عدالت عظمیٰ کا غیر قانونی کاروبار میں ملوث واٹر بورڈ عملے کیخلاف بھی کاروائی کا حکم 

38

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے کراچی میں غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور فیکٹریوں کو دیئے گئے غیر قانونی کینیکشن بھی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے 24 ہائیڈرنٹس مالکان کی اپیلیں مسترد کردیں۔ غیرقانونی کاروبار میں ملوث واٹر بورڈ کے عملے کے خلاف بھی کارروائی کا حکم۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر غلط بیانی کی تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی اور سزا بھی ملے گی۔ عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں کراچی میں غیر قانونی واٹر
ہائیڈرنٹس کے خاتمے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے غیرقانونی واٹر ہائیدرنٹس کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ واٹر ٹینکرز کے سرکاری نرخ مقرر کردیے ہیں۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ 107 غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کردیے ہیں۔ عدالتی حکم پر شہر میں 6 قانونی ہائیڈرنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر غلط بیانی کی گئی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی اور سزا بھی ملے گی، ایم ڈی صاحب آپ لکھ کر دیں اب کوئی نیا غیر قانونی ہائیڈرنٹس نہیں بنے گا۔ ہاشم رضا زیدی نے کہا غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خاتمے سے واٹر بورڈ کی آمدنی میں 8 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غیرقانونی کاروبار میں واٹر بورڈ کا عملہ ملوث ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کریں، غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا واٹر بورڈ کے افسر راشد صدیق کے خلاف کیا ایکشن لیا؟ جس پر ایم ڈی نے جواب دیا کہ ان کے عہدے میں تنزلی کر دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ لکھ کر دیں کہ جس افسر کی حدود میں ہائیڈرنٹ بنے گا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وکیل ہائیڈرنٹس مالکان کا کہنا تھا کہ زیر زمین سے کھارا پانی نکالنے کی اجازت دی جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ پانی میٹھا ہو یا کڑوا اسے بند رہنا چاہیے، جو ہائیڈرنٹس بند ہوگئے اسے بند رہنے دیں کسی کو دوبارہ کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ جس پر وکیل نے کہا کہ اس طرح فیکٹریوں کو نقصان ہوگا، فیکٹریاں بند ہوجائیں گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فیکٹریوں کے لیے ٹینکرز چلانے کی اجازت کیسے دے دیں ؟ رکن صوبائی اسمبلی حفیظ الدین نے کہا صنعتی علاقوں میں پانی چوری کے لیے واٹر بورڈ کا متوازی نظام موجود ہے، فیکٹریوں کو غیر قانونی کنکشن کے ذریعے اب بھی پانی دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو حکم دیا کہ جن فیکٹریوں کو غیر قانونی کنکشن دیے گئے ہیں انہیں فوری بند کیا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ کنویں کھودنے نہیں دیں گے، ہائیڈرنٹس مالکان جائیں اور واٹر بورڈ کے خلاف ازالے کاکیس دائر کریں۔ ہم کیس ختم کررہے ہیں ،عدالت عظمیٰ کو غیر ضروری کیسز کے بوجھ تلے تباہ نہیں کرسکتے۔ عدالت نے واٹر ہائیڈرنٹس سے متعلق از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی نے سما عت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 2016-17 ء میں ہم نے 117 سے زیادہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس بند کیے،56 ایف آئی آر ہم نے غیر قانونی ہائیڈرنٹس کیخلاف درج کرائے، واٹر بورڈ حلف نامہ بھی جمع کرائے گا اور ہائیڈرنٹس مستقل بنیادوں پر ختم کیے جائیں گے، متعلقہ عملہ ملوث ہوا تو اس کیخلاف بھی کارروائی کریں گے،سبسوائل واٹر کے بارے میں مزید عدالت کا حکم نامہ آئے گا تو معلوم ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ