امریکا بھارت کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے، پروفیسر ساجد میر

30

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر امریکا کا خود آکر کارر وائی کرنے کا اعلان کھلی جارحیت ہے۔ امریکا بھارت کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے تو دہشت گردی پر قابو پایاسکتا ہے۔ پاکستان کے کھلے دیرینہ دشمن بھارت کو امریکا اپنا فطری اتحادی قرار دے رہا ہے۔ یہ پالیسی خطے میں قیام امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ہم امریکا کے ساتھ تعلقات میں خرابی نہیں چاہتے۔ مگر ہم اپنی آزادی اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتا بھی نہیں کرسکتے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے مرکز راوی روڈ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ جب سے بھارت کو افغان امن عمل کے نام پر پاکستان کی نگرانی کا کردار سونپا گیا ہے‘ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ علاقائی امن و سلامتی کا افغانستان میں امن کی بحالی پر ہی دارومدار ہے اور خود ہمارا امن و استحکام بھی افغانستان کے امن و استحکام کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے افغانستان میں امن کی بحالی ہمارے اپنے مفاد میں ہے جس کے لیے پاکستان ہر علاقائی اور عالمی فورم پر کوششیں بروئے کار لارہا ہے، کابل انتظامیہ کو بھی اسی تناظر میں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کیخلاف پاکستان کی جانب سے ’’نومور‘‘ کا پیغام دیتے رہے ہیں تو اب امریکی وزیر دفاع کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر بھی ہماری سول قیادتوں کی جانب سے واشنگٹن انتظامیہ کو ایسا ہی ٹھوس جواب ملنا چاہیے تھا۔ ہمیں امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر قطعاً اعتراض نہیں مگر اسے اپنی مجبوری بنانا اسکے سامنے اپنی کمزوری ظاہر کرنے کے مترادف ہوگا۔ ہمیں آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے تشخص اور وقار پر حرف نہیں آنے دینا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ