سیکورٹی ایجنسیز پر غیر منصفانہ جی ایس ٹی کا جائزہ لیاجائے، مفسر ملک

34

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے صدر مفسر عطا ملک نے سیکورٹی ایجنسیز کے کاروبار میں حائل دشواریوں کاجائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے چیمبر اور تاجروصنعتکار برادری کی حقیقی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے کے سی سی آئی جلد ہی سندھ ریونیو بورڈ( ایس آر بی) کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کرنے کے لیے رابطہ کرے گا جس میں سیکورٹی سروسز پر عائد 10فیصد غیر منصفانہ جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیاجائے گا۔اس امر کا اظہار انہوں نے آل پاکستان سیکورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن( ایپسا) کے چیئرمین میجر(ر) منیر احمد کی سربراہی میں کراچی چیمبر کا دورہ کرنے والے وفد سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق، نائب صدر ریحان حنیف، اعزاز جنرل سیکر ٹری ایپسا کرنل (ر) توقیرالسلام اور دیگر ممبران کے علاوہ کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔مفسر عطا ملک نے کہاکہ سندھ ریونیوبورڈ( ایس آر بی) کو سیکورٹی ایجنسیز پر 10فیصد غیر منصفانہ جی ایس ٹی کا جائزہ لینا چاہیے۔کے سی سی آئی نے وزیراعلیٰ سندھ کے کراچی چیمبر کے دورے کے موقع پر بھی اس مسئلے پر آواز بلند کی تھی جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین ایس آر بی کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری تبادلہ خیال کرنے کی ہدایت دی لیکن بدقسمتی سے اب تک نہ تو کوئی اجلاس بلایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی پیش رفت سامنے آئی۔کے سی سی آئی سیکورٹی ایجنسیز کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ترجیحی بنیاد پر سنجیدگی سے اس مسئلے پر توجہ دے گا۔ اس موقع پرایپسا کے چیئرمین میجر(ر) منیر احمد نے کہاکہ عوام کی زندگیوں اور ان کی ملکیت کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن جیسا کہ یہ ذمے داری موثر طریقے سے نہیں نبھائی جارہی تو ایسی صورت حال میں تاجربرادری کے پاس نجی سیکورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں جس کے نتیجے میں انہیں سیکورٹی کی مد میں اضافی اخراجات کا سامنا ہے جبکہ سیکورٹی ایجنسیز پر عائد10فیصد غیر منصفانہ جی ایس ٹی نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ۔انہوں نے سیکیورٹی سروسز پر غیر منصفانہ جی ایس ٹی کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام کو قائل کرنے کے لیے کے سی سی آئی سے تعاون طلب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ میں سیکیورٹی ایجنسیز 10فیصد جی ایس ٹی ادا کرتی ہیں جبکہ پنجاب میں یہ جی ایس ٹی 16فیصد ہے اوردیگر دو صوبوں میں بھی اس کی شرح ڈبل ڈیجٹ ہی ہے جس کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے یا پھر اسے کم کرنا چاہیے تاکہ سیکیورٹی سروسز کی زائد لاگت کو کم کیاجاسکے جس کا بوجھ کلائنٹس کو برداشت کرنا پڑتا ہے جنہیں ریاست کی جانب سے بلا معاوضہ سیکیورٹی ملنی چاہیے۔میجر ( ر) منیر احمد نے پاکستان بھر میں سیکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے والی سیکیورٹی ایجنسیز کو ایپسا کی ممبر شپ حاصل کرنے کو لازمی قرار دینے کے لیے حکام بالا کو قائل کرنے کے لیے بھی تعاون طلب کیا جس کے نتیجے میں خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطا ملک نے وفد کے اراکین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر بغیر کسی دشواری کے کاروبار کو چلانے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایپسا کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مختلف ایجنسیز کی جانب سے غیر معیاری سیکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لاگت میں اضافے کی وجہ سے سیکورٹی خدمات کے معیار میں کمی واقع ہورہی ہے۔پاکستان میں سیکیورٹی ایجنسیز کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے اوراس قسم کے غیر منصفانہ ٹیکسوں کے نفاذ نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ایپساکے ممبران نے قانونی اور غیر قانونی سیکیورٹی ایجنسیز کے بارے میں تاجروصنعتکار برادری کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے بھی کراچی چیمبر سے تعاون طلب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ