوری قوم، بس کریں اب قانون کی حکمرانی اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قومی ادارے اپنا قومی کردار ادا کریں، ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں