جمعیت طلبہ عربیہ کا تحفظ مدارس وسالمیت پاکستان کنونشن ،مدارس کو بدنام سے باز رہا جائے ،راشد نسیم 

117
کراچی: جمعیت طلبہ عربیہ کے تحت تحفظ مدارس وسالمیت پاکستان کنونشن سے راشد نسیم‘ حافظ محمد سلفی‘ مولانا عبدالوحید‘ اسلم غوری‘ عبیدالرحمن عباسی قاضی احمد نورانی اور جلال منصوری خطاب کررہے ہیں
کراچی: جمعیت طلبہ عربیہ کے تحت تحفظ مدارس وسالمیت پاکستان کنونشن سے راشد نسیم‘ حافظ محمد سلفی‘ مولانا عبدالوحید‘ اسلم غوری‘ عبیدالرحمن عباسی قاضی احمد نورانی اور جلال منصوری خطاب کررہے ہیں کراچی: جمعیت طلبہ عربیہ کے تحت تحفظ مدارس وسالمیت پاکستان کنونشن سے راشد نسیم‘ حافظ محمد سلفی‘ مولانا عبدالوحید‘ اسلم غوری‘ عبیدالرحمن عباسی قاضی احمد نورانی اور جلال منصوری خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت طلبہ عربیہ کراچی کے تحت ادارہ نور حق کراچی میں تحفظ مدارس و سا لمیت پاکستان کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے کہا کہ پاکستان اور پوری دنیا میں امن و امان اگر آسکتا ہے تو محمد عربی ؐ کے نظام اور سیر ت پر عمل کرنے کے بعد ہی آئے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ زینب بی بی کے مجرموں کو گرفتار کرکے سب کے سامنے ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے تا کہ آئندہ کو ئی بھی کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس امن و سلامتی کے مراکز ہیں ۔ان میں پڑھنے والے طلبہ کو دہشت
گرد کے نام سے موسوم اور ان کو زمانے میں بدنام نہ کیا جائے ۔ راشد نسیم نے کہاہے کہ اگر ملک میں شرعی سزائیں نافذ ہوتیں تو آج قوم کو معصوم اور کمسن بچیوں کے لاشے نہ اٹھانے پڑتے۔ اسلامی سزاؤں پر پھبتیاں کسنے اور انہیں ظالمانہ قرار دینے والوں نے قوم کو موجودہ صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ مغربی اور سیکولر نظام کے پیروکار ملک میں فحاشی عریانی اور بے حیائی پھیلانے کے ذمے دار ہیں جس کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑے۔ عورت کے حقوق کے تحفظ کے نام پر بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کرنے والوں نے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کردیا ہے۔ اگر رحمۃ اللعالمین کا نظام ہوتا تو ملک میں شرم و حیا، عدل و انصاف، اخوت و محب اور امن کا بول بالا ہوتا۔ راشد نسیم نے کہاکہ کراچی میں پچھلے30 سال سے ہزاروں لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کا راج رہا کراچی کے شہریوں نے خوف اور اذیت کے سائے میں زندگی گزاری ہے۔ عوام کو تعلیم ، علاج اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے کے جرم میں مدارس کا تو کوئی ہاتھ نہیں ، مدارس نے ہمیشہ محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مدارس کو مورد الزام ٹھہرانے والے در اصل ملک میں دینی قوتوں کا راستہ روکنا اور معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد و مدارس کے کردار کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مغرب کے آلہ کاروں کو اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان مولانا عبیدالرحمان عباسی نے کہا کہ دینی مدارس کو رجسٹریشن کے نام پر ہراساں نہ کیا جائے ۔اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ ملک پاکستان میں جاری جمعیت طلبہ عربیہ کی تحفظ مدارس و سا لمیت پاکستان مہم ان شاء اللہ پاکستان کو ایک اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔اور جمعیت طلبہ عربیہ کے نوجوان تحریک اسلامی کا دستہ و بازو بن کردینی مدارس کے طلبہ و علماء کو اتحاد واتفاق کی دعوت دیکر ان ایک ہی لڑی میں پڑوئیں گے۔اور اسلامی فلاحی ریاست کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔کنونشن سے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء محمد اسلم غوری ،جمعیت اہلحدیث غربا کے رہنما حافظ محمد سلفی ،جمعیت علماء پاکستان نورانی کے رہنما قاضی احمد نورانی ،ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد العلماء کراچی مولانا عبدالوحید ،منتظم جمعیت طلبہ عربیہ سندھ جلال الدین منصوری ،منتظم جمعیت طلبہ عربیہ کراچی برادر عبدالرحیم نے بھی خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں