فاٹا کو انتخابات سے قبل پختونخوا میں ضم کیا جائے‘ لیاقت بلوچ کی زیر صدارت فاٹا گرینڈ جرگہ

238
پشاور، قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ پریس کلب میں فاٹا گرینڈ جرگے سے خطاب کررہے ہیں
پشاور، قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ پریس کلب میں فاٹا گرینڈ جرگے سے خطاب کررہے ہیں

پشاور ( نمائندہ جسارت) قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ فاٹا پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے، عام انتخابات سے قبل فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا اعلان کیا جائے، سیاسی غلطیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی لا پرواہی کی وجہ سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ فاٹا کو اپنا حق نہیں مل رہا، پاکستان کی موجودہ صورتحال فاٹا انضمام کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ اگر قرارداد مقاصد اور آئین کو دیکھیں تو ریفرنڈم یا عوام کی رائے لینے کی ضرورت نہیں، چند افراد فاٹا انضمام کے راستے میں رکاوٹ ہیں، مقتدر مفاد پرست طبقے نے ہر مرحلے میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کیں، 70سال سے فاٹا تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے، دوسروں کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے لیکن ہم ان کو انضمام پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے،فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں اور بلدیاتی اداروں میں حق ملنا چاہیے،مرکزی حکومت فوری طور پر فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے قانونی اقدامات اٹھائے ، فاٹا سے فوری طور پر ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا جائے، پشاور ہائی کورٹ اورعدالت عظمیٰ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھایاجائے، قبائل کے انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے ایک بڑے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے ، فاٹا کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے انضمام کے بعد بھی این ایف سی میں 7 فیصد حصہ دیا جائے ،افغانستان کی سرزمین پر امریکی ناکامی صاف نظر آرہی ہے، امریکا کی افغانستان میں موجودگی کا یہ حق بنتا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ لاہورسے جاری اعلامیے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام فاٹا مرجر گرینڈ جرگے سے خطاب کے دوران کیا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ اسی وجہ سے ہوا جب ہم بروقت صحیح فیصلے اور رائے عامہ کا احترام نہ کرسکے، 70 سال سے پاکستان کو بہتر مستقبل دینے کے نام پر جو جو تجربات ہوئے ہیں اس پوری مدت میں فاٹا کے عوام کو نہ تعلیم کا حق ملا، نہ صحت ، تعلیم، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق کی بنیاد پر انصاف کا حق ملا۔ قانون اور عدل کی تمام بنیادوں سے ان کو محروم رکھا گیا، اس سے بڑا اور ظلم کیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کالا قانون ہے، اس کی موجودگی میں فاٹا کے عوام ترقی کرسکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت کو جلد از جلد فاٹا سے ایف سی آر کو ختم کرکے اسے خیبر پختونخوامیں ضم کرنے کے لیے قانون سازی کرلینی چاہیے۔ گرینڈ جرگے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان، فاٹا کے امیر سردار خان، نائب امیر صاحبزادہ ہارون الرشید، قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ، سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان، اے این پی کے رہنما لطیف آفریدی ، مختیار باچا، تحریک انصاف کے رہنما اقبال آفریدی، پیپلز پارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان ، فاٹا یوتھ جرگے کے رہنما عامر آفریدی ، قومی وطن پارٹی کے اسد آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ فاٹا مرجر گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ فاٹاانضمام کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کے ذمے داران جرگے میں شریک ہیں، سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان فاٹا انضمام کے حق میں ہیں ، آئین کے تحت فاٹا پاکستان کا حصہ ہے، فاٹا میں سیاسی اصلاحات روشنی ہے، حکومت فاٹا مرجر ایکشن کمیٹی بنائے، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت موقع ضائع کیے بغیر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا اعلان کرے، فاٹا کو این ایف سی میں بڑا حصہ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمائندگی دی جائے ۔ اے این پی کے رہنما لطیف آفریدی نے مشترکہ اعلامیے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی میں فاٹا کا حصہ مختص کرنے سے کسی کا نقصان نہیں ، جنوری کے آخر تک فاٹا انضمام نہ کیا گیا تو دھرنے دینے کے لیے حکمت عملی مرتب کریں گے۔تحریک انصاف کے رہنما اقبال آفریدی نے کہا کہ آرمی چیف اور سیاسی قیادت انضمام کے حق میں ہیں، چند افراد کی وجہ سے اس مسئلے کو تاخیر کا شکار نہیں کرنا چاہیے۔ قومی وطن پارٹی کے رہنما اسد آفرید ی کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام موقف کی پذیرائی ہوئی ہے، فاٹا مرجر گرینڈ جرگے کے اعلامیے کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ خطے میں قیام امن کے لیے فاٹا انضمام ضروری ہے۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ حکومت کے اپنے نمائندوں نے سفارشات تیار کیں، ہم نے ان کے ساتھ اتفاق کیا، فاٹا انضمام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے دھرنے دیے، اے پی سی بلائے، اب مشترکہ تحریک چلانی ہوگی۔ حکومت بہانے بنارہی ہے ، وہ فاٹا انضمام نہیں کرنا چاہتے، فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ