ڈی جی نادارا کی حافظ نعیم کو شناختی کارڈ کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

305
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ڈی جی نادرا لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد انیس کو شناختی کارڈ کے مسائل سے آگاہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ڈی جی نادرا لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد انیس کو شناختی کارڈ کے مسائل سے آگاہ کررہے ہیں۔ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بدھ کے روز نادرا کے آفس میں ڈائریکٹر جنرل نادرا کراچی ریجن لیفٹیننٹ کرنل (ر)محمد انیس سے ملاقات کی اور کراچی میں قومی شناختی کارڈ کے حصول میں عوام کو درپیش مسائل ومشکلات سے آگاہ کیا ۔ڈائریکٹرجنرل نادرانے حافظ نعیم الرحمن کو یقین دلایا کہ کراچی کے عوام کو شناختی کارڈ کے حصول میں درپیش مشکلا ت کو حل کرنے کے لیے جلد اقدامات کیے جائیں گے ۔ملاقات میں جنرل سیکرٹری کراچی عبدالوہاب ، پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدرو ڈپٹی سیکرٹری کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ،امیر ضلع غربی عبد الرزاق خان اور سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،پبلک ایڈ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی ،نادرا کمپلینٹ سیل کے سید قطب ،طاہر امیر الحسن،سوشل میڈیا کے انچارج سلمان شیخ بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے شناختی کارڈ بنوانے کے سلسلے میں عوام کے مسائل اور ان کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر مشتمل یادداشت بھی پیش کی ۔بعد ازاں انہوں نے پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ کے حوالے سے کراچی کے عوام کے مسائل کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ لیکن بعض مسائل بہت بڑے اور اہم ہیں اور ہم نے ان پرڈی جی نادرا سے تفصیلی بات چیت کی ہے اور یہ مسائل کراچی کے باشندوں کے لیے قومی شناختی کارڈ کے حصول میں دشواریاں اور خاص طور پر وہ افراد جو سابق مشرقی پاکستان اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں اور بنگلا بولنے والے پاکستانی اس میں شامل ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ہر ضلعے میں نادرا آفس پر احتجاجی مظاہرہ کرے گی اور اگر پھر بھی مسائل حل نہ ہوئے تو 27جنوری کو حسن اسکوائر پر ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی صرف ایک شہر نہیں بلکہ یہ منی پاکستان اور عالم اسلام کا دھڑکتا ہوا دل ہے ۔یہاں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر صوبوں اور علاقوں کے لوگ بھی آباد ہیں ۔کراچی کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے مسائل بھی بڑھے ہیں ۔جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔قومی شناختی کارڈ کے حصول میں رکاوٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کوئی آدمی برداشت نہیں کر سکتا ۔طویل عر صے سے یہ بحران موجود ہے مگر اسے حل نہیں کیا گیا ۔شہر پر برسوں ایم کیو ایم نے حکمرانی کی ہے آج بھی کراچی سے 17ارکان قومی اسمبلی ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں مگر متحدہ نے بھی ان مسائل کو حل کر نے کے لیے کچھ نہیں کیا جس کے باعث مسائل میں کئی گنااضافہ ہواہے ۔ قومی شناختی کارڈ کے حصول میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور لمبی قطاروں کے باوجود باری نہ آنے اور شناختی کارڈ نہ بننے سے لاکھوں افراد شدید ذہنی و جسمانی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال بیانات کے بجائے عملے کی تعداد بڑھائیں اور ہر ضلعے میں نادرا دفاتر میں اضافہ کریں تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم ہوسکے۔ڈی جی نادرا کو پیش کی گئی یادداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دفتری اوقات میں آنے والے تمام افراد کو ٹوکن جاری کیا جائے۔دفاتر کی تعداد کم از کم5 گُنا بڑھائی جائے۔ تجدید اور نئے اجرا کے لیے الگ دفاتر قائم کیے جائیں۔ہر ضلعے میں کم از کم ایک میگا سینٹر قائم کیا جائے۔اس وقت صرف3 میگاسینٹرز ہیں۔میگا سینٹر کی وجہ سے جودفاتر بند کر دیے گئے ہیں وہ دوبارہ کھو لے جائیں۔شناختی کارڈ کے حصول کے لیے شہر میں قانوناً کوئی حدود متعین نہیں ہے لیکن پھر بھی شہریوں کو دوسرے سینٹر زجانے کا کہا جاتا ہے ،لہٰذا ہر شہری کو کسی بھی دفتر سے شناختی کارڈ حاصل کرنے کی سہولت دی جائے ۔ لوگوں کو گھنٹوں لائنوں میں کھڑا کرکے تکلیف اور تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے اور سینٹرز پر سایہ، پانی ،بیت الخلا اور بیٹھنے کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔فوری طور پر بندکیے جانے والے دفاتر بالخصوص بلدیہ ، لانڈھی ، حیدری، نصیر آباد والے آفس کھولے جائیں۔ شناختی کارڈ کے حصول کے لیے مقررہ ایس او پی کی بھرپورتشہیر کی جائے اور عملے کو پابند کیا جائے کہ وہ اس کے سوا لوگوں سے کسی اور قسم کا مطالبہ نہ کرے۔ہزاروں کی تعداد میں کارڈز اب تک بلاک ہیں اس طرح کے کارڈز کے حامل شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ بلاک کیے گئے کارڈز پر دفتری کارروائی جلد از جلدمکمل کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ