سندھ ہائیکورٹ نیب افسران کیخلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر برہم

128
سندھ ہائیکورٹ کا کراچی میں یکم اپریل تک دودھ 85روپے فی لیٹر فروخت کرنے کا حکم

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے شہری کے مبینہ اغوا اور رشوت طلب کرنے کے سے متعلق نیب افسران کے خلاف نیب انکوائری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نیب افسران کے خلاف مقدمہ درج نا کرنے پربر ہم ہوتے ہوئے اے آئی جی لیگل و دیگر کو 14 دسمبر کو طلب کرلیا۔ چیف
جسٹس کی سربراہی میں2 رکنی بینچ کے روبرو نیب افسران کی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ افسر کو مبینہ اغوا اور رشوت طلب کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔پراسیکیوٹر نیب نے چیئرمین نیب کی افسران کے خلاف کارروائی رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔ عدالت نے اے آئی جی لیگل اور ایس ایچ او درخشان کو 14 دسمبر کو طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ اغوا میں ملوث نیب افسران کے خلاف نیب ہی انکوائری کررہا ہے، یہ کونسا انصاف ہے؟۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اغوا میں ملوث نیب افسران کو عہدوں سے نہیں ہٹا گیا؟ جن افسران پر شہریوں کے اغوا اور رشوت لینے کے سنگین الزامات ہیں وہ ابھی تک ڈیوٹی کررہے ہیں۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ملوث افسران کے خلاف ڈی جی نیب نے انکوائری کمیٹی بنا دی ہے۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ جس کو اغوا کیا گیا ہوسکتا ہے وہ کرپشن میں ملوث ہو، نیب والے کون ہوتے ہیں کہ کسی کو اغوا کریں۔ نیب افسران قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتے، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اب نیب کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیں گے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اغوا میں ملوث افسران کے خلاف چیئرمین نیب نے خود انکوائری کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نیب اہلکاروں سرویچ شیخ، چودھری بلال اور دیگر نے میرے موکل سکندر ابڑو کو رات 12 بجے اپنے پاس بلایا۔ سکندر ابڑو کی بازیابی کے لیے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا۔بعدازاں نیب افسران فرار ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ