روہنگیا مہاجرین کیخلاف انٹر نیشنل کرائسس گروپ کی ہرزہ سرائی 

172
ڈھاکا: بنگلادیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکسس بازار کے خستہ حال کیمپوں میں روہنگیا مہاجرین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں
ڈھاکا: بنگلادیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکسس بازار کے خستہ حال کیمپوں میں روہنگیا مہاجرین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا کہنا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کے کیمپس علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اس گروپ نے ان مہاجرین کی میانمر جلد واپسی اور آبادکاری کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ رواں برس پچیس اگست سے میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حکومتی فوجی اقدامات کے بعد چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان مہاجرین سرحد عبور کر کے بنگلادیش میں پناہ حاصل کر چکے ہیں۔ بنگلادیشی ساحلی شہر کاکسس بازار میں ان مہاجرین کے کیمپ قائم کیے جا چکے ہیں۔ مختلف اقوام کے درمیان پیدا مسلح تنازعات کے جائزہ لینے والے بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے واضح کیا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کی میانمر واپسی میں جتنی تاخیر ہو گی، یہ اتنا ہی علاقائی سیکورٹی کے لیے خطرات کا باعث بنتے جائیں گے۔ گروپ کے مطابق کیمپوں میں قیام کے دوران روہنگیا مہاجرین مسلح عسکری گروہوں کا حصے بھی بن سکتے ہیں۔ گروپ کے مطابق کیمپوں میں مقیم افراد کو اراکان عسکری تنظیم متاثر کر سکتی ہے۔ گروپ نے سرزہ گوئی کرتے ہوئے کہا کہ کیمپوں میں مقیم رہتے ہوئے روہنگیا مسلمان مہاجرین اسرا تنظیم کا حصہ بنتے ہوئے بنگلادیش کی سرحد عبور کر کے میانمر میں مسلح حملے کر سکتے ہیں۔ اس تجزیے میں مزید کہا گیا کہ اگر ایسے منظم حملوں کا آغاز ہو گیا تو روہنگیا مہاجرین کا بحران مزید پیچیدگی اختیار کرتے ہوئے بنگلادیش اور میانمر کو بھی اس تنازع کا حصہ بنا دے گا۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے انتباہ کیا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کی حالت زار سے القاعدہ بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے اور ان افراد کے ساتھ ہمدردی کے اظہار سے انہیں جہادی سرگرمیوں میں شریک کرنے پر راغب کر سکتی ہے۔ اسی کارروائیاں القاعدہ کے علاوہ داعش اور دوسرے جہادی گروہ بھی شروع کر سکتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی نے ابھی تک اپنے آپ کو دوسری جہادی تنظیموں سے دور رکھا ہوا ہے اور یہ خود کو روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کی نگران قرار دیتی ہے۔ اس تناظر میں خیال کیا جا رہا ہے کہ میانمر پر عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ