بلوچستان ‘ سیاسی بحران میں شدت، 2وزرا کے استعفے منظور

77

کو ئٹہ (نمائندہ جسارت) بلوچستان کے سیاسی بھونچال میں شدت آگئی‘ میر سرفراز بگٹی کو وزارت داخلہ کے عہدے سے برطرف کردیا گیا‘2 وزرا کے استعفے بھی منظور کرلیے گئے۔ وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتمادکو ناکام بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں نے کوششیں تیز کردیں۔ تفصیلات
کے مطابق پیر کو سرفراز بگٹی کی جانب سے استعفا دینے کے اشارے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے جوابی وار کرتے ہوئے انہیں صوبائی وزیر داخلہ کے عہدے سے برطرف کردیا۔ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر گورنر بلوچستان نے سرفراز بگٹی کو عہدے سے برطرف کرنے کی منظوری دے دی جس کے بعد برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے والے اپنے مشیر برائے ایکسائز امان اللہ نوتیزئی کو برطرفکیا۔ سابق وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھاکہ انہوں نے منگل کی شام کو ہی وزارت سے استعفا دے دیا تھا جس کے بعد برطرفی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ انہوں نے ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن بلوچستان کے 99فیصد ارکان اسمبلی تحریک عدم اعتماد کے حق میں ہیں ‘ ثناء اللہ زہری کو ہٹانے کے بعد نیا وزیراعلیٰ لایا جائے گا جس کے لییمشاورت جاری ہے۔ ادھر صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر ماہی گیری سرفراز چاکر ڈومکی کے بعد وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سماجی بہبود پرنس احمد علی نے بھی اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے ان کے استعفے منظور کرلیے۔ ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری اور ان کے اتحادی پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں مسلم لیگ ن کے صوبائی وزرا میر اظہار کھوسہ، میر حاجی محمد خان لہڑی، رکن اسمبلی سردار صالح بھوتانی، میر عبدالماجد ابڑو، خاتون ارکان کشور جتک اور انتیا عرفان نے ملاقات کی اور وزیراعلیٰ کو حمایت کا یقین دلایا۔ ادھر نیشنل پارٹی نے حاصل خان بزنجو کی سربراہی میں پارٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کی قیادت میں تمام 14ارکان اسمبلی نے ثناء اللہ زہری سے ملاقات کرکے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ