حیدر آباد، آباد گاروں نے دوبارہ دھرنے کی دھمکی دیدی

35

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) آباد گاروں نے ایک بار پھر سندھ حکومت کو دھرنے کی دھمکی دے دی ، ایوان زراعت سندھ کی میزبانی میں سندھ کی آباد گار تنظیموں کا ایک اہم اجلاس ایگریکلچرل پلازا میں منعقد ہوا جس کی صدارت ایوانِ زراعت سندھ کے صدر قبول محمد کھٹیان نے کی۔ اجلاس میں سندھ آباد گار بورڈ کے صدر عبدالمجید نظامانی ، سندھ آباد گار تحریک کے سربراہ نواب زبیر تالپور، سندھ ایگری کلچرل ریسرچ کے رہنما علی پلھ ایڈووکیٹ اور دیگر رہنماؤں نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاسما اور سندھ حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے ان رہنماؤں نے کہاکہ شوگر ملز مالکان کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ شوگر ملز مالکان و پاسما بلیک میلنگ پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف تو سندھ حکومت شوگر ملز مالکان کو 20روپے فی کلو چینی سبسڈی دے رہی ہے دوسری جانب حکومت سندھ کے اپنے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عمل در آمد نہیں کرایا جارہا ہے جس کے مطابق آباد گاروں کو گنے کی فی من ادائیگی 182روپے ہونا ہے۔ اجلا س میں کہا گیا کہ حکومت سندھ 20شوگر ملز مالکان کو نوازنے میں دلچسپی رکھتی ہے اور اسے خیال نہیں کہ پاسما نے اس کی رِٹ کو چیلنج کیا ہے۔ حکومت کے نوٹی فکیشن کے برخلاف ملز مالکان گنے فی من 130 روپے کا ریٹ دے رہے ہیں جوزیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سکرنڈ و قاضی احمد کے آباد گار احتجاجاً گنے کو آگ لگا چکے ہیں یہ آگ پورے سندھ میں پھیل سکتی ہے، صوبے میں 69000ایکڑ پر گنا تیار کھڑا ہے یہ اربوں روپے مالیت کا گنا ہے ہم نہیں چاہتے کہ صوبہ و ملک کی معیشت کو تباہ کیا جائے لیکن حکومت ہمیں غلط راستے پر ڈال رہی ہے۔ آباد گار رہنماؤں نے دھمکی دی ہے کہ حکومت سندھ نے اگر 22دسمبر تک ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے اور ملز چالو کراکے 182 روپے فی من گنا خرید نہیں کیا گیا تو 23دسمبر کو قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جائے گا، حیدرآباد بائی پاس کو بند کردیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ