امام بخاری ؒ 

88

امام بخاریؒ (متوفی 256ھ) کے زمانے میں احادیث مبارکہ کی سیکڑوں کتابیں لکھی گئیں، اس زمانے میں کئی مصنفین ومحدثین کا دور دورہ تھا، ایک ایک محدث کے سیکڑوں شاگر ہوا کرتے تھے، ان سب کے باوجود جو قبولیت اللہ تعالیٰ نے امام بخاریؒ اور ان کی کتاب کو نصیب فرمائی وہ دوسروں کے حصے میں نہیں آئی، اس کے اسباب ووجوہات پر نظر ڈالتے ہوئے علما نے بنیادی وجہ بیان کی ہے کہ ان کے والد بزرگوار نے اپنے بچے کے لیے حلال اور پاکیزہ غذا کا اہتمام کیا تھا، حرام اور مشتبہ مال سے اپنے اہل وعیال کی حفاظت فرمائی تھی، جس حلال کی برکت اتنے بڑے علمی کارنامے کے ذریعے ظاہر ہوئی، بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ (قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب) کا درجہ حاصل ہوا ہے، انسان کے کارنامے کو یہ درجہ حاصل ہونا کوئی معمولی بات نہیں، علما نے ارشاد فرمایا کہ اس درجے کے حاصل ہونے میں ان کے والد کا کھانے کے سلسلے میں کمال احتیاط کو بڑا دخل ہے، جب کہ ان کے والد نے انتقال کے موقع پر اپنے کثیر مال کے متعلق فرمایا تھا کہ ’’میرے مال میں کوئی درہم حرام تو درکنار شبہ کا بھی نہیں ہے۔‘‘ (فتح الباری) اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ایک اپنی آمدنی کے ذرائع پر نظر رکھے پاکیزہ اور طیب کی تلاش میں رہے اور حرام وناپاک مال سے اجتناب کرے۔
غیبت سے اجتناب
حدیث مبارک میں آپؐ نے مسلمانوں کی تعریف کی ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ وزبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (مشکوۃ) اس لحاظ سے دوسرے مسلمان کو ہاتھ سے اذیت پہنچانا تو دشوار ہے؛ لیکن زبان سے اذیت دی جاسکتی ہے اور اس سے بچنا نہایت دشوار مرحلہ ہے۔ اس میں بھی غیبت سے بچنا بہت ہی مشکل ہے، نیز ایسے موقع پر جب کہ مخالفین کی جانب سے زبان وقلم کے نشتر چلائے جارہے ہوں اور مخالفین نیچا دکھانے کے لیے ہر جانب سے کوشاں ہوں، اس کے باوجود حق پر زبان کی استقامت میں ذرہ برابر فرق نہ آنا یہ امام بخاریؒ کی کرامت سے بڑھ کر ہے، امام بخاریؒ نے فرمایا: جب سے مجھے غیبت کے حرام ہونے کا پتا چلا تب سے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی، ایک اور روایت میں یوں ہے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میں اس حالت میں ملوں گا کہ اللہ تعالیٰ غیبت کے سلسلے میں مجھ سے حساب نہیں لیں گے؛ کیوں کہ میں نے کسی کی غیبت نہیں کی، یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انھیں مقبولیت کا یہ مقام ومرتبہ نصیب فرمایا۔
علمی وقار کی حفاظت
امام بخاریؒ کی نماز
نماز بندۂ مومن کی معرا ج ہے، اللہ تعالیٰ سے قرب الٰہی کا ذریعہ ہے، صحابہ کرامؓ کی حالت، نماز میں ایسی ہوتی کہ گویا کہ وہ خشک لکڑی ہیں، آپؐ کو نماز سے اتنا لگاؤ تھا کہ عبادت کرتے ہوئے پائے مبارک پر ورم آجاتا؛ بلکہ پھٹ جاتا، کوئی ادنیٰ سا معاملہ پیش آتا تو نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے، اسی نماز کے تعلق سے آپؐ نے حدیث جبرئیل میں تعلیم دی کہ نماز میں اتنا استحضار پیدا کرو کہ نماز میں یہ تصور قائم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کو تم دیکھ رہے ہو، اگر یہ نہ ہو توکم ازکم یہ تصور تو قائم کرو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہے ہیں۔ (مشکوۃ) اس سے تمہاری عبادتوں میں احسانی کیفیت حاصل ہوگی۔ امام بخاریؒ کی نماز کیسی احسانی کیفیت سے معمور تھی، آپ اس واقعے سے اندازہ لگائیے کہ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے بھڑنے آپ کے جسم پر سترہ دفع کاٹا، جب آپ نے نماز پوری کی تو کہا کہ دیکھو کونسی چیز ہے جس نے مجھے نماز میں تکلیف دی ہے، شاگردوں نے دیکھا تو بھڑ تھی جس کے کاٹنے سے ورم آگیا تھا، آپ سے جلدی نماز ختم کرنے کی بات کہی گئی تو فرمایا کہ میں جس سورت کی تلاوت کررہا تھا اس کے ختم کرنے سے قبل نماز ختم کرنا نہیں چاہ رہا تھا۔ (فتح الباری)
امام بخاریؒ کا مجاہدہ
محنت کے بقدر بلندیاں نصیب ہوتی ہیں، نیز جو بلندیاں چاہے وہ راتوں کو جاگا کرے، محنت کی جو بھی شکل ہو امام بخاریؒ اسے اپنانے سے ہرگز گریز نہیں کرتے تھے، علم کے لیے مجاہدہ کی بابت امام محمد بن ابی حاتم وراق بیان کرتے ہیں کہ بسا ا وقات دورانِ سفر امام بخاری کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رات گذرتی تھی، میں دیکھتا ہوں کہ رات کو پندرہ بیس دفعہ اٹھتے ہیں، ہر دفعہ چراغ جلا کر حدیث پر نشان لگاتے ہیں، پھر نماز تہجد ادا کرتے ہیں اور مجھے کبھی نہیں اٹھاتے، میں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں آپ مجھے اٹھالیا کریں، امام صاحب نے فرمایا: تم جوان آدمی ہو میں تمھاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا۔ (سیر اعلام النبلاء)
آپ کے طعام کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانیؒ نے فرمایا کہ آپ کی خوراک بہت ہی کم تھی، بہت زیادہ مجاہدہ کھانے کے اعتبار سے برداشت کرتے تھے۔
امام بخاریؒ کا رمضان
رمضان کی پہلی رات میں اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے ان کی امامت فرماتے، ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت کرتے، نیز اسی ترتیب پر قرآن ختم فرماتے، ہر دن سحری تک قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ تلاوت فرماتے، اس طرح تین رات میں تلاوت کرتے ہوئے قرآن ختم فرماتے، نیز رمضان کے ہر دن میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم فرماتے، اور ہر مرتبہ ختم کرتے ہوئے دعا کا اہتمام کرتے۔ (فتح الباری) گویا رمضان کا مہینہ امام بخاری کے یہاں تلاوت کا مہینہ ہوا کرتا، صبح وشام رات بھر تلاوت کا خا ص شغف واہتمام ہوا کرتا۔
نیز ابتلا وآزمائش، تکالیف، مصیبتیں، امتحانات، انبیا کرام علیہم الصلاۃ کو زیادہ پیش آئے ہیں، پھر جو شخص ان کے زیادہ قریب ہوتا ہے اسے بھی ابتلا وآزمائش میں ڈالا جاتا ہے، امام بخاریؒ کو بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے امتحانات میں ڈالا، کئی مرتبہ آپؒ کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی پڑی، معاصر علماء کرام میں سے کئی ایک نے موقع بموقع آپ پر اعتراضات کیے اور آپ کے خلاف زبان درازی کا طویل سلسلہ جاری رکھا، امیروں اور حاکموں نے الگ طوفان کھڑا کیا، ان سب کے باوجود آپ نے اپنی زیان پر شکایت کے حروف نہیں لائے، اخیر میں سمرقند جانے کا ارادہ کیا تو روک دیا گیا، خرتنگ نامی چھوٹی سی جگہ میں امیر المؤمنین فی الحدیث ابدی نیند سوگئے؛ لیکن ان تکالیف ومصیبتوں کو جھیل کر کسی کی بھی غیبت میں اپنی زبان کو ملوث نہیں کیا، علوم دینیہ کے حصول میں مشغول رہنے والوں کے لیے ایک بہترین سبق ہے کہ وہ امام بخاری کے تحمل اور دوسرے اوصاف کو ا پنی زندگی کا جزولا ینفک بنالیں تب ہی جاکر کوئی بڑا علمی معرکہ سر کیا جاسکتا ہے اور ان صفات سے مزین ہو کر اپنی دنیوی واخروی زندگی کو سنوارے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ