قاضی حسین احمد،جماعتی قیادت کے ساتھ ساتھ عوامی قیادت کی قبا بھی

1602

اختر عباس

یہ ۲۰۰۶ ء کا ذکر ہے تب میں قومی ڈائجسٹ کا ایڈٹر تھا اور روزنامہ پاکستان میں کالم لکھ رہاتھا۔ ایک شام قاضی حسین احمد صاحب نے کچھ کالم نگاروں کو اپنے ہاں کھانے پہ بلایا۔ قاضی حسین احمد سے ہاتھ ملا رہا تھا جب اچانک دھماکے کی آواز آئی۔ مڑ کے دیکھا تو اوریا مقبول جان کی گاڑی ایک ادھ کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد باہر نکلنے کے لیے زور لگا رہی تھی۔ اوریا مقبول جان کے ہاں علم اور معلومات کے ساتھ ساتھ جذبات تب بھی وافر مقدار میں پائے جاتے تھے، اس لیے اس شام وہ قاضی صاحب سے زیادہ بولے۔ اگلی صبح انھیں امریکی سفیر کی میزبانی کرنا تھی، ممکن ہے اسی لیے جلدی میں یہ حادثہ کر بیٹھے ہوں، ہمارے ہاں حادثے اکثر امریکہ کے شور مچانے پر ہی ہوتے رہے ہیں اس والے میں البتہ امریکی ہاتھ یقینی طور پر نہیں تھا
منصورہ دارالضیافہ میں سجی یہ محفل اس لحاظ سے سے بڑی یادگار تھی کہ قاضی صاحب بیماری کے باوجود کئی گھنٹے ڈٹ کر بیٹھے اور کتنی ہی آف دی ریکارڈ باتیں مزے سے کر گئے۔ جماعت اسلامی کے لوگ بے شک قاضی صاحب کو کئی دہائیوں سے جانتے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ہر رہنما کے تجربات و مشاہدات اور رجحانات و میلانات اپنے پیش رو سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس سے تبدیلی کی توقع ہوتی ہے۔ اسی سے اداروں اور جماعتوں میں تبدیلی آتی ہے۔ قاضی صاحب کو بھی اس سے استثنا نہیں۔ ان کے آنے سے جماعت کی پالیسیوں، لوگوں، چہروں، باتوں، ترجیحات سبھی پہ فرق پڑا اور یہ ہر رہنما کا حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے ویژن اور جس نقطہ نگاہ کو صائب اور بہتر خیال کرے، اس پر اپنے پیروکاروں کو لے کر چلے۔ قاضی حسین احمد اس شام کئی بار مسکرائے ،اس قدر معصوم اور جاذب مسکراہٹ کو دیکھنا ہمیشہ ایک مختلف تجربہ ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں چمکتی تھیں اور پورا وجود اس لمحے کی خوشی میں شامل ہوتا تھا، نہ کچھ چھپانے کی حاجت اور نہ کچھ بتانے کی۔ دینی جماعتوں کے قائدین کو کبھی کبھی ضرور مسکرا نا چاہئے ، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے البتہ عمر بھر اس خواہش کو پورا نہ ہونے دیا اس روز بھی جب انہوں نے حافظ عاکف سعید کو تنظیم اسلامی کا امیر بناکر اواری می ہوٹل میں لنچ پر ان کی تعارفی تقریب کی تھی
اس شام خود قاضی صاحب نے کئی سوال اٹھائے تھے جو میرے نوٹس میں محفوظ ہیں، حالانکہ وہ ہمارے سوالات کا اصل ہدف تھے۔ ان کا کہنا تھا، دانش وروں کا ایک طبقہ عرصے سے لکھ رہا ہے کہ بھوک بڑھ جائے تو انقلاب آتے ہیں۔ اس بات کو عقل، دلیل اور تجربے کی بنیاد پر ہر جگہ درست بھی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جو ہمارے ہاں دانش وروں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو رہی ہے اور جس کا کہنا ہے کہ ملک میں لوگ شدید معاشی مسئلے سے دوچار ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، خودکشیاں، اس لیے لوگ ہماری تحریک میں کیسے نکلیں گے؟قاضی صاحب کا دوسرا سوال زیادہ گہرائی اور وسعت لیے ہوئے تھا۔ ان کا کہنا تھا ’’مخلص قیادت کے لیے یہ تو تجربے نے ثابت کر دیا کہ اشرافیہ یا ایلیٹ کلاس سے نہیں آ سکتی۔ فوج کی قیادت کے ۳۱؍برسوں کا زوال بھی دیکھ لیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم لوگ جو اپنی جماعت کے ہر کام میں انتہائی مخلص، دیانت دار اور امانتوں کے ہر اصول اور ضابطے کا خیال رکھنے والے ہیں، خدمت کرنے کو زندگی کی بنیاد اور اصل سمجھتے ہیں اور بے غرضی سے کام کرتے ہیں، ہمارے بارے میں عام لوگوں کا خیال یہ کیوں نہیں ہے؟وہ ہمیں قیادت کے منصب پر فائز کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں‘‘
میں نے محسوس کیا، وہ اس حوالے سے دل سے اصل وجوہات جاننے کے خواہاں تھے۔ یقینا۔ سراج الحق صاحب کی بھی یہ خواہش ہو گی، قاضی صاحب کی برسی تو ایک بہانہ ہو سکتا ہے کتنا بہتر ہو کہ کسی شام شہر شہر، جگہ جگہ کچھ اہل علم و فکر کو بٹھایا جائے اور کھلے دل و دماغ سے صرف اسی موضوع پر ان کو سنا جائے۔ وہ جن کے ہاتھ عوام کی نبضوں پر ہوتے ہیں وہ جو عوام کے جذبات سے کھیلتے بھی ہیں اور انھیں اپنے تئیں راہ بھی دکھاتے ہیں۔ وہ جو لوگوں میں سے ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ اس بات کا احساس ہونا ہی ایک بے حد مختلف احساس اور خیال کی کھڑکی کھولتا ہے۔ لوگوں کے مختلف طرح سوچنے کو تسلیم کر لینا بے شک اس ’’کوکون‘‘ سے نکلنے کی ابتدا ہو سکتی ہے کہ جس میں نیک لوگ بڑی سادگی اور اخلاص کے ساتھ یہ سوچ کر جیتے ہیں کہ سارا سچ اور سارا اخلاص انہی کے پاس ہے۔ حالانکہ یہ ایک نامکمل اور ادھورا سچ ہے۔ بہت سے لوگوں کے سچ مل کر ایک نسبتاً پورا سچ بنتا ہے، دینکی خدمت اور دعوت و اصلاح کے شعبہ میں تو کہنے والا کہتا ہے اور تحکم سے کہتا ہے۔ یقین سے کہتا ہے۔ اسے خبر ہوتی ہے کہ یہ صرف میری رائے نہیں ہے۔ چودہ سو سال کی روایت میری پشت پر ہے، ہاں پاکستانی سیاست میں منظر، مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ یہ دین اور ایمان کے مسئلے جیسا نہیں ہے۔ اس کو اس طرح سے نہ دیکھا جا سکتا ہے نہ ڈھالا اور سنبھالا جا سکتا ہے۔یہ کنفیوژن سالوں بہ سال سے لاکھوں اذہان میں آئے سوالات اور ہمدردانہ جذبات اور خیالات کی بے اثری اور ضیاع کا بھی باعث بن رہی ہے۔
ہمارے سماج میں سنانا نہیں سننا زیادہ اہم ہے جیسے قاضی صاحب کے تیار کردہ کارکن اور موجودہ امیر سراج الحق صاحب کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ قاضی صاحب کی طرح وہ بھی لوگوں کی سنتے اور اس پر دھیان دیتے ہیں ۔ لوگوں میں رہنا سب سے اہم ہے ،ان کو جاننا، ان کی طرح کبھی سخت، کبھی نرم،کبھی سچ، کبھی مصلحت، کبھی مصالحت، شادی، غمی، لڑائی، جھگڑے، تھانے، کچہریاں، نوکریاں، تبادلے، سفارشیں ہی اس سچ کی تکمیل کرتی ہیں، پھر انہی راہنماوں کے نعرے لگتے ہیں، انہی کو قیادت ملتی ہے، انہی سے لوگ پیار کرتے ہیں، انہی کو ووٹ دیتے ہیں، انہی کو نوٹ دیتے ہیں۔ اس فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ جماعت کا رہنما ہونا اصل میں کارکنان کا رہنما ہونا ہے۔ عوام کی رہنمائی ایک بالکل مختلف فنا مینا یا حقیقت ہے، کسی ضلعی یا صوبائی امیر کے لیے کارکنان کی محبت اور اطاعت تو سو فیصد ہوگی۔ مگر ووٹ کے معاملے میں عوام کی رائے ذرا مختلف پیمانوں سے بنتی اور بگڑتی ہے۔ اس بات کو سمجھنا اور ماننا اتنا ہی ضروری ہے، جس قدر یہ جاننا کہ مقامی سیاست میں خاندان، برادریوں، نوجوانوں اور حوصلہ مندوں کا اثر کیونکر زیادہ ہو رہا ہے اور وہاں صرف آپ کا امیدوار ہونا کسی برادری اور خاندان کو مکمل طور پر آپ کا ہم نوا نہیں بنا سکتا۔یہ تو انسانوں کی رائے اور پسند کا معاملہ ہے، انتخاب کا مسئلہ ہے۔ جماعت کے امراء مقام کے ہوں یا اضلاع اور صوبوں کے، وہ عموماً عوام کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں۔ ان سے لڑا جا سکتا ہے، نہ بحث میں جیتا، نہ ہی ان کے بیانوں اور تقریروں پر تبصرے کی لذت حاصل ہو سکتی ہے، نہ شخصیت کی کمی بیشی پر مشورے دیے جا سکتے ہیں۔ یہیں سے عوامی پسند کی مرکزی شاہراہ سے ملانے والی پگڈنڈی سڑک بننے سے پہلے ہی کھو جاتی ہے۔ جس کو ڈھونڈا جانا ضروری ہے
اس شام قاضی صاحب نے کالم نگاروں اور دانشوروں کی اس محفل میں کہا تھا ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جو ہیں، عوام ہمیں نہیں سمجھتے، ہم لوگ معاملات میں جس قدر محتاط، دیانت دار اور انھیں ٹھیک اور صاف رکھنے والے ہیں، اخلاص سے خدمت کرنے والے ہیں، لوگ ہمارے بارے میں پورا سچ نہیں جانتے، ہمارے خلاف پراپیگنڈے کے لفظ کو چھاپ دیا جاتا ہے مگر ہماری اصل تصویر اور اصل پیغام چھپا لیا جاتا ہے۔‘‘یہ مسلہ تو آج بھی جوں کا توں موجود ہے ،عوامی مقبولیت کی منزل ابھی بھی دور ہے حالانکہ نیا الیکش سر پر ہے
جہاں تک ملک میں مروجہ عوامی مقبولیت اور قبولیت عام کے پیمانے کا معاملہ ہے تو قاضی صاحب اس پر بار بار کھرے اترے، نہ صرف پورے اعزاز اور وقار کے ساتھ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور وہاں بھرپور کردار ادا کیا بلکہ ایوان بالا سینٹ کے بھی رکن منتخب ہوئے اور وہاں بھی اپنی معاملہ فہمی، تدبر اور قیادت کے جھنڈے گاڑھے۔یہی اعزاز جناب سراج الحق نے پایا مگر اس فہرست کو اب بہت طویل ہونا چاہیے، جماعتی قیادت کے ساتھ ساتھ عوامی قیادت کی قبا اب زیادہ جماعتی راہنماوں کو نصیب ہونی چاہیئے ، سخت بات نرمی سے کرتے قاضی صاحب کی جاذب مسکراہٹ دیکھنے کا وہ تجربہ آج برسوں بعدبھی میری آنکھوں میں تازہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ