افکار سید ابوالا علی مودودیؒ 

48

اشتعال انگیزی
قوموں کا صحیح نشوونما اور اْٹھان اگر ہو سکتا ہے تو صرف تعمیری اخلاقیات اور ایک صالح نصب العین ہی کے بَل پر ہو سکتا ہے۔ جو لیڈر اِس طریقے کو چھوڑ کر قومیت کے استحکام و ترقی کے لیے نفرت اور خطرے اور اشتعال ہی کو مستقل وسائل کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں وہ اپنی قوم کا مزاج بگاڑ دیتے ہیں اور ایسے ذرائع سے اْٹھی ہوئی قوم ایک نہ ایک دن بْری طرح ٹھوکر کھا کر گرتی ہے۔ (اسلام اور جدید معاشی نظریات)
*۔۔۔*۔۔۔*
صداقت و انصاف کا احترام
کسی معاشرے کے لیے اِس سے بڑھ کر نقصان دِہ کوئی چیز نہیں ہو سکتی کہ اْس میں جب بھی کسی کو کسی سے اختلاف ہو تو وہ ’’جنگ میں سب کچھ حلال ہے‘‘ کا اِبلیسی اصول اختیار کر کے اْس پر ہر طرح کے جھوٹے الزامات لگائے، اْس کی طرف جان بوجھ کر غلط باتیں منسوب کرے، اْس کے نقطۂ نظر کو قصدًا غلط صورت میں پیش کرے، سیاسی اختلاف ہو تو اْسے غدّار اور دشمنِ وطن ٹھیرائے، مذہبی اختلاف ہو تو اْس کے پورے دین و ایمان کو مْتہم کر ڈالے اور ہاتھ دھو کر اْس کے پیچھے اِس طرح پڑ جائے کہ گویا اب مقصدِ زندگی بس اْسی کو نیچا دکھانا رہ گیا ہے۔
اختلاف کا یہ طریقہ نہ صرف اخلاقی لحاظ سے معیوب اور دینی حیثیت سے گناہ ہے، بلکہ عملًا بھی اس سے بے شمار خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اِس کی بدولت معاشرے کے مختلف عناصر میں باہمی عداوتیں پرورش پاتی ہیں۔ اس سے عوام دھوکے اور فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اختلافی مسائل میں کوئی صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے۔ اِس سے معاشرے کی فضا میں وہ تکدّر پیدا ہو جاتا ہے جو تعاون و مفاہمت کے لیے نہیں بلکہ صرف تصادم و مزاحمت ہی کے لیے سازگار ہوتا ہے۔ اِس میں کسی شخص یا گروہ کے لیے عارضی منفعت کا کوئی پہلو ہو تو ہو، مگر بحیثیت مجموعی پوری قوم کا نقصان ہے، جس سے بالآخر خود وہ لوگ بھی نہیں بچ سکتے جو اختلاف کے اِس بی ہودہ طریقے کو مفید سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔ (تفہیمات، حصہ پنجم)
*۔۔۔*۔۔۔*
اْمّت کے اندر خرابی کا ایک بہت بڑا سبب
آپ خواہ کتنے ہی صالح اور نیک نیت ہوں، اور آپ کا مقصد خواہ ٹھیک ٹھیک وہی ہو جو انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد تھا، اور آپ کے اصولِ اجتماعی بھی وہی ہوں جو اسلامی نظامِ جماعت کے اصول ہیں، بہرحال شریعت آپ کو یہ حق ہرگِز نہیں دیتی کہ آج آپ چند آدمی مِل کر ایک جماعت بنائیں اور کل یہ اعلان کر دیں کہ دنیا بھر کے وہ سارے مسلمان غیر مْسلم ہیں جو آپ کی اِس جماعت میں شامل نہیں ہیں اور ہر اْس مسلمان کی موت جاہلیّت کی موت ہے جس کی گردن میں آپ کے اَمیر کی بیعت کا حلقہ نہیں ہے۔ اِس طرح کا رویّہ آپ اختیار کریں گے تو اپنے شرعی حقوق سے تجاوز کریں گے اوراصلاح کے بجائے اْمّت کے اندر مزید خرابیوں کے موجب بنیں گے۔ (تفہیمات، حصہ دوم)
*۔۔۔*۔۔۔*
خانہ کعبہ اور انسانی دِل
عالَمِ اسلام کے اندر خانہ کعبہ کی وہی مثال ہے جو انسان کے جسم میں دل کی ہوتی ہے۔ انسان کے جسم میں دل کا مقام یہ ہے کہ وہ رَگ رَگ سے خون کھینچ کر اپنی طرف لاتا اور پھر اْس کو پمپ کر کے صالح شکل میں انسان کے جسم کی رَگ رَگ میں واپس پہنچاتا ہے۔ جسدِ ملّت کے لیے ایسا ہی عمل خانہ کعبہ کرتا ہے۔ یہ ہر سال دنیا کے ہر گوشے سے مسلمانوں کو کھینچ کر لاتا ہے اور اْن کو گناہوں کی آلائشوں سے اور سیرت و کردار کی خامیوں سے پاک کر کے اْن کے اندر ایک نئی اور صالح زندگی کی افزائش کر کے دنیا کے گوشے گوشے میں واپس پہنچاتا ہے۔
اِس دل کی یہ دھڑکن جب تک ہو رہی ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو نہیں مِٹا سکتی۔ اِن شاء اللہ قیامت تک اسلام قائم رہے گا۔ (خطباتِ حرم)
*۔۔۔*۔۔۔*
سیکیولرزم ، دہریت۔۔۔
سیکیولرزم اور دہریت نے جو کام کیا ہے وہ یہ ہے مغربی قوموں کو خدا اور آخرت سے بے فکر کر کے خالص مادہ پرستی کا عاشق اور مادی لذائذ و فوائد کا طالب بنا دیا ہے۔ مگر ان قوموں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جن اخلاقی اوصاف سے کام لیا وہ اْن کو سیکیولرزم یا دہریت سے نہیں ملے بلکہ اْس مذہب (عیسائیت) ہی سے ملے جس سے وہ بغاوت پر آمادہ ہوگئے تھے۔
اِس لیے یہ خیال کرنا سرے سے غلط ہے کہ سیکیولرزم یا دہریت ترقی کی موجب ہیں۔ وہ تو اس کے برعکس انسان کے اندر خودغرضی، ایک دوسرے کے خلاف کشمکمش اور جرائم پیشگی کے اوصاف پیدا کرتی ہیں جو انسان کی ترقی میں مددگار نہیں بلکہ مانع ( رکاوٹ) ہیں۔ (رسائل و مسائل، چہارم)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ