ایصال ثواب

89

ندیم احمد انصاری

قانونِ الٰہی کے مطابق تمام بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دنیا میں ان امور کی انجام دہی میں زندگی بسر کریں جن کے باعث روزِ قیامت نیکیوں کا پلڑا بھاری اور جنت کا پروانہ نصیب ہوسکے۔ ہر انسان کو اس بات کی مکمل کوشش کرنی ضروری ہے، اس کے باوجود کسی کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے اعمال پر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکہ فلاں عمل میری نجات کے لیے کافی ہوجائے گا؛ اس لیے کہ ہمارا عمل اللہ کے یہاں قابلِ قبول ہے بھی یا نہیں، اس کا ہم میں سے کسی کو کوئی علم نہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہمت و توفیق کے موافق عمل کرکے جب انسان اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے متعلقین کے لیے مستحب ہے کہ اپنے رشتے داروں و عزیزوں کے لیے حسبِ استطاعت ایصالِ ثواب اور دعاے مغفرت کا اہتمام کرتے رہیں۔ زندوں کا مْردوں کے حق میں دعاے خیر اور ایصالِ ثواب کرنا خود ان کے حق میں بھی ثواب کا باعث اور مْردوں کے حق میں مغفرت اور درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے۔ البتہ یہ صورت وقتی طور پر ثواب کے انتظام کی ہے؛ اس لیے متوفی کو حسبِ استطاعت دائمی ثواب پہنچانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کی طرف سے کوئی ایسا نیک کام کیا جائے جس سے لوگ مسلسل فائدہ اٹھاتے رہیں، مثلاً کسی نیک کام کے لیے زمین وقف کردی جائے وغیرہ۔ (بخاری) یہ بھی واضح رہے کہ ایصالِ ثواب کے لیے یہ شرط نہیں کہ جسے ایصالِ ثواب کیا جا رہا ہے، وہ وفات پا چکا ہو؛ بلکہ زندوں کو بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔ (شامی)
معلوم ہوا کہ لسانی وجسمانی عبادات میں سے ہر شخص اپنے گھر میں انفرادی طور پر جو نیک عمل اپنے لیے کرتا ہے؛ نفل نماز پڑھتا ہے، نفل روزے رکھتا ہے، تسبیحات پڑھتا ہے، تلاوت کرتا ہے، نفل حج یا عمرہ کرتا ہے، طواف کرتا ہے، اس میں صرف یہ نیت کر لے کہ اس کا ثواب ہمارے فلاں عزیز یا دوست کو پہنچے، وہ پہنچ جائے گا اور بس یہی ایصالِ ثواب ہے، وہ ثواب جو آپ کو ملنا تھا آپ کو بھی بھی ملے گا اور جن دوسرے لوگوں کی نیت کی ہے، ان سب کو بھی پورا ثواب ملے گا۔ (احسن الفتاویٰ)
اکثر علمائے اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی نفلی عبادتوں؛ خواہ وہ مالی ہوں یا بدنی، یا دونوں سے مرکب، ان کا ثواب دوسرے زندہ یا مردہ لوگوں کو بخش سکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی نفل نمازیں، روزے یا حج وعمرہ یا قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنے مرحوم یا زندہ متعلقین کو پہنچانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بس شرط یہ ہے کہ یہ اعمال نفلی ہوں اور ان پر دنیا میں کوئی اجرت نہ لی گئی ہو۔
ایصالِ ثواب کا طریقہ
ایصالِ ثواب اسی طرح کریں جس طرح سلفِ صالحین کرتے تھے، بلا تقیید وتخصیص اپنی ہمت کے موافق حلال مال سے مساکین کی خفیہ مدد کریں اور جو کچھ توفیق ہو خود قرآن (جتنا ہو سکے پڑھ کر یا) ختم کرکے اس کو پہنچا دیں یا قبرستان میں قبلِ دفن جو فضول خرافات میں وقت گزار دیتے ہیں، اس وقت کچھ کلامِ الٰہی ہی پڑھتے رہا کریں؛ بلکہ یہ وقت میت کی مدد کرنے کے لیے زیادہ مناسب ہے؛ اس لیے کہ انسان کی سانسیں رکتے ہی اس کی اْخروی زندگی کے معاملات شروع ہوجاتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی اکرمؐ نے سعد بن معاذؓ کو دفن کرکے کچھ تسبیح وغیرہ پڑھیں، جس سے ان کو ضیقِ قبر سے نجات ہوئی۔ غرض، ایصالِ ثواب سے کوئی منع نہیں کرتا؛ البتہ منکرات و مکروہات سے منع کرتے ہیں، جن سے ثواب بھی نصیب نہیں ہوتا اور مال بھی برباد ہوتا ہے۔ (احسن الفتاویٰ) زیادہ نہ ہو سکے تو تین مرتبہ قل ھواللہ ہی پڑھ کر بخش دیں، جس سے پورے قرآن مجید کا ثواب مل جائے گا، یہ اس سے بھی اچھا ہے کہ اجتماعی صورت میں دس قرآن ختم کیے جائیں، اللہ کے یہاں تھوڑے بہت کو نہیں دیکھا جاتا، خلوص اور نیت دیکھی جاتی ہے؛ چناں چہ نبیؐ فرماتے ہیں کہ میرا ایک صحابی ایک مْدکھجور خیرات کرے اور غیرصحابی اْحد پہاڑ کے برابر سونا، تو یہ اس درجے کو نہیں پہنچ پاتا، یہ فرق خلوص اورعدمِ خلوص کا ہے؛ کیوں کہ جو خلوص ایک صحابی کا ہوگا، وہ غیر صحابی کا نہیں ہو سکتا۔ (فتاویٰ رحیمیہ) خلاصہ یہ کہ ایصالِ ثواب کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ہے، نہ اس میں کسی دن کی قید ہے، نہ کسی خاص ذکر کی پابندی ہے اور نہ قرآنِ کریم کو ختم کرنا ضروری ہے؛ بلکہ بلاتعیین جو نفلی عبادت بدنی ومالی بہ سہولت ہوسکے، اس کا ثواب میت کو پہنچایا جاسکتا ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ)
ایصالِ ثواب کے درجات
ایصالِ ثواب کی مختلف صورتوں کے متعلق یہ تفصیل پیشِ نظر رہے :
1۔ سب سے افضل اور بہتر صورت تو یہ ہے کہ مستحقین کو نقد تقسیم کر دیا جائے؛ کیوں کہ نہ معلوم انھیں کیا ضرورت ہے۔
2۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ خشک جنس دی جائے کہ جب جی چاہے گا پکا کر خود کھا لے گا۔
3۔ تیسرے درجے کی صورت یہ ہے کہ پکا کر خود کھلایا جائے اور اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ روزانہ ایک دو خوراک پکا کر مستحقین کو کھلایا جائے، ایک دم پکانے میں مستحق اور غیر مستحق سب جمع ہو جاتے ہیں؛ بلکہ زیادہ برادری ہی کھاتی ہے، جیسا کہ رسم ہے (اس میں دکھاوا تو خوب ہو جاتا ہے؛ لیکن ثواب کچھ نہیں ملتا)۔ قرآن شریف میں ایصالِ ثواب کے لیے احبابِ خاص سے کہہ دیا جائے کہ اپنے اپنے مقام پر حسبِ توفیق پڑھ کر ثواب پہنچا دیں۔ اجتماعی صورت اس میں بھی مناسب نہیں؛ کیوں کہ اس میں اکثر اہلِ میت کو جتلانا ہوتا ہے، خلوص نہیں ہوتا۔ (جواہر الفقہ)
غیر مسلم کو ایصالِ ثواب
کافر کے لیے ایصال ثواب و دعاے مغفرت مفید اور جائز نہیں۔ (کفایت المفتی) اس مسئلے کو اس طرح سمجھیں کہ آخرت میں ثواب پانے کے لیے ایمان کے ذریعے کھاتہ کھلوانا ضروری ہے، جب کسی نے وہ کھاتہ ہی نہیں کھلوایا تو آپ اسے اپنی نیکیوں کے بینک سے ثواب بھی ٹرانسفر نہیں کر سکتے۔
ایصالِ ثواب کی نذر ماننا
بعض لوگ ایصالِ ثواب کی نذر مان لیتے ہیں؛ لیکن ایصالِ ثواب کی نذر منعقد نہیں ہوتی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ